آصف زرداری کی پیش گوئی، حکومتی اعصاب کا امتحان

آصف زرداری کی پیش گوئی، حکومتی اعصاب کا امتحان
آصف زرداری کی پیش گوئی، حکومتی اعصاب کا امتحان

  

فرمایا ہے سیاست کے سکالر اعظم آصف علی زرداری نے سید یوسف رضا گیلانی کی جیت عمران خان حکومت کا اختتام ثابت ہو گی چونکہ آصف علی زرداری کا پیش گوئیوں کے حوالے سے ریکارڈ کچھ زیادہ خراب نہیں اس لئے ان کی اس بات کو محض مذاق نہیں سمجھنا چاہئے۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ ضمنی انتخابات میں حکومت کے ساتھ جو کچھ ہوا ہے، سینٹ انتخابات میں اس سے بھی برا ہونے جا رہا ہے۔ ویسے تو آصف علی زرداری نے سید یوسف رضا گیلانی کو اسلام آباد کی نشست سے سینٹ کا انتخاب لڑا کر پہلے ہی ہلچل مچا دی تھی لیکن اب ان کے بیانات قیامت ڈھا رہے ہیں، خاص طور پر حکومتی حلقے خاصے مضطرب دکھائی دیتے ہیں، اب ان کی امیدیں صرف سپریم کورٹ سے وابستہ ہیں، جو اوپن بیلٹ کے صدارتی آرڈیننس کو جائز قرار دیدے تاکہ ووٹوں کے اِدھر اُدھر ہونے  کا امکان کم سے کم ہو جائے۔ اس میں شک نہیں حکومتی کیمپ میں عجیب طرح کی ہلچل مچی ہوئی ہے، ایسی انہونیاں ہو رہی ہیں جن کا دفاع کرتے ہوئے حکومتی وزیر و مشیر نیز ترجمان حقائق سے نظریں چراتے دکھائی دیتے ہیں

خاص طور پر ڈسکہ کے ضمنی انتخاب نے بہت سے راز فاش کر دیئے ہیں حکومتی زعماء سب کچھ بتاتے ہیں سوائے پریزائیڈنگ افسروں کی گمشدگی سے پردہ اٹھانے کے اس موضوع پر پوچھے گئے سوال پر وہ کنی کترا کے نکل جاتے ہیں پی ٹی آئی کے امیدوار کی جیت کے اعلان کا الیکشن کمشن سے مطالبہ کرتے ہیں، مگر یہ نہیں بتاتے کہ جن بیس پولنگ اسٹینوں پر گنتی ہی پولنگ ایجنٹوں کے سامنے نہیں ہوئی، ان کا رزلٹ کیسے الیکشن کمشن بلا تحقیق مان لے؟ پھر اس سوال کا جواب تو کوئی بقراط ہی دے سکتا ہے کہ ساڑھے تین سو کے قریب پولنگ اسٹیشنوں پر ووٹنگ کی شرح 30 فیصد رہی بیس پولنگ اسٹیشنوں پر 90 فیصد کیسے ہو گئی۔ لگتا ہے کہ سکرپٹ لکھنے والے انتہا درجے کے اناڑی تھے۔ بعض بنیادی باتوں کا دھیان رکھنا ہی بھول گئے۔ مثلاً پریذائیڈنگ افسروں کے موبائل فون بھی بند کرا دیئے، اب کون مانے کہ دھند کی وجہ سے موبائل سروس بھی بند ہو جاتی ہے۔ اپنے قبضے میں رکھنے کے باوجود ”اغوا کاروں“ کو خدشہ تھا کہ موبائل فون پر بات کرنے کی اجازت دی تو یہ پریزائیڈنگ افسران سچ بول کر بھانڈہ پھوڑ دیں گے۔

اب ایسی گھبرائی ہوئی حکومت کو جب آصف علی زرداری کی پیش گوئیاں سننے کو مل رہی ہیں تو پریشانی کا پارہ تو بڑھے گا۔ اس وقت پوری حکومت اس نقطے پر جمع ہے کہ عبدالحفیظ شیخ کو جتوانا ہے، شہر شہر، صوبہ صوبہ دورے ہو رہے ہیں ارکانِ قومی اسمبلی کی منتیں کی جا رہی ہیں، حالانکہ پہلے انہیں ملاقات کے قابل بھی نہیں سمجھا جاتا تھا۔ عبدالحفیظ شیخ کو بھی ان ارکانِ اسمبلی کے سامنے سوالی بن کر پیش ہونا پڑ رہا ہے۔ انہیں یقین دہانیاں کرائی جا رہی ہیں کہ آئندہ انہیں ترقیاتی فنڈز بھی دیئے جائیں گے اور ان کے کام بھی ہوں گے واہ رہے آصف علی زرداری، کیا گیم کھیلی ہے اور کیا ترپ کا پتہ استعمال کیا ہے۔ ویسے بھی تحریک انصاف کی نظم و ضبط کے معاملے میں حالت بہت پتلی ہے صرف یہی نہیں کہ سینٹ کے پچھلے انتخابات کروڑوں روپے لے کر ووٹ بیچے تھے بلکہ حالیہ ضمنی انتخابات میں نوشہرہ کی صوبائی نشست پر جو کچھ ہوا اس نے یہ بات آشکار کر دی کہ تحریک انصاف میں دراڑ ڈالنے کے لئے کچھ زیادہ تگ و دو کی ضرورت نہیں پڑتی۔

کیا غضب بغاوت کی عجب کہانی ہے کہ پرویز خٹک کے بھائی لیاقت خٹک نے جو صوبائی وزیر تھے مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کو جتوانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اب ایسی صورتِ حال میں کیا بعید ہے کہ قومی اسمبلی کے سات ووٹ حکومتی نمائندے کی بجائے سید یوسف رضا گیلانی کو پڑ جائیں اور حکومت کا دھڑن تختہ ہو جائے۔ ہم تو یہی سنتے تھے تحریک انصاف کو ووٹ عمران خان کے نام پر پڑتا ہے مگر نوشہرہ کے الیکشن نے یہ خوش فہمی بھی دور کر دی۔ ثابت ہو گیا کہ تحریک انصاف کا ووٹ موقع محل کے مطابق اِدھر اُدھر ہو جاتا ہے اب خطرہ یہی ہے کہ سینٹ انتخابات میں کہیں تحریک انصاف کے ارکانِ اسمبلی اِدھر اُدھر نہ ہو جائیں۔ شاید یہی وہ خوف ہے جس کی وجہ سے عمران خان خفیہ بیلٹ کا رسک نہیں لینا چاہتے۔

پی ڈی ایم عمران خان کو گھر بیھجنے کے خواب دیکھ رہی ہے، اس کے لئے پاپڑ بھی بیل رہی ہے اور اس کے لئے جلسوں، دھرنوں اور لانگ مارچ جیسے حربے بھی استعمال کرنا چاہتی ہے مگر ابھی تک وہ کوئی ایسا بڑا شو نہیں کر سکی، جس سے واقعی حکومت ہل جائے اور عمران خان مستعفی ہو کر گھر چلے جائیں حقیقت یہ ہے کہ حکومت اپوزیشن کی احتجاجی تحریک سے کبھی پریشان نہیں ہوئی بلکہ عمران خان اسے ہلہ شیری دیتے رہے ہیں اب مارچ میں اپوزیشن لانگ مارچ کا اعلان بھی کر چکی ہے لیکن حکومت اس حوالے سے قطعاً پریشان نظر نہیں آتی۔ البتہ جو کارڈ آصف علی زرداری نے کھیلا ہے اس نے حکومت کے چھکے چھڑا دیئے ہیں معاملہ کتنا سیریس ہے اس کا اندازہ حکومتی سرگرمیوں سے تو ہوتا ہے تاہم نوازشریف اور آصف علی زرداری بھی اس معاملے میں پوری قوت کے ساتھ کود پڑے ہیں نوازشریف نے مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں بشمول مریم نواز کو حکومتی ارکان اور اس کے اتحادیوں سے بھی رابطے کی ہدایت کر دی ہے، جبکہ پیپلزپارٹی اور پی ڈی ایم کی دوسری جماعتیں بھی خاص طور پر سید یوسف رضا گیلانی کے لئے سرگرم ہو چکی ہیں اس صورتِ حال میں کیا تحریک انصاف کی نچلی قیادت کا ارکانِ اسمبلی سے رابطہ کافی ثابت ہو گا یا خود وزیر اعظم عمران خان کو میدان میں آنا پڑے گا۔

یہ بات تو سامنے آ چکی ہے کہ عبدالحفیظ شیخ ارکان قومی اسمبلی سے ملاقاتوں کے لئے جہاں جہاں جا رہے ہیں، وہاں انہیں شکوے اور شکایات کے سوا کچھ سننے کو نہیں مل رہا ارکانِ اسمبلی نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے عوام جس طرح مہنگائی میں پس رہے ہیں، وہ ان کا اپنے حلقوں میں سامنا نہیں کر سکتے اب ایسی صورتِ حال میں آصف علی زرداری جیسے منجھے ہوئے سیاستدان کے لئے کیا مشکل ہے کہ وہ کچھ ارکانِ اسمبلی کو سید یوسف رضا گیلانی کے حق میں رام کر لیں مقابلہ بہت سخت ہے سید یوسف رضا گیلانی میدان میں نہ ہوتے تو اسلام آباد کی نشست کا کسی نے ذکر بھی نہیں کرنا تھا مگر قربان جائیں آصف علی زرداری کے وہ سیاسی بساط پر ایسی چال چلتے ہیں کہ ہلچل سی مچ جاتی ہے دیکھتے ہیں تین مارچ کو اس بحر کی طغیانی میں کون تیرتا ہے اور کون اس کے ریلے میں بہہ جاتا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -