ہمارے داخلی اور خارجی مقابلے

ہمارے داخلی اور خارجی مقابلے
ہمارے داخلی اور خارجی مقابلے

  

جولائی 1945ء میں پہلا ایٹمی تجربہ کیا گیا جس کو آج پون صدی گزر چکی ہے۔ اس طویل وقفے میں ایسا کبھی نہیں ہوا کہ دو ایسے ممالک جن کے پاس جوہری وارہیڈز بھی ہوں اور ان کو حریف پر پھینکنے کے بری، بحری اور فضائی پلیٹ فارم بھی ہوں اور جو ایک دوسرے کے خون کے پیاسے بھی ہوں ان میں داخلی سیاسی مناقشات کا دور دورہ ہو اور جو ایک دوسرے پر چڑھ دوڑنے کے لئے پر تول رہے ہوں۔

انڈیا میں بی جے پی کی حکومت نے الیکشنوں میں کانگریس کو بری طرح شکست دی اور پھر ”یک پارٹی رُول“ کی طرف پیش رفت کرنے کے لئے تمام سرحدیں پار کرلیں۔ مقبوضہ جموں اور کشمیر کی آئینی حیثیت تبدیل کرنا، پھر ہندوستان کے مسلمانوں کے مذہبی اعتقادات اور شہری حقوق پر ڈاکہ ڈالنا، گائے کو مقدس اور اس کے موتر کو نوشیدنی قرار دینے کے بہانے گائے کے گوشت کو حلال سمجھنے والی مسلم اکثریت پر ظلم و ستم روا رکھنا اور پھر سکھ اقلیت کے ”دوالے“ ہو جانا۔ پنجاب اور ہریانہ کے کسانوں کو زرعی اصلاحات کا نشانہ بنانا،سکھوں کا تین ماہ سے ملک گیر مہم چلانا اور سکھوں کا انڈیا کی ٹرین سروس بند کرنے کا اہتمام کرنا کوئی ایسی پیش رفتیں (Developments) نہیں ہیں جن کو ہندوستان سے باہر کی دنیا نہ دیکھ رہی ہو۔

دوسری طرف پاکستان کو دیکھئے…… اس میں بھی ایک سیاسی بھونچال آیا ہوا ہے۔ اس کے مناظر اور مباحثے دن رات ہم پاکستانیوں کے چشم و گوش کا سامانِ خورد و نوش بن رہے ہیں۔ سینیٹ کے انتخابات کوئی پہلی بار نہیں ہو رہے لیکن برسرِ اقتدار حکومت بضد ہے کہ ان میں ہونے والی خرید و فروخت کے دروازے 3مارچ کو ہونے والے الیکشن میں ہمیشہ کے لئے بند کر دینے ہیں۔ الیکٹرانک میڈیا کے درجنوں نیوز چینل ایک طویل عرصہ سے جانے والی حکومتوں اور موجودہ حکومت کے درمیان زور آزمائی دکھانے اور منوانے کی کمائی پر چل رہے ہیں۔ اگر اس بات کی انکوائری کروائی جائے کہ ان نجی ٹی وی چینلوں میں کمرشلز چلانے کے اوقات کی تعداد اور دورانیہ کیا ہے اور دوسرے معمول کے پروگرام آن ائر کرنے کی ساعتیں کس تعداد میں ہیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ اشتہار بازی اور کمرشلز نمائی دوسرے تمام پروگراموں پر بازی لے گئی ہے۔ مزید یہ کہ کرکٹ کا بخار بھی اب آہستہ آہستہ عود کر آیا ہے۔ جیسے جیسے الیکٹرانک میڈیا کا ریونیو کم ہو رہا ہے وہ اپنے عملے میں یا تو تحفیف کرنے پر مجبور ہیں یا تجربہ کار افرادی قوت کو تبدیل کر رہے ہیں۔

کمرشلز کے نرخ جو قبل ازیں ہوش ربا حد تک زیادہ تھے، اب کافی حد تک نیچے گر چکے ہیں۔ اشتہارات کی بعض آئٹم ایسی بھی ہیں جن کو ناقابلِ یقین تواتر سے آن ائر کیا جا رہا ہے۔ کئی دوستوں کا خیال ہے کہ یا تو ٹی وی چینلوں نے نرخ بہت کم کر دیئے ہیں یا سیاسی پارٹیاں ان اشتہارات کی Payments پارٹی فنڈ سے کر رہی ہیں۔ اور اس کی قیمت PDM کی انتظامیہ سے وصول کر رہی ہیں …… واللہ اعلم ……جتنے منہ اتنی باتیں …… لیکن بعض باتوں پر گمان سے زیادہ یقین کرنے کی طرف زیادہ دھیان جاتا ہے۔ ضمنی انتخابات پہلے بھی ہوتے رہے ہیں لیکن گزشتہ دنوں جن قومی اور صوبائی حلقوں پر یہ انتخابات ہوئے ہیں ان کے نتائج کو تسلیم کرنے اور نہ کرنے کے ہنگامے ناقابلِ فہم حد تک بڑھتے جا رہے ہیں۔ مجھے ڈر ہے کہ اگر پولرائزیشن کا یہی عالم رہا تو کوئی نہ کوئی بڑا حادثہ وقوع پذیر ہو سکتا ہے۔ یہ حادثہ قومی سطح پر بھی ہو سکتا ہے اور انفرادی سطح پر بھی۔

انڈیا اور پاکستان دونوں جوہری ہمسایوں میں کیا یہ داخلی کشیدگیاں ترقی یافتہ ممالک کی ایماء پر جنم لے رہی ہیں، بعض سنجیدہ حلقے اس سوال پر سربہ گریبان ہیں۔ اگر دیکھا جائے تو یہ ترقی یافتہ ممالک، ہمیشہ ایسی مثالی علاقائی صورتِ حال سے مستفید و مستفیض ہوتے رہے ہیں۔ پاکستان اور انڈیا میں اگر یہ داخلی لڑائی جھگڑے، احتجاجات اور زد و خورد کا دائرہ پھیلتا ہے تو اس کے نتیجے میں جو تبدیلی بھی آئے گی وہ ترقی یافتہ اقوام کے لئے فائدہ مند ہوگی۔یہ اقوام ہرگز یہ نہیں چاہتیں کہ ہمارے ہاں یا ہمارے ہمسائے کے ہاں داخلی امن و امان کی صورت حال تسلی بخش یا مستحکم ہو۔ پاکستان کی مغربی سرحد پر آئے روز جو پاک فوج کی شہادتیں ہو رہی ہیں، ان پر کوئی آنکھ نمناک نہیں ہوتی، کوئی سیاستدان ان شہیدوں کے گھر جا کر ان کے لواحقین سے تعزیت تک کا تکلف نہیں کرتا۔ سیاستدان سمجھتے ہیں کہ فوج کے جوان اور آفیسرز اگر ملک کی حفاظت کرتے ہوئے جان ہار جاتے ہیں تو یہ ان کے پروفیشن کا تقاضا اور نتیجہ ہے اور اس پر زیادہ ’غور و فکر‘ کی ضرورت نہیں!…… 3مارچ کو سینیٹ کے الیکشنوں کے دوران ہنگامہ آرائی کا جو امکان ہے اس کے ٹریلر ہم ابھی سے دیکھ رہے ہیں۔ اگر یہ الیکشن بخیر و خوبی ختم ہو گئے تو 26مارچ کا لانگ مارچ عوام کے استقبال کو تیار ہوگا…… مارچ موسم بہار کا مہینہ ہوگا اور اس کی جو تصویر ایک بڑے شاعر نے کھینچی تھی وہ ایک اور طرح سے مجسم ہو کر سامنے آسکتی ہے۔ اس نے کہا تھا:

پھر موجِ ہوا پیچاں اے میر نظر آئی

شاید کہ بہار آئی  زنجیر نظر آئی

دونوں جوہری ہمسایوں کے ان دگرگوں داخلی حالات کے علاوہ اب یہ بھی دیکھئے کہ ان کے سیکیورٹی حالات کا گراف کدھر جا رہا ہے۔ فروری کا یہ مہینہ اس اعتبار سے یادگار رہے گا کہ اس ایک ماہ میں دونوں ممالک کی بّری اور بحری سرحدوں میں اور نیز ان کے آس پاس کیسے کیسے طوفانوں کے مقابلوں کی تیاریاں ہو رہی ہیں ……”امن۔2021ء“ کے نام سے جو مشق چلائی گئی تھی، اس کی تفصیل الیکٹرانک میڈیا پر بھی ناظرین نے دیکھی اور پرنٹ میڈیا پر بھی پڑھی۔ اس میں 45ممالک کی بحری افواج کے دستوں اور جنگی بحری جہازوں نے حصہ لیا…… ایک اور مشق اسی فروری کے مہینے میں راجستھان (انڈیا) کے علاقے میں چلائی گئی تھی جس کا دورانیہ 5دنوں کا تھا اور جس میں انڈین اور فرنچ ائر فورسز نے حصہ لیا تھا…… تیسری مشق انڈیا اور امریکہ کی انفنٹری فورسز کے درمیان چلائی گئی

جس میں دونوں افواج کی ایک انفنٹری بٹالین مائنس(-) نے حصہ لیا اور یہ راجستھان کے مہاجن فائرنگ رینج پر چلائی گئی۔ اس کا نام سرتاپا سنسکرت تھا۔ ’یدھ ابھیاس‘ کا انگریزی ترجمہWar Practicامریکیوں کو بتانا پڑا۔ لیکن دوسری طرف دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ پاکستان نے بھی اس کے جواب میں اپنے ریگستانوں میں ایک ایسی ہی مشق چلائی جس کا نام خالصتاً عربی تھا۔ بلکہ یہ ”جدار الحدید“ نامی مشق آج بھی پاکستان کے صحرائی علاقے میں چل رہی ہے اور 28فروری کو اختتام پذیر ہوگی۔ انڈین ”یدھ ابھیاس“ اور پاکستانی ”جدارالحدید“ میں بنیادی فرق یہ ہے کہ جہاں انڈیا نے اپنی مشق میں امریکی دستوں کو شامل کیا وہاں پاکستان نے صرف 5کور (کراچی) کے اپنے انفنٹری دستوں کو اس میں بھیجا اور صحرائی ٹریننگ سے ہمکنار کیا۔

قارئین کو ذہن نشین کراتا رہتا ہوں کہ جنگ اور ٹیرین کا آپس میں گہرا تعلق ہوتا ہے۔ ویسے تو جنگ کی تین بڑی بڑی اقسام ہیں جن کو بّری، بحری اور فضائی جنگ کا نام دیا جاتا ہے۔ لیکن بّری یا زمینی جنگ کی مزید کئی اقسام ہیں۔ مثلاً برفانی جنگ، کوہستانی جنگ، میدانی جنگ، جنگلاتی جنگ اور صحرائی جنگ…… ان تمام جنگوں کا مزاج مختلف ہے، ٹریننگ، اسلحہ جات اور سامانِ جنگ (Equipment) مختلف ہے اور انتظام و انصرام مختلف ہے۔ ان تمام طریقہ ہائے جنگ کے لاتعداد تجربے ماضی کی چھوٹی بڑی جنگوں میں ہو چکے ہیں …… اسی طرح فضائی جنگ کی اقسام میں بمباری اور فضا میں دوبدو ہونے کی جنگیں شامل ہیں …… بحری جنگوں کو بھی مختلف طرز ہائے جنگ میں تقسیم کیا گیا ہے۔ زمینی، فضائی اور بّری فورسز کے علاوہ ایک چوتھی قسم کی فوج کو ’میرین‘ کہا جاتا ہے۔یہ فوج اگرچہ سوار تو بحری جہازوں میں ہوتی ہے لیکن اس کا مشن دشمن کے ساحلوں پر اتر کر اس کی گراؤنڈ فورسز سے نبرد آزما  ہونا ہے۔ اسی لئے میرین کو ’بحری انفنٹری‘ کا نام بھی دیا جاتا ہے۔

سطور بالا میں پاکستان کی جس صحرائی ایکسرسائز ’جدارالحدید‘ کا ذکر کیا گیا وہ چھور اور نگرپارکر کے صحرائی علاقوں میں چلائی جا رہی ہے اس عربی اصطلاح کا اردو ترجمہ ”فولاد کی دیوار“ ہے۔ یعنی ”یدھ ابھیاس“ اگر جنگ کی پریکٹس ہے تو ”جدارالحدید“ گویا دیوارِ آہن ہے!

اور اسی ماہِ فروری میں پاکستانی سپیشل فورسز (SSG) اور ترکی کی سپیشل فورسز نے مل کر 21دنوں کی ایک اور مشق تربیلا میں چلائی ہے جس کا نام ”اتاترک۔11“ بتایا گیا ہے۔ اس کا مقصد شہروں اور قصبات میں تعمیر شدہ علاقوں (Built-up Areas) میں دہشت گردوں سے دو دو ہاتھ کرنا ہے۔ دوسری جنگ عظیم میں اٹلی اور جرمنی کے بعض شہروں میں اس طرز جنگ کا سامنا ہوا تھا۔ 1971ء کی پاک بھارت جنگ میں بھی مشرقی پاکستان میں مکتی باہنی کے ساتھ کی جانے والی جھڑپوں میں وہاں کے مختلف شہری علاقوں میں پاک فوج کو بھی اسی طرز جنگ سے عہدہ برآ ہونا پڑا تھا۔

آج انڈیا میں بھی اور پاکستان میں بھی داخلی کشمکش عروج پر ہے اور آنے والے ایام میں اس میں مزید اضافے کا امکان ہے اس کے علاوہ دونوں ممالک کی سہ گانہ افواج اپنے اپنے علاقوں میں دھڑا دھڑ جو ایکسرسائزیں کر رہی ہیں ان کا مقصد آئندہ جنگ کے لئے تیار رہنا اور کسی ناگہانی (Surprise)آویزش سے بچنا بھی ہے…… اہلِ وطن کو داخلی کشاکش کی بھول بھلیوں سے نکل کر خارج کی خبر لینی چاہیے۔ خارجی مقابلوں سے نمٹنے کے لئے کیا قوم داخلی مقابلوں کو ملتوی کر سکتی ہے؟

مزید :

رائے -کالم -