فلمی نہیں، حقیقی مناظر

فلمی نہیں، حقیقی مناظر
فلمی نہیں، حقیقی مناظر

  

موٹر سائیکل سواروں کا ایک جتھا شہر کی سڑکوں پر رواں دواں تھا۔ لوگ ان کے شر سے بچنے،بلکہ اپنی جان بچانے کے لئے سڑک کے اطراف میں ہو لئے تھے۔ زیادہ تر لوگوں کا رویہ یہ تھا کہ جونہی ان خودسروں کا ٹولا قریب آتا وہ سڑک کے دائیں بائیں پڑی ہوئی چیزوں کی آڑ لے لیتے تھے۔موٹرسائیکلوں پر نمبر پلیٹیں بھی موجود نہیں تھیں۔وہ دیوانہ وار یوں فائرنگ کرتے جا رہے تھے گویا انہیں کسی چیز کا خوف ہی نہ ہو یا پھر ان کی پشت پر کسی بڑے کا ہاتھ ہو۔خوف و ہراس کا عجیب عالم تھا کہ کوئی بھی انہیں روک نہیں رہا تھا یا شاید روکنے کی جرأت نہیں کر رہا تھا۔پہلی نظر دیکھنے سے ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے کسی پاورفل ڈائریکٹر کی فلم شوٹنگ چل رہی ہو،لیکن یہ کسی فلم کا سین نہیں تھا۔ یہ پہلا منظر تھا۔

دوسرا منظر شہر کے مقامی ہسپتال کا تھا۔جہاں فائرنگ سے زخمی ہونے والے افراد کو لایا جا رہا تھا۔ یہاں بھی عجیب عالم تھا۔پتا نہیں اس دن شہر میں کس کی بادشاہی تھی کہ ہر طرف قانون ہی بدلا بدلا لگ رہا تھا۔پہلے تو ایسے ہوتا تھا کہ اگر کسی ہسپتال میں کوئی زخمی لایا جاتا تو ڈاکٹر اسے داخل کرنے سے انکار کر دیتے تھے کہ یہ پولیس کیس ہے۔زخمی بے شک کتنا ہی سیریس کیوں نہ ہوتا بلکہ مرتا مر جاتا، لیکن جب تک پولیس کو رپورٹ نہ کر دیا جاتا اس وقت تک ڈاکٹر مریض کے پاس بھی نہیں پھٹکتے تھے،لیکن اس دن ایسا کچھ نہ تھا،جو بھی زخمی لایا جاتا اسے فی الفور داخل کر کے علاج شروع کر دیا جاتا تھا۔کسی نے بھی پہلے پولیس کے پاس جا کر مقدمہ درج کرانے پر اصرار نہیں کیا تھا۔یا تو قانون واقعی بدل گیا تھا یا پھرشاید جن کے خلاف رپورٹ بنتی تھی وہ قاعدے قانون سے مبرّا تھے۔تیسرا منظر اس سے بھی زیادہ خطرناک تھا۔

اس منظر میں کسی نامعلوم جگہ عوام جیسی قیمتی مخلوق اپنا حق استعمال کر رہی تھی۔پاس ہی کچھ لوگ ”دھڑادھڑ“ فائرنگ کر رہے تھے۔دھڑا دھڑ اس لئے کہا ہے کہ تحقیق کے مجھے معلوم ہوا ہے اس ملک میں ہر کام دھڑادھڑ ہی ہوتا تھا۔نامعلوم اس لئے کہا ہے، کیونکہ اگر وہ جگہ کسی کے علم میں ہوتی تو قانون نافذ کرنے والے ادارے وہاں آ کر کارروائی کرتے،لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یا توفائرنگ کرنے والے شوقین حضرات تھے جو اپنا شوق پورا کر رہے تھے یا پھر انہوں نے ”کسی“ سے وہاں فائرنگ کا پرمٹ لیا ہوا تھا۔عوام کو قیمتی اس لئے کہا ہے کہ اس مخلوق کے بغیر کوئی ملک دنیا میں آج تک دریافت نہیں ہوا، جس ملک کا یہ منظر تھا وہاں بھی عوام ہی سب سے قیمتی جنس شمار کی جاتی تھی، جس کا ثبوت یہ ہے کہ انہیں کبھی فروخت نہیں کیا گیا تھا، بلکہ یہ مخلوق اتنی قیمتی تھی کہ صرف ان کی رائے تک کروڑوں میں بکتی تھی،بلکہ جس کے حق میں وہ رائے دیتے تھے وہ خود کروڑ پتی بن جاتا تھا۔

عوام جونہی رائے دے دیتے اسے چرانے کے لئے ملک کے بڑے اکٹھے ہو جاتے تھے۔ سنا ہے سونا کائنات میں سب سے قیمتی جنس ہے، لیکن اس ملک کے بڑے کبھی سونا چرانے کے لئے اس طرح اکٹھے نہیں ہوئے تھے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس ملک میں عوام کی رائے سونے سے بھی قیمتی تھی۔

یہ چوتھا منظر تھا، جس میں کچھ عوام دشمن لوگوں نے دروازے بند کر دیئے تھے تا کہ عوام اپنا حق ِ رائے دہی استعمال نہ کر سکیں۔کیا پتا انہیں بادشاہت عزیز ہو اور وہ ملوکیت کے لئے کوشش کر رہے ہوں،لیکن بالآخر تنگ آ کر عوام نے دروازے توڑ دیئے۔

پانچویں منظر میں کچھ لوگ عوام کی رائے والے تھیلے کہیں لے جانے کی کوشش کر رہے تھے۔ سنا ہے کم و بیش بیس(20) کے قریب عوام کی رائے کے امین غائب تھے۔ان کے سیل فون بھی آف تھے۔کیا پتا چارجنگ ختم ہو گئی ہو، لیکن سب کی بیک وقت کیسے؟پھر سنا ہے صبح کے قریب وہ لوگ اندھا ”دھند“واپس آئے تھے۔فرہنگ طاقتیہ کے مطابق جب کوئی دھند میں واپس آئے تو اسے ”اندھا دھند“ واپس آنا کہتے تھے۔ان کے ہاتھوں میں موجود عوام کی رائے والے تھیلوں کا برا حال تھا۔نہ جانے وہ کس سے اور کتنی مشکل سے یہ قیمتی رائے بچا کر لائے تھے۔یہ سارے امین صبح اکٹھے وارد ہوئے تھے، جس سے ان کی ”ملی یکجہتی“کا اندازہ لگایا جا سکتا تھا۔

میں نے جب یہ کہانی عظیم فلسفی چانکیا کو سنائی تو وہ بولا:میں بھی یہ فلم دیکھوں گا۔میں نے کہا: یہ فلم کے نہیں بلکہ ایک بائے الیکشن میں ہونے والے ایک دن کے حقیقی مناظر ہیں۔یہ سن کر اس نے کہا: پھر تو یہ ضرور کراچی میں ہوا ہو گا اور فائرنگ کرنے والوں، دروازے بند کرنے والوں اور موٹرسائکل سوار جتھوں کا تعلق ایک لسانی گروہ سے ہوگا۔میں نے جواب دیا:نہیں! اگرچہ ان کے سرپرست اعلیٰ نے ایک بیان دیا تھا کہ ”میں نے زندگی میں ایم کیو ایم سے زیادہ نفیس لوگ نہیں دیکھے“تاہم ان جتھوں کا تعلق اس جماعت سے نہیں تھا۔یہ سن کر چانکیے نے سر اٹھایا اور کہا:تمہیں یاد ہے ناں بشیرے کی ہوٹل پر چائے پیتے ہوئے میں نے کیا کہا تھا؟اس کا اتنا کہنا تھا کہ میرے ذہن کی سکرین پر ایک منظر تازہ ہوا۔ چانکیا ان دنوں تبدیلی کا بہت بڑا شیدائی تھا۔گھربار چھوڑ کر دھرنے میں بھی چلا گیا تھا،لیکن دھرنے کے انہی دنوں خواتین رپورٹرز کے ساتھ اس نے ساتھیوں کا رویہ دیکھ کر کہا تھا:یہ جماعت مستقبل میں ایم کیو ایم سے بھی زیادہ خطرناک ثابت ہو گی۔ اللہ نہ کرے ان کو اقتدار ملے۔اگر ایسا حادثہ ہو گیا تو لوگ کراچی اور ایم کیو ایم کو بھول جائیں گے۔میں چانکیا جی کے چرن چھونے جھکا ہی تھا کہ میری آنکھ کھل گئی۔

مزید :

رائے -کالم -