” حملہ آور سے نفرت محسوس نہیں کرتا بلکہ افسوس ہو رہا ہے“ لندن کی مسجد کے موذن نے حملہ آور کو معاف کر دیا

” حملہ آور سے نفرت محسوس نہیں کرتا بلکہ افسوس ہو رہا ہے“ لندن کی مسجد کے موذن ...
” حملہ آور سے نفرت محسوس نہیں کرتا بلکہ افسوس ہو رہا ہے“ لندن کی مسجد کے موذن نے حملہ آور کو معاف کر دیا

  



لندن (ویب ڈیسک) برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں چاقو زنی کے واقعے میں زخمی ہونے والے مسجد کے موذن "رافت مقلد" کا کہنا ہے کہ انہوں نے حملہ آور کو معاف کر دیا ہے۔ ان کو جمعرات کے روز لندن کے شمالی علاقے ریجنٹس پارک میں واقع مرکزی جامع مسجد میں ایک شخص نے چاقو سے حملہ کر کے زخمی کر دیا تھا۔

العربیہ کے مطابق برطانوی نشریاتی ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں مقلد کا کہنا تھا کہ "وہ حملہ آور کے حوالے سے نفرت محسوس نہیں کرتے بلکہ انہیں صرف افسوس ہو رہا ہے"۔مقلد کے مطابق ان کے کندھے پر چاقو سے وار کیا گیا۔ "مجھے گردن کے نزدیک خون بہتا ہوا محسوس ہوا .. اس کے بعد مجھے ہسپتال منتقل کر دیا گیا .. یہ سب کچھ اچانک ہوا"۔

ایک عینی شاہد کے مطابق حملے کے وقت مسجد میں 100 کے قریب نمازی موجود تھے اور ان میں 20 افراد نے حملہ آور کو دبوچ لیا۔ اس نے بتایا کہ "میں نے ایک چیخ کی آواز سنی اور اس کے بعد خون نظر آیا"۔دوسری جانب لندن کی پولیس نے واقعے کے اگلے روز جمعے کو اعلان کیا کہ 29 سالہ حملہ آور ڈینیل ہوٹن کو دو الزامات کا سامنا ہے۔ پہلا الزام خطرناک جسمانی اذیت پہنچانے سے اور دوسرا الزام تیز دھار آلہ رکھنے سے متعلق ہے۔ ملزم کو ہفتے کے روز ویسٹ منسٹر کی عدالت میں پیش کیا جانا تھا۔ پولیس کے مطابق تحقیق کاروں کے نزدیک اس واقعے کا دہشت گردی سے تعلق نہیں ہے۔

برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے واقعے کی پر زور مذمت کرتے ہوئے اس پر گہرے رنج کا اظہار کیا۔ جانسن نے ٹویٹر پر کہا کہ "بالخصوص عبادت کے مقام پر ایسے واقعے کا پیش آنا خوف ناک بات ہے۔ مجھے حملے کا شکار ہونے والے اور دیگر تمام متاثرین سے ہمدردی ہے"۔

یاد رہے کہ حالیہ برسوں میں دارالحکومت لندن کی سڑکیں چاقو سے وار کی متعدد کارروائیوں کا تختہ مشق بن چکی ہیں۔ یہ کارروائیاں عموما شدت پسند عناصر کی جانب سے کی جاتی ہیں۔ یہ عناصر یا تو داعش کی صفوں میں لڑنے کے بعد واپس آنے والے افراد ہیں اور یا پھر برطانیہ کی جیلوں سے قبل از وقت رہائی پا چکے ہین۔ اس امر نے لندن میں سیاسی حلقوں کے درمیان گرم بحث چھیڑ دی ہے۔

رواں ہفتے کے آغاز پر برطانوی پارلیمنٹ کے ارکان نے ایک نئے قانون کے منصوبے پر بحث کی۔ یہ دہشت گردی کے انسداد کے حوالے ایک ہنگامی قانون ہے جو دو ماہ میں ملک میں مختلف نوعیت کے حملوں کے بعد سامنے آیا ہے۔مجوزہ قانون کے متن میں برطانیہ میں دہشت گردی کے حوالے سے مجرم ٹھہرائے گئے افراد کی قبل از وقت رہائی کو ختم کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

مزید : برطانیہ