وزرائے کرام کے ارشادات

وزرائے کرام کے ارشادات

  

وزیر دفاع پرویز خٹک نے الزام لگایا ہے کہ پی کے 63(نوشہرہ) کے ضمنی انتخاب میں الیکشن کمیشن اور مسلم لیگ (ن) نے مل کر دھاندلی کی، ان کا کہنا تھا کہ یہ انتخاب پی ٹی آئی نے جیتا لیکن مسلم لیگ (ن) نے جعل سازی کی، الیکشن کمیشن میں جائیں گے اور ثابت کریں گے کہ بہت بڑا گھپلا ہوا ہے۔ افسوس ہے کہ الیکشن کمیشن نے مل ملا کر سارا کام کیا چھ ہزار ووٹوں کا کوئی ریکارڈ نہیں تمام فہرستیں چیک کیں تو علم ہوا کہ ووٹ چوری کئے گئے ہیں۔ نوشہرہ میں جو ہوا اس کا نتیجہ جلد سامنے آ جائے گا۔ ثابت کروں گا کہ ہمیں جان بوجھ کر ہرایا گیا۔ ہوا بازی کے وفاقی وزیر غلام سرور خان نے کہا ہے کہ ضمنی الیکشن میں ہم اپنی ہار تسلیم کرتے ہیں۔ اپوزیشن سینیٹ الیکشن میں لوگوں کا ایمان خرید رہی ہے۔ الیکشن کمیشن کو دھاندلی میں ملوث افراد کے خلاف سخت ایکشن لینا چاہیے۔ الیکشن کمیشن ہماری غلطیوں کی نشاندہی کرے، اصلاح کریں گے۔ وفاقی وزیر فواد چودھری نے کہا کہ ہمیں نوشہرہ میں شکست کا سامنا کرنا پڑا لیکن ہم نے تو دھاندلی کا گلہ نہیں پھاڑا یہی ایک جمہوری اور آمر کی گود میں پلنے والی جماعت میں فرق ہے۔

تین سینئر وفاقی وزیروں کے بیانات کو آپ بار بار پڑھ کر فیصلہ کریں کہ کیا آپ کو ان میں کوئی باہمی ربط نظر آتا ہے۔ ایک وزیر جن کا اپنا تعلق نوشہرہ سے ہے اور جن کے حقیقی بھائی ابھی کل تک خیبرپختونخوا کی حکومت میں صوبائی وزیر تھے، کہہ رہے ہیں کہ مسلم لیگ (ن) نے الیکشن کمیشن سے مل کر دھاندلی کی اور نوشہرہ کی نشست جیتی، وہ یہ بھی اعلان کر رہے ہیں کہ ان کے پاس دھاندلی کے ثبوت موجود ہیں اور وہ یہ ثابت کریں گے کہ دھاندلی ہوئی ہے۔ دوسرے وزیر کا فرمانِ عالی شان ہے کہ ہم شکست تسلیم کرتے ہیں وہ ظاہر ہے کہ نوشہرہ کے حلقے ہی کی بات کر رہے ہیں ورنہ ڈسکہ کی شکست تو پی ٹی آئی نے تسلیم ہی نہیں کی اور وہ الیکشن کمیشن سے مطالبہ کر رہی ہے کہ ان کا امیدوار آٹھ ہزار ووٹوں کی لیڈ سے جیت چکا ہے،اس لئے نتیجہ روکنے کی بجائے ہمارے امیدوار کی کامیابی کا اعلان کیا جائے۔ تحریک انصاف کا یہ بھی کہنا ہے کہ نتیجہ روکنے کا کوئی قانون ہی نہیں۔ 

تین وزیروں اور ایک مشیر نے اکٹھے جو پریس کانفرنس کی اس میں کسی ایسے سوال کا جواب نہیں دیا جس کا تعلق بیس پولنگ سٹیشنوں کے پریذائیڈنگ افسروں کی اچانک گمشدگی اور پھر صبح سویرے چھ بجے اکٹھے نمودار ہونے سے تھا۔ اپوزیشن یہ الزام بھی لگا رہی ہے کہ ڈسکہ کے حلقے میں پولنگ سٹیشنوں کی کل تعداد 260ہے جن میں سے بیس کے سوا باقی تمام سٹیشنوں کے نتیجے میں مسلم لیگی امیدوار کو کئی ہزار کی لیڈ حاصل ہے اور یہ نتیجہ ذرائع ابلاغ سے نشر اور اخبارات میں شائع ہو چکا ہے اور امیدواروں کے پاس فارم 45کا مصدقہ ریکارڈ بھی موجود ہے جن پولنگ سٹیشنوں کے نتیجے کا اعلان ہوا ہے وہاں ووٹ ڈالنے کی عمومی شرح تیس اور پینتیس فیصد کے درمیان ہے لیکن جو تھیلے گمشدہ یا اغوا شدہ عملہ لے کر نمودار ہوا ان میں تمام بیس پولنگ سٹیشنوں پر ووٹنگ کی شرح نوے فیصد کے لگ بھگ ہے۔ کوئی وزیر اس سوال کا جواب نہیں دے رہا اور جب کوئی رپورٹر ایسا سوال کرتا ہے تو اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھا جاتا ہے کہ پورے حلقے میں اگر پولنگ کی شرح 35فیصد سے زیادہ نہیں تو ان بیس حلقوں میں کون سی گیڈر سنگھی استعمال ہوئی جس کی وجہ سے پولنگ کی شرح یک لخت 80سے 90 فیصد کے ہندسوں کو چھونے لگی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان بیس پولنگ سٹیشنوں پر تقریباً سارے کے سارے ووٹ پی ٹی آئی کے امیدوار کو پڑے جن عقل مند لوگوں نے یہ نتیجہ مرتب کیا ان میں سے کسی کو خیال آیا کہ سو فیصد ووٹ پی ٹی آئی امیدوار کے حق میں پڑنے پر لوگ انگلیاں اٹھائیں گے تو ایک پولنگ اسٹیشن کے نتیجے کے فارم پر کاٹ کر چند ووٹ ”از راہِ مروت“ مسلم لیگ (ن) کی امیدوار کو بھی دے دیئے گئے۔نتیجے میں ٹمپرنگ کا خدشہ خود الیکشن کمیشن نے اپنے پریس ریلیز میں ظاہر کیا جب اس نے اکٹھے نمودار ہونے والے بیس پریذائیڈنگ افسروں کے ووٹوں والے تھیلے خستہ حالت میں دیکھے۔ اسی بنا پر نتیجہ روکا گیا اب واقعات کی جو رپورٹ الیکشن کمیشن کو موصول ہوئی ہے اور اس کے جو حصے اخبارات میں شائع ہوئے ہیں ان میں کہا گیا ہے کہ پریذائیڈنگ افسروں کو غائب کیا گیا اور وہ صبح چھ بجے واپس آئے۔ نتائج میں ٹمپرنگ کا انکشاف بھی ہوا ہے 20پولنگ سٹیشنوں کے نتائج تبدیل کئے گئے۔ الیکشن کمیشن کا اجلاس آج چیف الیکشن کمیشن کی صدارت میں ہو رہا ہے جس میں ان بیس حلقوں کے نتائج تبدیل کرنے کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔کوئی بھی وزیر الیکشن کمیشن کی اس پریس ریلیز یا تحقیقاتی رپورٹ کا جواب تو نہیں دے رہا لیکن باجماعت پریس کانفرنسوں میں نتیجے کے اعلان پر زور دیا جا رہا ہے۔

ڈسکہ کے بارے میں یہ حقیقت نظر انداز کی جا رہی ہے کہ اس حلقے میں افتخارالحسن زارے شاہ مرحوم مسلسل کامیاب ہوتے رہے، ان کے والد صاحبزادہ فیض الحسن مرحوم کی آلو مہار شریف کی گدی کا فیضان بھی ان کی کامیابیوں کا بڑا سبب ہے ایسے میں ان کی صاحبزادی کو ہرانا کوئی آسان کام نہیں۔جہاں تک نوشہرہ کے حلقے کا تعلق ہے، دو وزیر تو شکست تسلیم کر رہے ہیں لیکن ایک وزیر دھاندلی کا الزام لگانے اور ثبوت پیش کرنے کے لئے الیکشن کمیشن جانے کا اعلان کر رہے ہیں۔ کیا یہ بہتر نہ ہوتا کہ قابلِ احترام وفاقی وزراء اس معاملے میں ایک ہی موقف اختیار کرتے تاکہ ان کی تضاد بیانی سامنے نہ آتی۔ الگ الگ اور متضاد بیانات نے مضحکہ خیز صورتِ حال پیدا کر دی ہے۔ عوام کنفیوژ ہیں کہ وہ کس وزیر کی بات کو درست تسلیم کریں ان وزراء کی بات مانیں جو شکست تسلیم کر رہے ہیں یا اس وزیر کی جو نوشہرہ میں دھاندلی کا الزام لگاتے ہیں۔ نوشہرہ میں تحریک انصاف کی شکست دراصل ٹکٹ کی تقسیم کے تنازعے کا شاخسانہ ہے۔ لیاقت خٹک اپنے بیٹے کو ٹکٹ دلانا چاہتے تھے جبکہ پرویز خٹک بھتیجے کو ٹکٹ دینے کے خلاف تھے نتیجے کے طور پر لیاقت خٹک نے اپنی ہی پارٹی کو ہروانے میں کردار ادا کر دیا۔ اس وقت جب یہ سطور لکھی جا رہی ہیں وزیراعظم پشاور میں ہیں اور پارٹی کے اس اندرونی انتشار پر غور کر رہے ہیں۔ لیاقت خٹک کو صوبائی وزارت سے ہٹا دیا گیا اب ان سے کیا امید رکھی جا سکتی ہے کہ وہ سینیٹ کے الیکشن میں تحریک انصاف کے امیدواروں کو ووٹ دیں گے اور کیا وہ اکیلے ہیں ان کا کوئی گروپ نہیں؟ غالباً ایسے ہی گروپ ہیں جن کے بارے میں خدشہ ہے کہ وہ نوشہرہ کی طرح سینیٹ الیکشن میں بھی اپ سیٹ کر دیں گے۔ وزیروں، مشیروں اور معاونینِ خصوصی کے چہرے مُہرے غالباً ایسے ہی خوف کی کہانی سنا رہے ہیں۔

مزید :

رائے -اداریہ -