پی ایس ایل کا میلہ سج گیا،چوکوں چھکوں کی برسات،تماشائیوں کا جوش و خروش

پی ایس ایل کا میلہ سج گیا،چوکوں چھکوں کی برسات،تماشائیوں کا جوش و خروش

  



پاکستان سپر لیگ کے پانچویں ایڈیشن کا آغاز ہوچکا ہے۔پاکستانی شائقین کو دس سال بعد اپنے میدانوں میں دنیا کے اسٹار کھلاڑیوں کو ایکشن میں دیکھنے کاموقع مل رہا ہے۔پاکستان کے سب سے بڑے کرکٹ میلے پاکستان سپر لیگ کے سیزن 5کی ٹرافی کی رونمائی پر،چیئرمین پی سی بی، فرنچائزز مالکان اور کپتانوں نے شرکت کی۔اسکواش لیجنڈ جہانگیر خان نے ٹرافی دفاعی چیمپیئن کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے کپتان سرفراز احمد کو تھمائی۔پی ایس ایل ٹرافی برطانیہ کی کمپنی اوٹ ول سلور اسمٹس نے تیار کی، جس کے اوپر ایک چاند اور تکون ستارہ پاکستان کی نمائندگی کر رہا ہے،ٹرافی کی لمبائی 65سینٹی میٹر ہے اور اسکا وزن 8کلو ہے۔ چیئرمین پی سی بی احسان مانی نے کہا کہ جو وعدہ کیا وہ آج پورا ہورہا ہے اور پی ایس ایل مکمل پاکستان میں ہورہا ہے، افتتاحی تقریب کراچی میں ہورہی ہے اور یہاں کی حکومت اور عوام کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں، ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ یہ پورا ایونٹ پاکستان کا ہے اور اس کے لیے عوام نے ہمیں بہت سپورٹ کیا۔ پی ایس ایل میں 400سے زائد غیر ملکی کھلاڑیوں نے رجسٹریشن کروائی جبکہ 36پلیئرز اس میں کھیل رہے ہیں۔ پی ایس ایل پاکستان کا بڑا ایونٹ ہے اور ہم انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کو بتانا چاہتے ہیں کہ پاکستان آئی سی سی ایونٹ کی میزبانی کر سکتا ہے۔ہم نے 11 ماہ پہلے کہا تھا کہ پی ایس ایل پاکستان میں ہو گا اور ہم نے جو وعدہ کیا تھا وہ پورا کیا،یہ لیگ ہماری نہیں بلکہ پورے پاکستان کی ہے اور اگلے سال پشاور میں بھی پی ایس ایل کے میچز کرائے جائیں گے۔احسان مانی نے کہا کہ ہم نے ٹرافی کی رونمائی اسکواش لیجنڈ جہانگیر خان سے کرائی وہ پوری دنیا کے بہترین کھلاڑی ہیں۔ انہوں نے ہمارے لیے وقت نکالا ان کا شکریہ۔انہوں نے کہا کہ پہلی مرتبہ ایونٹ کے میچ راولپنڈی اور ملتان میں ہورہے ہیں اور مستقبل میں پشاور اور کوئٹہ میں بھی پی ایس ایل کے میچز ہوں گے۔جبکہ پاکستان سپر لیگ کے پانچویں ایڈیشن میں لاہور قلندرز کی نمائندگی کرنے والے آسٹریلوی بلے باز کرس لین نے بتایا کہ وہ دو برس پہلے انجری کی وجہ سے بد قسمتی سے قلندرز کی نمائندگی نہ کرسکے مگر اب موقع ملنے پر بے حد پرجوش ہوں۔ مجھے علم ہے کہ پاکستان میں بھی میرے فینز ہیں جو مجھے فالو کرتے ہیں، کوشش کروں گا کہ میں یہاں بھی رنز کروں۔یہاں پچز مختلف ہیں بال زیادہ بانس نہیں ہوتی جس طرح کہ بگ بیش لیگ میں ہوتی ہے، لیکن مجھے کنڈیشنز کا اندازہ ہے کیونکہ بر صغیر میں اور ویسٹ انڈیز میں ایک جیسی پچز ہوتی ہیں۔ آسٹریلوی اسٹار نے مزید کہا کہ میں پاکستان میں پہلی بار کھیل رہا ہوں، کوشش ہو گی جتنی جلد ایڈ جسٹ کر سکوں کروں۔ قلندرز کے ٹریننگ سیشنز دیکھے ہیں اب لڑکوں کے ساتھ بیٹھوں گا اور ٹریننگ سیشن کروں گا تو مجھے امید ہے کہ میں جلد کنڈیشنز کا عادی ہو جاں گا۔انہوں نے کہا کہ قلندرز پی ایس ایل فائیو میں جیت کے ساتھ سفر کا آغاز کریں گے، ٹیم اب تک پی ایس ایل میں اچھا پرفارم نہیں کر سکی، مگر میں سمجھتا ہوں کہ اس مرتبہ اسکواڈ اچھا اور متواز ن ہے اس لیے پہلا فوکس یہی ہے کہ پلے آف مرحلے کے لیے ضرور کوالیفائی کریں۔ ٹیم میں شامل کھلاڑیوں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ حارث رف، عثمان شنواری اور شاہین شاہ آفریدی جیسے باصلاحیت اور تیز بولر ہیں، حارث رف نے بی بی ایل میں بہت تیز بولنگ کی، میرے خیال میں انہیں بی بی ایل کا بہترین بولر ہونا چاہیے تھا، جب کہ ٹیم میں برینڈن میکلم اور اے بی ڈویلئیرز حصہ رہے ہیں کوشش ہو گی کہ ان کی طرح کھیلوں۔ جبکہ اسلام آباد یونائٹیڈ کے کپتان شاداب خان نے کہا ہے کہ کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ ایمرجنگ پلیئر کی حیثیت سے شروع کرنے کے بعد وہ تین سال میں ٹیم کے کپتان بن جاؤں گا، دو مرتبہ کی چیمپئن اسلام آباد یونائٹیڈ کی کپتانی کرنا اعزاز کی بات ہے، ان پر کپتانی کا کوئی پریشر نہیں ہوگا کیوں کہ ٹیم میں سب پروفیشنل پلیئرز ہیں اور سب کو اپنا رول معلوم ہے، ساتھ ساتھ مصباح الحق کی رہنمائی بھی موجود ہوگی۔اپنے سفر کو یاد کرتے ہوئے شاداب نے کہا کہ وہ ٹور کرکے زمبابوے سے واپسی کی پرواز پر تھے جب پی ایس ایل ڈرافٹ ہوا، جب وہ دبئی میں ٹرانسٹ کے لیے تھے تو انہیں میسج ملا کہ ان کو اسلام آباد یونائٹیڈ نے پک کرلیا ہے۔انہیں اندازہ تھا کہ پی ایس ایل ایک بڑا موقع ہے اور یہاں کی کارکردگی انہیں پاکستان ٹیم میں منتخب کرواسکتی ہے۔شاداب خان جو بطور آل رانڈر خود کو منوانے کے خواہشمند ہیں، کہتے ہیں کہ اگر پی ایس ایل نہیں ہوتا تو شائد اتنی جلدی ٹیم میں نہیں آتے، ان کی طرح شاہین آفریدی، موسی خان اور دیگر نوجوان بھی پی ایس ایل کی وجہ سے ہی منظر عام پر آئے ہیں۔پاکستان سپر لیگ کے پانچویں ایڈیشن پر بات کرتے ہوئے شاداب خان نے کہا کہ ہر ٹیم کی طرح ان کی بھی یہی کوشش ہوگی کہ گرا نڈ میں سو فیصد دیں۔ جبکہ پشاور زلمی کی ٹیم کے بیٹنگ مینٹور اور سابق مایہ ناز کرکٹر ہاشم آملا نے پاکستان سپر لیگ کے پانچویں ایڈیشن کے لیے زلمی کا حصہ بننے کو اعزاز قرار دیتے ہوئے ٹیم کی بہترین کارکردگی کا عزم ظاہر کیا ہے۔پشاور زلمی کی جانب سے بیٹنگ مینٹور ہاشم آملا سے گفتگو کی ایک ویڈیو اپ لوڈ کی گئی ہے جس میں انہوں نے پاکستان میں آ کر کھیلنے کے تجربے سمیت مختلف امور پر گفتگو کی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان آ کر بہت اچھا لگ رہا ہے اور پشاور زلمی کی ٹیم کا حصہ بننا اعزاز کی بات ہے، مجھ سے چند ہفتے قبل دستیابی کے بارے میں پوچھا گیا تھا اور میں یہاں آ کر بہت اچھا محسوس کر رہا ہوں۔آملا نے کہا کہ میں خوش قسمت ہوں کہ مجھے چند سال انٹرنیشنل کرکٹ کھیلنے کا تجربہ ہے اور اس تجربے کو نوجوانوں تک منتقل کرنا ہی سب سے اہم چیز ہے، میں بیٹنگ سمیت دنیا بھر میں کرکٹ کے بارے میں بات کر کے بہت لطف اندوز ہوتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ نوجوانوں کے ساتھ اچھا وقت گزرے گا۔انہوں نے کہا کہ 2سال قبل ورلڈ الیون کی ٹیم کے ہمراہ پاکستان آیا تھا اور ہم پاکستان کے ساتھ ٹی20سیریز کھیلی تھی، دو سال بعد واپس آیا ہوں تو یہاں چیزیں مزید بہتر ہو رہی ہیں۔انٹرنیشنل کرکٹ میں 18ہزار سے زائد رنز بنانے والے بلے باز نے پاکستان کو کھیلوں کے لیے محفوظ ملک قرار دیتے ہوئے دیگر ملکوں کے کھلاڑیوں کو بھی دورہ پاکستان کی دعوت دی۔انہوں نے کہا کہ ہمیں پاکستان میں کوئی مسئلہ نہیں اور یہ دیکھ کر خوشی ہو رہی ہے کہ کرکٹ کے کھیل میں پیشرفت ہو رہی ہے، انٹرنیشنل کھلاڑیوں کو یہاں کھیلتے ہوئے دیکھنا بہت خوش آئند ہے۔ویڈیو میں سابق جنوبی افریقی کپتان سے ان کے کیریئر کے حوالے سے چند دلچسپ سوالات بھی پوچھے گئے جس میں انہوں نے کور ڈرائیو کو اپنا پسندیدہ شاٹ قرار دیا۔آملا نے ایک سوال کے جواب میں اوول میں کی گئی ٹرپل سنچری اور پرتھ میں کی گئی سنچری دونوں کو پسندیدہ اننگز قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے پسندیدہ بلے باز برائن لارا اور اسٹیو وا ہیں۔سابق مایہ ناز بلے باز نے مرلی دھرن کو بہترین اسپنر قرار دیا اور کہا کہ انہوں نے اپنے کیریئر میں شان ٹیت سے تیز بالر کا سامنا نہیں کیا۔جبکہ پی ایس ایل ماضی کے چند دل چسپ ریکارڈز میں پاور پلے میں سب سے زیادہ رنز بنانے کا ریکارڈ مشترکہ طور پر 2 ٹیموں کے پاس ہے۔ کراچی کنگز کو اسلام آباد یونائیٹڈ جبکہ ملتان سلطانز کو لاہور قلندرز کے خلاف ابتدائی 6 اوورز میں 78 رنز بنانے کا اعزاز حاصل ہے۔ کراچی کنگز نے یہ اسکور ایک وکٹ جبکہ ملتان سلطانز نے 2 وکٹوں کے نقصان پر بنایا تھا۔ گذشتہ ایڈیشن سے قبل یہ اعزاز کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے نام تھا۔ گلیڈی ایٹرز نے لاہور قلندرز کے خلاف ایک میچ کے دوران ابتدائی 6 اوورز میں 77 رنز بنائے تھے۔جبکہ اسلام آباد یونائیٹڈ مسلسل 6 میچز جیت کر ایچ بی ایل پی ایس ایل میں بہترین وننگ اسٹریک کا اعزاز رکھتی ہے۔ انہوں نے یہ ریکارڈ 2016 سے 2017 تک قائم کیا۔ایڈیشن 2018 میں بھی اسلام آباد یونائیٹڈ نے مسلسل 5 میچز جیتے تھے۔ اس کے علاوہ لیگ میں شامل کوئی اور ٹیم مسلسل پانچ میچز جیتنے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔جبکہ لیگ میں تیزترین نصف سنچری کا ریکارڈ مشترکہ طور پر پشاور زلمی کے کامران اکمل اور اسلام آباد یونائیٹڈ کے آصف علی کے پاس ہے۔ دونوں کھلاڑی ایونٹ کے دوران 17 گیندوں پر نصف سنچریاں اسکور کرچکے ہیں۔ کامران اکمل نے یہ کارنامہ 2018 جبکہ آصف علی نے 2019 میں انجام دیا۔جبکہ لیگ میں سب سے زیادہ مرتبہ میڈن اوورز کروانے کا منفرد ریکارڈ شاہد آفریدی کے پاس ہے۔ وہ اب تک ایونٹ میں 5 مرتبہ میڈن اوورز کرواچکے ہیں۔ اس فہرست میں دوسرا نمبر محمد عامر کا ہے۔ جن کے میڈن اوورز کی تعداد 4 ہیں۔جبکہ لیگ کے گذشتہ 4 ایڈیشنز میں سب سے زیادہ مرتبہ مین آف دی میچ کا ایوارڈ 2 وکٹ کیپرز کے پاس ہے۔ پشاور زلمی کے کامران اکمل اور اسلام آباد یونائیٹڈ کے لیوک رونکی 6،6 مرتبہ ایچ بی ایل پی ایس ایل میں مین آف دی میچ کا ایوارڈ جیت چکے ہیں۔کامران اکمل نے یہ کارنامہ 47 جبکہ لیوک رونکی نے 23 میچوں میں انجام دیا ہے۔ اس فہرست میں دوسرے نمبر پر محمد سمیع اور شین واٹسن موجود ہیں۔ دونوں کھلاڑی 5،5 مرتبہ مین آف دی میچ کا ایوارڈ جیت چکے ہیں

مزید : ایڈیشن 1