اسلامی ریاست کے رہنما اصول

اسلامی ریاست کے رہنما اصول
اسلامی ریاست کے رہنما اصول

  

اسلام دین فطرت ہے اور اسلام میں انسانی جان کی حرمت کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ایک اسلامی ریاست ہی حقیقت میں ایک فلاحی ریاست کہلاتی ہے۔ ایک اسلامی ریاست میں عدل و انصاف پر لوگوں کا مکمل  یقین  ہوتا ہے اور وہاں یہ خدشات نہیں ہوتے کہ قاضی شہر یا جج کسی لالچ یا سکینڈل کا شکار ہوں گے، حکمران عوام پر  بے جا  محصولات (ٹیکس)  لگائیں گے، تاجر ذخیرہ اندوزی کریں گے،اور محافظ اپنے شہریوں کی جان و مال کے دشمن ہوں گے، وہاں تعلیم میں تقسیم ہو گی اور بنیادی حقوق کی پامالی ہو گی۔ایسی ریاست میں اللہ تعالی کی حاکمیت کا تصور واضح ہو گا۔ دستور میں تمام طبقات کا خیال رکھا جائے گا۔اختیارات کی منصفانہ تقسیم ہو گی۔ ریاست اعلی اخلاقی اقدار پر استوار ہو گی۔امت مسلمہ کا تصور  اور اسلام کا پرچم سربلند ہو گا۔وہاں قانون کی حکمرانی ہوگی۔وہاں کوئی بارسوخ شخص کسی کو سر عام سڑک پر گاڑی سے کچل کر سزا سے نہیں بچ سکے گا۔مقامی رسوم و رواج کا احترام ہو گا۔معاشی کفالت اور ترقی کے سنہری اصول کار فرما ہوں گے۔سود کی لعنت سے نجات ہو گی۔ وہاں بیٹیوں کو جہیز کی لعنت کی وجہ سے گھر میں بیٹھنا نہیں پڑے گا۔ملک کے دفاع پر کوئی سمجھوتا نہیں ہو گا۔ریاست بنیادی انسانی حقوق اور آزادی اظہار کی ضمانت دے گی۔

وہاں خواتین کے متعین حقوق کی پامالی نہیں ہو گی۔مخالفین کی سازشوں کا تدارک ہو گا۔اسلامی ریاست کے یہ رہنما اصول قرارداد مقاصد کا حصہ بھی بنے  جو ہمارے آئین کا حصہ ہے۔یہ قرارداد جو پاکستان کے ایک اسلامی اور نظریاتی ریاست ہونے کا دوٹوک اعلان ہے اور جس نے ملک کی وفاقی حیثیت، جمہوری طرز حکومت، اقلیتوں کے جائز حقوق، پسماندہ طبقات کے حقوق، عدلیہ کی آزادی، بنیادی حقوق، صوبائی خودمختاری اور مساوات و حریت جیسے اہم بنیادی مسائل پر دوٹوک فیصلے دے کر ان پر بحث و تمحیص کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند کر دیا ہے۔ایسی ریاست میں  باشندگان ملک کو وہ تمام حقوق حاصل ہوں گے جو شریعت اسلامیہ نے ان کو عطا کیے ہیں، یعنی حدود قانون کے اندر تحفظ جان ومال وآبرو، آزادی مذہب ومسلک، آزادیئ عبادت، آزادیئ ذات، آزادیئ اظہار رائے، آزادیئ نقل وحرکت، آزادیئ اجتماع، آزادیئ اکتساب رزق، ترقی کے مواقع میں یکسانی اور رفاہی اداروں سے استفادہ کا حق۔

ہجرت  مدینہ کے بعد حضور اکرم ؐ نے ریاست کے اندرونی استحکام پر تو جہ دی۔مدینہ میں بسنے والے  تمام قبائل  کے اندرونی تضادات  اور کشیدگی ختم کر کے ان میں یکجہتی اور ہم آہنگی پیدا کی۔آپ ؐ نے سیاسی حکمت عملی کے تحت  فنون حرب پر خصوصی توجہ دی۔جنگ بدر میں پہلی بار اسلامی  لشکر کی صف بندی کر کے فوجی قوت کو منظم کیا۔اس طرح مسلمانوں کا بہت کم نقصان ہوا۔ابن اسحاق کا بیان ہے کہ غزوہ خیبر کے دوران قبیلہ بنو اسلم کی شاخ بنوسہم کے لوگ رسول اللہؐ  کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: ہم لوگ تھکاوٹ سے چْور ہوچکے ہیں... اور ہمارے پاس کچھ نہیں ہے۔ آپؐ نے فرمایا: یا اللہ! تجھے ان کا حال معلوم ہے، تو جانتا ہے کہ ان کے اندر قوت نہیں اور میرے پاس بھی کچھ نہیں کہ میں انہیں دوں۔ لہٰذا انہیں یہود کے ایسے قلعے کی فتح سے سرفراز فرماجو سب سے زیادہ کار آمد ہو۔ اور جہاں سب سے زیادہ خوراک اور چربی دستیاب ہو۔ اس کے بعد لوگوں نے حملہ کیا۔ اور اللہ عزوجل نے قلعہ صعب بن معاذ کی فتح عطافرمائی۔ خیبر میں کوئی ایسا قلعہ نہ تھا جہاں اس قلعے سے زیادہ خوراک اور چربی رہی ہو۔اور جب دعا فرمانے کے بعد نبی اکرمؐ  نے مسلمانوں کو اس قلعے پر حملے کی دعوت دی تو حملہ کرنے میں بنواسلم ہی پیش پیش تھے۔ یہاں بھی قلعے کے سامنے مبارزت اور شدید لڑائی ہوئی۔

پھر اسی روز سورج ڈوبنے سے پہلے پہلے قلعہ فتح ہوگیا۔ اور مسلمانوں نے اس میں بعض منجنیق اور دبابے بھی پائے۔دبابہ لکڑی کا ایک محفوظ اور بند گاڑی نما ڈبہ بنایا جاتا تھا جس میں نیچے سے کئی آدمی گھس کر قلعے کی فصیل تک جاپہنچتے تھے اور دشمن کی زد سے محفوظ رہتے ہوئے فصیل میں شگاف کرتے تھے۔ یہی دبابہ کہلاتا تھا۔ دبابہ ٹینک کی پرانی شکل ہے۔آپؐ نے اپنی سیاسی پالیسی میں معاشی دباؤ کا حربہ بھی استعمال کیا۔آپ ؐ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالی جب کسی قوم کی بھلائی چاہتا ہے تو ان کا حکمران دانش مند لوگوں کو بنا دیتا ہے اور ان کا مال سخی لوگوں کے ہاتھوں میں دے دیتا ہے اور جب کسی قوم کو آزمائش میں مبتلا کرنا چاہتا ہے تو ان پر نادانوں کو حکمران بنا دیتا ہے اور ان کے مال بخیل لوگوں کے ہاتھوں میں دے دیتا ہے۔جو شخص میری امت کے معاملات کا نگران بنا اور اس نے ان کی ضروریات کو پورا کرنے میں نرم خوئی کا مظاہرہ کیا تو اس کی ضرورت کی گھڑی  آنے پر اللہ تعالی اس کے ساتھ لطف و کرم سے پیش آئے گا اور اگر وہ ان کی ضروریات سے لا تعلق رہا تو اللہ بھی اس کی ضرورت و محتاجی کی طرف مطلق توجہ نہ دے گا"۔امام غزالی کے مطابق سیاست اللہ تعالی کی مخلوق کی دنیا و آخرت میں نجات دلانے کے لئے اصلاح کر کے سیدھے راستے پر رہنمائی کرتی ہے۔

اقربا پروری، رشوت، کرپشن، اور نا انصافی کسی بھی ریاست کے لئے زہر قاتل ثابت ہوتے ہیں۔ اکیسیویں صدی سائنس اور ٹیکنالوجی کا دور ہے۔کمپیوٹر اور انٹرنیٹ نے زندگی کے ہر میدان میں حیران کن معرکے سر انجام دئے ہیں، لیکن ایک فلاحی ریاست کے بنیادی اصول وہی ہیں۔ ممتاز کالم نگار قیوم نظامی وسیع مطالعہ رکھتے ہیں اور عملی سیاست میں بھی حصہ لے چکے ہیں۔ چند سال قبل ان سے ملاقات ہوئی  اور ان کی کئی ایک کتب سے استفادہ کیا۔محترم قیوم نظامی صاحب نے اپنی کتاب معاملات رسول ؐ میں مستند حوالوں کے ساتھ حضور اکرم ؐ کی عملی زندگی سے رہنما اصول پیش کئے ہیں۔ایک اسلامی معاشرے کی ترویج کے لئے اس کتاب سے بہت رہنمائی لی جا سکتی ہے۔

مزید :

رائے -کالم -