چینی اور آٹا بحران سے کپتان کے چہیتے مستفید ہوئے:سینیٹر سراج الحق

چینی اور آٹا بحران سے کپتان کے چہیتے مستفید ہوئے:سینیٹر سراج الحق

  



چارسدہ (بیو رو رپورٹ) امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ چینی اور آٹا بحران سے کپتان کے پیار ے مستفید ہو ئے جبکہ سارا بوجھ عوام پر ڈالا گیا۔آئی ایم ایف کی مثال ایسٹ انڈیا کمپنی کی طرح ہے۔ انسان چاند اور مریخ پر پہنچ گیا جبکہ کپتان مرغیوں، انڈوں اور بھینسوں پر مونچھوں کو تاؤ دے رہے ہیں۔ قوم غریب سے غریب تر جبکہ کپتان کے پیارے امیر سے امیر تر بن رہے ہیں۔ وہ مرکز اسلامی چارسدہ میں جلسہ دستار بند ی سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر جماعت اسلامی کے ضلعی امیر محمد ریاض خان، مولانا الطاف کشمیر ی، مولانا نور الدین اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔ امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے افغان امن معاہدے کو خطے کے لئے خو ش آئند قرار دیا اور کہا کہ اب عالمی دنیا بالحصوص مسلم ممالک کی ذمہ داری بنتی ہے کہ افغانستان کے ترقی اور خوشحالی کیلئے عملی اقدامات کریں۔ انہوں نے کہا کہ عالم اسلام کا اتحاد وقت کی ضرورت ہے کیونکہ مسلم امہ کے خلاف عالمی سطح پر سازشوں کا جال بچھا یا گیا ہے اور سازشوں کو ناکام بنانے کیلئے مسلم امہ کومتفقہ لائحہ عمل طے کرنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے فیصلے حکمران نہیں بلکہ کوئی اور کر رہے ہیں۔ ملک پر عملاً آئی ایم ایف کی حکمرانی ہے جس کی مثال ایسٹ انڈیا کمپنی کی طرح ہے۔ اس وقت وطن عزیز پر جو حکمران اور نظام مسلط ہے اس کے ہوتے ہوئے قوم ترقی نہیں کر سکتی۔ دنیا نے چاند اور مریخ کو فتح کیا ہے جبکہ کپتان مرغیوں، انڈوں، کٹوں اور بھینسوں پر مونچھوں کو تاؤ دے رہے ہیں۔ کپتان کی حکومت میں بھی سابقہ حکومتوں کی پالیسیاں جاری ہے۔ پاکستان کے 22کروڑ عوام کو آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کی غلامی میں دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آٹا،چینی بحران سے کپتان کے ان پیاروں نے خزانے بھر لئے جنہوں نے کپتان پر انوسمنٹ کی تھی۔ عوام کا خون نچوڑنے کی بجائے چند بڑوں کا بے رحم احتساب کیا جائے تو سب کچھ ٹھیک ہو جائیگا۔ریاست مدینہ کے دعویداروں نے 1کروڑ نوکریاں دینے کی بجائے 22لاکھ نوجوانوں کو بے روزگار کر دیا۔ 18مہینوں میں شرح سود تاریخ کے بلند سطح پر پہنچ گئی۔ چار سال میں بی آڑ ٹی نہ بن سکی البتہ بیرونی آقاؤں کو خوش کرنے کیلئے مختصر مدت میں کر تار پور راہدری اور گرد وارے تعمیر کئے گئے۔پاکستان کی معاشی پالیسی کی حالت یہ ہے کہ ہماری کرنسی افغانستان اور بنگلہ دیش سے بھی کمزور ہو چکی ہے۔ انہوں نے آئی ایم ایف کے معاہدوں کو یکسر مسترد کر تے ہوئے کہا کہ کراچی سے لیکر چترال تک آئی ایم ایف کے معاہدوں اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف 29فروری سے احتجاج شروع کرینگے۔ ۔ انہو ں نے کہا کہ جماعت اسلامی وسائل کا منصفانہ تقسیم چاہتی ہے۔ آج حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے غریب غریب تر اورامیر امیر تر ہو رہا ہے۔ غربت اور مہنگائی کی وجہ سے عوام بھوکوں مر رہے ہیں۔ انہوں نے افغان امن مذاکرات کی کامیابی پر خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ امن معاہدہ حطے کی ترقی اور خوشحالی کیلئے سود مند ثابت ہو گا۔ انہوں نے مسلم ممالک سے اپیل کی کہ افغانستان کی ترقی اور خوشحالی میں اپنا کر دار ادا کریں۔ 

مزید : صفحہ اول