ڈیرہ میں غیر قانونی واٹر کنکشن منقطع کرنیکی مہم شروع‘ گھروں پر سرخ دائرہ

    ڈیرہ میں غیر قانونی واٹر کنکشن منقطع کرنیکی مہم شروع‘ گھروں پر سرخ ...

  



ڈیرہ غازیخان (ڈسٹرکٹ بیورورپورٹ):ڈیرہ غازی خان شہر میں غیر قانونی واٹر کنکشن منقطع کرنے کی مہم کا باقاعدہ آغاز کردیا گیا۔33 کنکشن منقطع کردئیے گئے۔کمشنر ڈیرہ غازیخان ڈویژن نسیم صادق کو بلاک ایریا میں 1439 غیر قانونی واٹر کنکشن کی تفصیلات فراہم کردی گئی ہیں اور کمشنر نے بلا تفریق تمام غیر قانونی کنکشن منقطع کرنے کے احکامات جاری کردئیے(بقیہ نمبر45صفحہ7پر)

ہیں،گھروں پر مخصوص نشانات لگادئیے گئے کمشنر ڈیرہ غازی خان نسیم صادق نے کہا ہے کہ منقطع کئے گئے کنکشن بحال کرانے پر پانچ ہزار روپے سکیورٹی فیس وصول کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے تاہم اپنے پانی کے کنکشن فوری طور پر ریگولر کرانے والے شہری سکیورٹی فیس اور جرمانے سے بچ سکتے ہیں۔ درخواست پر کارپوریشن فوری کارروائی کرکے واٹر کنکشن کو ریگولر کردے گی۔کمشنر نے کہا کہ ابتک شہر کے بلاکوں میں 9633 گھروں کا سروے مکمل کرلیا گیا ہے دوسرے مرحلے میں نواحی کالونیوں میں گھر گھر سروے کرایا جائیگا جس کیلئے 48 افراد پر 12 ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔اسی طرح کنکشن منقطع کرنے کیلئے 18 افراد پر مشتمل تین ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں کراس نشان کا مطلب عمارت میں پانی کا غیر قانونی کنکشن ہے۔گول دائرہ کا مطلب پانی فیس اور بقایاجات ہیں،کراس اور دائرہ کا مطلب بقایاجات اور پانی کی موٹر ہے کمشنر نے کہا کہ شہریوں کو صاف پانی کی وافر مقدار میں فراہمی کیلئے کام کررہے ہیں۔بوسیدہ پائپ لائنز تبدیل کی جارہی ہیں پانی کی باقاعدگی سے کلورینیشن کرائی جارہی ہے۔کئی سالوں سے 32 میں سے 24 خراب ٹیوب ویل کو مرمت کرکے فنکشنل کرایا جارہا ہے۔کمشنر نسیم صادق نے کہا کہ گرمیوں میں پانی کی ضرورت اور استعمال بڑھ جاتا ہے جس کیلئے ابھی سے تیاری شروع کردی ہے۔خراب مشینری ٹھیک کرنے کے ساتھ بیک اپ کیلئے مشینری کابندوبست کررہے ہیں جس کیلئے فنڈز کی ضرورت ہے لہذا عوام اعتماد رکھیں اور کارپوریشن کے ہاتھ مضبوط کریں۔پانی فیس اور دیگر واجبات فوری اداکریں تاکہ واٹر سپلائی کی ٹربائن کے بجلی بلز اور دیگر اخراجات کی ادائیگی ممکن بنائی جاسکے۔واٹر کنکشن کیلئے کمشنر آفس میں خصوصی سیل قائم کردیا گیا ہے جس کیلئے ڈی بی اے شہزاد قدیر کو انچارج مقرر کیا گیا ہے۔شہری واٹر کنکشن کے حوالے سے ان سے رابطہ کرسکتے ہیں۔

دائرہ

مزید : ملتان صفحہ آخر