شارجہ میں مقیم مشکلات میں پھنسے پاکستانی خاندان کو معجزے کا انتظار

شارجہ میں مقیم مشکلات میں پھنسے پاکستانی خاندان کو معجزے کا انتظار
شارجہ میں مقیم مشکلات میں پھنسے پاکستانی خاندان کو معجزے کا انتظار

  



شارجہ(مانیٹرنگ ڈیسک) شارجہ میں مالی بدحالی کے باعث ایک پاکستانی خاندان دربدر ہو کر سڑکوں پر زندگی گزارنے پر مجبور ہو گیا، جنہیں مشکلات سے نجات کے لیے کسی معجزے کا انتظار ہے۔ گلف نیوز کے مطابق نادیہ ملک، اس کی 54سالہ ماں اور 22سالہ بہن المجاز کے علاقے میں 2500درہم کرائے کے گھر میں رہائش پذیر تھیں۔ نادیہ کا شوہر محمد عتیق 2ہزار درہم ماہانہ پر ایک انڈسٹریل پلانٹ میں ملازمت کرتا تھا اور 37سالہ نادیہ بھی ملازمت کرتی تھی۔

2018ءمیں نادیہ کی نوکری چلی گئی جس کے بعد ان کی مشکلات کا آغاز ہوا۔ وہ چھوٹے موٹے کام کرکے گھرخرچ چلانے کی کوشش کرتی رہی لیکن گزشتہ تین ماہ سے جب وہ کرایہ نہ دے سکے تو انہیں گھر سے نکال دیا گیا۔ اس کے بعد چند ہفتے انہوں نے دوستوں کے فلیٹس پر گزارے لیکن دوست بھی کب تک بوجھ اٹھاتے۔ چنانچہ انہوں نے بھی چلتا کیا اور اب یہ خاندان سڑکوں کا ہو کر رہ گیا ہے۔ نادیہ نے گلف نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ”میں اپنی ماں اور بہن کو اس حالت میں نہیں دیکھ سکتی۔“ آنکھوں سے بہتے آنسو پونچھتے ہوئے نادیہ نے بتایا کہ” اس کی ماں اور بہن دونوں بیمار ہیں اور اتنے بھاری بیگ اٹھا کر ہمارے ساتھ نہیں چل سکتیں۔ گھر کے کرائے کی مد میں ہم پر 5ہزار درہم کا قرض ہے اور میرے ویزے کی مدت کافی عرصہ پہلے ختم ہو چکی تھی جو ہم نے دو ماہ پہلے ہی چیک کی۔ اس پر اب مجھے 22ہزار درہم جرمانہ ادا کرنا ہے۔ “

عتیق کا کہنا تھا کہ ”میری تنخواہ تمام لوگوں کا خرچ چلانے کے لیے کافی نہیں ہے۔ میری بیوی کو اب نوکری کی آفرز تو آتی ہیں لیکن ویزے کی مدت ختم ہونے کی وجہ سے کوئی اسے نوکری نہیں دیتا۔ مجھے خوف لاحق ہے کہ ہمارے خلاف قانونی کارروائی ہو سکتی ہے کیونکہ میری بیوی کا ویزہ ختم ہو چکا ہے۔ “ نادیہ کا کہنا تھا کہ ”ہمیں صرف ایک چھت کی خواہش ہے، جہاں ہم عزت سے رہ سکیں اور اگر میرے جرمانے کی رقم ادا ہو جائے تو میں دوبارہ نوکری کرنے لگوں گی اور ہماری مشکلات ختم ہو جائیں گی۔ “واضح رہے کہ عتیق کا تعلق پاکستان کے شہر گوجرہ سے ہے۔

مزید : عرب دنیا