افغان طالبان کے سابق امیر ملا اختر منصور کی پاکستان میں موجود جائیدادوں کی نیلامی کا حکم، اشتہار جاری

افغان طالبان کے سابق امیر ملا اختر منصور کی پاکستان میں موجود جائیدادوں کی ...
افغان طالبان کے سابق امیر ملا اختر منصور کی پاکستان میں موجود جائیدادوں کی نیلامی کا حکم، اشتہار جاری

  



کراچی (ویب ڈیسک) کراچی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے افغان طالبان کے سابق امیر ملا اختر منصور کے کراچی میں ریئل سٹیٹ کے کاروبار میں ملوث ہونے اور ان کے نام پر 2019 میں سیل کیے گئے کئی پلاٹ، فلیٹ اور رہائشی منصوبوں کو نیلام کرنے کا حکم دے دیا ۔

انڈیپنڈنٹ اردو کے مطابق وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کے کاؤنٹر ٹیررازم ونگ  نے بتایا کہ مُلا منصور کی بیمہ پالیسی سمیت 10 کروڑ روپے مالیت کی ملکیت دریافت ہوسکی ہے۔

کراچی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نمبر 2 کی جانب سے مقامی اخبارات میں جاری کردہ اشتہار میں کہا گیا کہ اگر کسی فرد کا ان املاک پر کوئی تنازع ہے تو وہ سات دن کے اندر ثبوتوں کے ساتھ عدالت میں پیش کریں ورنہ ان املاک کو نیلام کر دیا جائے گا۔گذشتہ سال ایف آئی اے نے ملا منصور کی ملکیت بشمول گلشنِ معمار کے ڈی اے سکیم نمبر 45 میں ایک پلاٹ، ایک گھر اور سنوبر ہائٹس گلشنِ معمار میں ایک فلیٹ، شہید ملت روڈ پر واقع عمار ٹاور اور سامیہ ٹاور میں ایک، ایک فلیٹ اور بسم اللہ ٹیرس، گلزار ہجری میں ایک فلیٹ کا کھوج لگا کر ملا منصور پر جعل سازی کا مقدمہ درج کرنے کے ساتھ سیل کر دیے تھے۔

رپورٹ کے مطابق ایف آئی اے کی ایف آئی آر نمبر 3/2019 کے مطابق ملا منصور نے محمد ولی اور گل محمد کے نام سے جعلی شناختی کارڈ بنوائے تھے اور ان کے جعلی کوائف پر مالی سرگرمیوں میں ملوث ہونا ثابت ہونے پر ملا منصور عرف محمد ولی عرف گل محمد اور ان کے اہم ساتھی عمار کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ اور پاکستان پینل کوڈ کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

اس کے علاوہ مُلا منصور پر یہ بھی الزام تھا کہ انھوں نے ولی محمد کے نام سے ایک جعلی پاسپورٹ بنوایا ہوا تھا جس پر وہ کئی بار بیرون ملک سفر بھی کر چکے تھے۔

واضح رہے کہ مئی 2016 میں بلوچستان کے علاقے دالبندین میں ایک ٹیکسی پر کیے گئے امریکی ڈرون حملے میں ایران سے پاکستان داخل ہوتے ہوئے ملا منصور ٹیکسی ڈرائیور سمیت ہلاک ہوگئے تھے۔

مزید : علاقائی /سندھ /کراچی