جامعہ کراچی کی اہمیت سے انکار کسی صورت ممکن نہیں،روب سلبر سٹین

  جامعہ کراچی کی اہمیت سے انکار کسی صورت ممکن نہیں،روب سلبر سٹین

  



کراچی(اسٹاف رپورٹر)کراچی میں تعینات امریکی قونصل جنرل روب سلبر سٹین نے کہا کہ جامعہ کراچی کی اہمیت و افادیت سے انکار کسی صورت ممکن نہیں۔52,000 سے زائد طلبہ جامعہ کراچی کے مختلف شعبوں میں زیر تعلیم ہیں جن میں فزکس، سیاسیات،سماجی علوم، سائنس اور مذہبی علوم شامل ہیں۔ جامعہ کراچی کا ملک کے دانشورانہ طبقے کی تشکیل میں ایک کلیدی کردار ہے۔پاکستان میں اقلیتوں کو بھی پورے حقوق حاصل ہیں اور پاکستان کی طرح امریکہ میں بھی مختلف مذاہب کے ماننے والے ہیں جو آپس میں مل جل کر رہتے ہیں اور اپنی مذہبی عبادات اور رسومات آزادانہ طور پر اداکرتے ہیں۔مذہبی آزادی کا فروغ امریکہ کی خارجہ پالیسی کا ایک اہم وصف رہا ہے کیونکہ اسی کے ذریعے امن اور ترقی کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔ہم دونوں ممالک مذہبی آزادی کی اہمیت سے واقف ہیں اور ہمارا تمام ممالک سے ہر برادری سے تعلق رکھنے والے افراد کے انسانی حقوق کے تحفظ کاسمجھوتا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے سیرت چیئر جامعہ کراچی کے زیر اہتمام انٹرنیشنل سینٹر فارکیمیکل اینڈ بائیولوجیکل سائنسز جامعہ کراچی کی سماعت گاہ میں منعقدہ دوروزہ بین الاقوامی سیرت کانفرنس 2020 ء بعنوان: ”تعلیمات رسالت: امن،بقائے باہمی اور مفاہمت“ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔امریکی قونصل جنرل نے مزید کہا کہ ایسے معاشروں کا قیام جن میں مذہبی آزادی کا بول بالا ہوتا ہے اس کے فوائد بہت زیادہ ہیں۔ایسا معاشرہ جس میں بین المذاہب ہم آہنگی ہو اور تمام مذاہب کا احترام ہو، وہاں تجارتی اور معاشی مواقع پیدا ہوتے ہیں اورترقی کی منازل طے کی جاتی ہیں۔میں جامعہ کراچی کی سیرت چیئر،کلیہ معارف اسلامی اور بالخصوص شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی کی کاوشوں کو سراہتا ہوں جہاں اسلامی علوم اور دیگر مذہبی علوم کے بارے میں مفیدآگاہی فراہم کی جارہی ہے۔پاکستان میں مذہبی رواداری کے فروغ میں آپ کا کردار کلیدی ہے جس کو میں خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔پاکستان سے ہزاروں کی تعداد میں طلباوطالبات امریکہ حصول علم کے لئے جاتے ہیں جس میں سے 800 طلباوطالبات ہرسال صرف فل برائٹ اسکالر شپ کے تحت امریکہ کا رخ کرتے ہیں۔جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ دنیا کے مختلف معاشروں کے لوگ مختلف رنگ،نسل،زبان،عقائد اور مختلف خیالات کے حامل ہوتے ہیں اور یہ ہی تنوع دنیا کی خوبصورتی کا راز ہے۔وقت کا ہمیشہ سے تقاضا رہاہے کہ دنیا میں بسنے والے تمام لوگ ایک دوسرے کے عقائد،خیالات،رہن سہن اورطرز فکر کو مثبت انداز میں دیکھیں اور امن وسلامتی کے اصولوں پر عمل پیرا رہتے ہوئے اس دنیا کو گہوارہ امن بنائے۔ڈاکٹر خالد عراقی نے مزید کہا کہ کسی بھی معاشرے میں پر سکون ماحول کے لئے افکار اور وسائل نہ آسمان سے گرتے ہیں اور نہ ہی زمین کی گہرائی سے برآمد ہوتے ہیں بلکہ فکری تبدیلی ہی سے معاملات درست ہوسکتے ہیں۔ہمیں اپنے معاشروں میں عدم برداشت اورتشدد کے رجحانات کو ختم کرنے کے لئے سب سے پہلے اپنی سوچ کو امن کے اصولوں کے مطابق ڈھالنا ہوگا۔جامعہ کراچی کو یہ منفرد اعزاز حاصل ہے کہ اس سیرت کانفرنس کے ذریعے دنیا کے بڑے مذاہب کے علماء کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرکے ایک تاریخ ساز مکالمے کا آغاز کیا ہے۔ مجھے قوی امید ہے کہ مذکورہ کانفرنس سے مکالمے کے کلچر کو فروغ حاصل ہوگا اور مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے مابین نہ صرف باہمی رواداری میں اضافہ ہوگا بلکہ بہت سی غلط فہمیوں کا تدارک بھی ممکن ہوگا۔رومانیہ کے اسکالر آیون ڈیورا نے کہا کہ عالمگیریت اکیسویں صدی کی سب سے بڑی سماجی حقیقت ہے جس نے مذاہب اور ثقافتوں کا ایک نیا نقطہ نگاہ اور بیانیہ پیش کیا ہے۔ رواداری کو مذاہب کے مابین ایک مفاہمتی آلے کے طورپر استعمال کرکے امن اور سماجی استحکام کو فروغ دیا جاسکتا ہے۔مذہبی سطح پر مفاہمت کو فروغ دے کر سماجی اور سیاسی مثبت نتائج حاصل کئے جاسکتے ہیں۔جرمن اسکالر پروفیسر جمال ملک نے کہا کہ جرمنی میں سیرت نگاری پر بہت کام ہواہے اور 2010 ء میں جرمنی کی تعلیمی مشاورتی کونسل نے جرمن جامعات میں اسلامی علوم میں ڈگری پروگرامز شروع کرنے کی بھی سفارش کی جس کے ذریعے امام اور اسلامی علوم کے اساتذہ کی تربیت کی جائے گی۔جرمنی کی بیشتر جامعات میں اسلامی علوم کے سینٹرز قائم کئے جاچکے ہیں جو بین المذاہب ہم آہنگی اور مکالمے کے کلچر کو فروغ دینے میں کلیدی کردار اداکررہے ہیں۔سابق رئیس کلیہ معارف اسلامیہ جامعہ کراچی وسیکریٹری سیرت کانفرنس پروفیسر ڈاکٹر عبدالرشید نے کہا کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ؑ کودنیا میں بھیجا تو اس کے ساتھ تمامبنی نوع انسان سے وعدہ کیا کہ جو بھی اللہ کے احکامات پر عمل کرے گا وہ خوش وخرم زندگی گزارے گا۔یہ پیغام اللہ کے پیغمبروں اور نیک بندوں کے ذریعے انسانوں تک پہنچایا گیا،آج اسلام اور عیسائیت دنیا کے دوسب سے بڑے الہامی مذاہب ہیں جن کے ماننے والوں کی تعداد اربوں میں ہے۔موجودہ صورتحال کے پیش نظر وقت کا تقاضا یہ ہے کہ اسلام اورابراہمی ادیان کے ماننے والے مکالمے کے ذریعے بنی نوع انسان کو درپیش مسائل کے حل کے لئے اپنا کردار اداکریں۔ اتحاد اور مکالمہ وقت کی اہم ضرورت ہے جو دنیا بھر میں امن کے قیام کا ضامن ہوگا۔

مزید : صفحہ آخر