بنچ کی تشکیل چیف جسٹس کا اختیار، نظرثانی درخواستوں پر لارجر بنچ بنا سکتے ہیں، سپریم کورٹ 

بنچ کی تشکیل چیف جسٹس کا اختیار، نظرثانی درخواستوں پر لارجر بنچ بنا سکتے ...

  

 اسلام آ باد (آئی این پی) سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نظرثانی کیس میں بنچ کی تشکیل کا فیصلہ سنا تے ہوئے نظرثانی درخواستیں بنچ تشکیل کیلئے چیف جسٹس کو بھجوا دیں،سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ بنچ تشکیل دینے کا اختیار چیف جسٹس آف پاکستان کے پاس ہے، چیف جسٹس چاہیں تو نظرثانی درخواستوں پر لارجر بنچ بھی بنا سکتے ہیں، عام طور پر فیصلہ دینے والا بنچ ہی نظرثانی درخواستیں سنتا ہے، نظرثانی بنچ میں فیصلہ تحریر کرنے والا جج لازمی شامل ہوتا ہے۔ پیر کو سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائزعیسی نظرثانی کیس میں بنچ کی تشکیل کا فیصلہ سنا دیا عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ بینچ تشکیل دینے کا اختیار چیف جسٹس آف پاکستان کے پاس ہے، چیف جسٹس چاہیں تو نظرثانی درخواستوں پر لارجر بینچ بھی بنا سکتے ہیں۔ سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسی کیس میں محفوظ شدہ فیصلہ 5 ایک کی نسبت سے سنایا۔ چھ رکنی لارجر بینچ میں شامل جسٹس منظور احمد ملک نے فیصلے سے اختلاف کیا، جسٹس منظور احمد ملک فیصلے کے حوالے سے اختلافی نوٹ لکھیں گے۔ عدالت نے جسٹس فائز عیسی کی نظرثانی درخواستیں بینچ تشکیل کے لیے چیف جسٹس کو بھجوا دیں۔ جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف صدارتی ریفرنس میں نظر ثانی درخواستیں دائر کی گئی تھیں، جسٹس قاضی فائز عیسی اور اہلیہ سرینا عیسی سمیت مختلف بار کونسلز نے نظرثانی درخواستیں دائر کی تھیں۔ نظرثانی درخواستوں میں 6 رکنی لارجر بینچ کے بجائے فل کورٹ بنانے کی استدعا کی گئی تھی۔ جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 6 رکنی لارجر بینچ نے 10 دسمبر 2020 کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

سپریم کورٹ

مزید :

صفحہ آخر -