صوبائی حکومتیں بنیادی اشیاء کی قیمتیں بڑھنے سے روکنے کیلئے مربوط کوششیں کریں: حفیظ شیخ 

          صوبائی حکومتیں بنیادی اشیاء کی قیمتیں بڑھنے سے روکنے کیلئے مربوط ...

  

  اسلام آباد (این این آئی)وزیر خزانہ حفیظ شیخ نے متعلقہ صوبائی حکومتوں اور محکموں پر زور دیا ہے کہ بنیادی اشیاء کی قیمتوں کوبرقرار ہی نہیں ان میں کمی کیلئے مربوط کوششیں کریں، یہ ہدایات انہوں نے اپنی زیر صدارت قومی خزانہ ڈویژن میں منعقدہ قومی قیمت مانیٹرنگ کمیٹی (این پی ایم سی) کے ہفتہ وار اجلاس میں دیں، جس میں وفاقی وزیر قومی فوڈ سکیورٹی اینڈ ریسرچ سید فخر امام، وفاقی وزیر صنعت و پیداوار حماد اظہر، ایس اے پی ایم آن ریونیو ڈاکٹر وقار مسعود، ممبر سی سی پی، ممبر پی بی ایس، ایم ڈی پاسکو، ایم ڈی یو ایس سی اور فنانس ڈو یژ ن کے سینئر عہدیدارشریک تھے۔اس موقع پر وفاقی وزیر خزانہ نے بورڈ کے پار سستی قیمتوں پر ضروری اشیا کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے حکومت کے پختہ عہد کا اعادہ بھی کیا۔ این پی ا یم سی نے گذشتہ ہفتے کے دوران اشیائے ضروریہ خصوصاََ گندم، آٹا، چینی، سبزی،گھی، مرغی اور انڈوں کے قیمتوں کے رجحان کا جائزہ لیا اوربتایا گیاہفتہ وار ایس پی آئی میں 0.55 فیصد معمولی اضافہ جبکہ 8 بنیادی اشیا کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی اور 18 اجناس کی قیمتیں مستحکم رہیں۔ سیکرٹری وزارت صنعت و پیداوا ر نے این پی ایم سی کو یوٹیلیٹی سٹورز کا ر پو ر یشن کے ذریعہ ملک بھر میں رعایتی قیمتوں پر دستیاب 11 انتہائی ضروری اشیاء کے بارے میں آگاہ کیا۔ وزیر صنعت و پیداوار حماد اظہر نے کمیٹی کو بتایا وزارت سبزی،گھی، کھانا پکانے کے تیل کی موجودہ قیمتوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور صارفین کو مناسب قیمت پرفراہمی یقینی بنانے کیلئے اصلاحی اقدامات اٹھا رہی ہے، صوبے رواں سال کے دوران چینی کے ذخیرے کے ضمن میں تخمینے کی فراہمی کو تیز کریں، تاکہ رعایتی قیمت پر دستیابی کو یقینی بنایا جاسکے۔سیکرٹری وزارت این ایف ایس اینڈ آر نے این پی ایم سی کو ملک بھر میں گندم کے ذ خیر ے سے آگاہ کیااورکہا این پی ایم سی نے صوبوں کے مابین گندم کے آٹے کی قیمتوں میں فرق کو نوٹ کیا اور سکریٹری فوڈ کو ہدایت کی کہ وہ بورڈ کے اس پار مناسب قیمتوں پر گندم کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے صوبائی حکومتوں کیساتھ ہم آہنگی کریں۔پنجاب، سندھ حکومتوں کے نمائندوں نے موسمیاتی عوامل کی وجہ سے مرغی اور انڈوں کی قیمتوں میں اضافے کے بارے میں آگاہ کیا۔A

عبدالحفیظ شیخ

مزید :

صفحہ آخر -