انتخابی اتحاد کبھی خفیہ نہیں ہوتے، اچھی جمہوریت کیلئے سیاسی جماعتوں کا مضبوط ہو ناضروری: سپریم کورٹ 

    انتخابی اتحاد کبھی خفیہ نہیں ہوتے، اچھی جمہوریت کیلئے سیاسی جماعتوں کا ...

  

   اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)سپریم کورٹ میں سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے کرانے سے متعلق صدارتی ریفرنس میں جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے ہیں کہ انتخابی اتحاد کبھی خفیہ نہیں ہوتے، جہاں کسی انفردای شخص سے اتحاد ہو وہاں خفیہ رکھا جاتا ہے، جمہوریت کا تقاضا ہے پارٹی سسٹم مضبوط ہو، جب تک ہم عرصہ دراز سے جاری طریقہ کار میں تبدیلی نہیں لائیں گے جمہوریت کی مضبوطی خواب رہے گی۔ پیر کو چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ نے سینیٹ انتخابات سے متعلق صدارتی ریفرنس پر سماعت کی، جہاں حکومتی نمائندوں، معاملے میں شامل مختلف فریقین کے وکلا و دیگر شریک ہوئے۔ پیپلزپارٹی کے وکیل رضا ربانی نے کہا کہ جمعہ کو میں نے اپنے دلائل میں سینیٹ کی تشکیل پر دلائل دیے تھے، میں آرٹیکل 226 پر دلائل دوں گا۔انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 226 پر دوبارہ اسمبلی کے ایجنڈے پر آچکا ہے، ایوان میں آرٹیکل 226 میں ترمیم کا بل زیر التوا ہے،آرٹیکل 226 کے سینیٹ پر اطلاق نہ ہونے کا آرڈینس بھی آچکا ہے۔رضا ربانی نے کہا کہ 1962 کا آئین صدارتی نظام کے حوالے سے تھا، 1962 کے آئین میں بھی خفیہ ووٹنگ کی شق شامل تھی۔رضا ربانی نے کہا کہ یہ آرٹیکل 3 مختلف فورم پر زیر بحث لایا گیا، اسمبلی میں بل کے ذریعے اس میں ترمیم کا کہا گیا، جس پر چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا دوبارہ بل بھیجا؟ اس کے جواب میں رضا ربانی نے کہا کہ جی، دوبارہ بل بھیجا گیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی سپریم کورٹ میں بھارتی قوانین نظیریں دی گئیں، بھارت کے آئین و قانون پاکستانی آئین کے آرٹیکل 226 کی حدود کا تعین نہیں کرسکتے۔پیپلزپارٹی کے رہنما نے کہا کہ وزیراعظم اور وزرائے اعلیٰ کا دفتر لیڈر آف دی ہاؤس (قائد ایوان) سمجھا جاتا ہے۔رضا ربانی نے کہا کہ خفیہ انتخابات کی کہاں شرط ہے، خفیہ انتخابات ایک مختلف معاملہ ہے، انتخابات کے مختلف سیٹ ہوتے ہیں، ایک سیٹ وزیراعظم و وزرائے اعلیٰ کا انتخاب ہے، ایک سیٹ چیئرمین سینٹ و اسپیکرز کے انتخابات سے متعلق ہے، ان انتخابات کے لیے خفیہ کا طریقہ کار موجود ہے۔رضا ربانی نے کہا کہ سینیٹ انتخابات میں پارٹی پالیسی سے بالاتر بھی ووٹ ڈالا جاتا ہے، اس لیے آئین نے آرٹیکل 226 کے تحت تحفظ دیا ہے، چونکہ سینیٹ وفاق کا ہاؤس ہے، یہ وفاقی یونٹس کا تحفظ کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ سینیٹ سیاسی جماعتوں کی نہیں بلکہ وفاق کی نمائندگی کرتا ہے، سیاسی جماعتوں کے فورم مختلف ہیں، قومی اسمبلی و صوبائی اسمبلیاں براہ راست سیاسی جماعتوں کے فورم ہیں، سینیٹ کا تصور یکسر مختلف ہے۔عدالت میں اپنے دلائل دیتے ہوئے رضا ربانی نے کہا کہ قومی اسمبلی آبادی کی اکثریت کی نمائندہ ہوتی ہے، سینیٹ میں وفاقی یونٹس کی متناسب نمائندگی ہوتی ہے، سینیٹ وفاقی یونٹس کے حقوق کا محافظ ہے۔رضا ربانی نے کہا کہ سینیٹ انتخابات میں رکن اسمبلی کی نااہلی سے متعلق 63 (اے) کی کوئی بار نہیں، سینیٹ سے متعلق حفیظ پیرزادہ کی متناسب نمائندگی سے متعلق تقریر قومی اسمبلی سے متعلق ہے، سینیٹ سے متعلق متناسب نمائندگی کی نہیں بلکہ قومی اسمبلی میں سیاسی جماعتوں کی نمائندگی کی بات کی۔ان کی بات پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کی دلیل یہ ہے کہ متناسب نمائندگی صرف ووٹ گننے سے متعلق ہے، اگر سیاسی پارٹیاں تقسیم ہیں تو صوبائی اسمبلی کی سیٹوں کی سینیٹ میں کیسے نمائندگی ہوگی، اس پر رضا ربانی نے کہا کہ ہوسکتا ہے کہ کسی پارٹی کی آپ کو صحیح متناسب نمائندگی نظر آئے۔رضا ربانی نے کہا کہ صوبہ پنجاب میں پی ٹی آئی بڑی سیاسی جماعت ہے، مجھے صحیح تعداد کا اندازہ نہیں لیکن شاید 5 یا 6 نشستیں زیادہ ہوں، اس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ پی ٹی آئی نے پنجاب میں اتحاد بھی کیا ہے۔اسی دوران رضا ربانی نے کہا کہ اسپیکر اور چیئرمین سینٹ کے الیکشن خفیہ ووٹنگ سے ہوتے ہیں، اسپیکر اور چیئرمین سینٹ کے عہدے سیاسی وابستگی سے بالاتر ہوتے ہیں، سیاسی وابستگی سے بالاتر عہدے کیلئے ووٹنگ کا عمل خفیہ رکھا گیا، جس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ سیاسی اتحاد خفیہ نہیں ہوتے، جہاں کسی انفردای شخص سے اتحاد ہو وہاں خفیہ رکھا جاتا ہے، ساتھ ہی جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ پارٹی اے کی 6 نشستیں بنتی ہیں اور اسے 2 ملتی ہیں تو تب قانون کا اطلاق کہاں ہوتا ہے۔پھر متناسب نمائندگی کہاں گئی۔انہوں نے کہا کہ آئین بنانے والوں کی متناسب نمائندگی سے متعلق دانشمندی کہاں گئی۔عدالتی ریمارکس پر رضا ربانی نے کہا کہ یہ ریاضی کا سوال نہیں اور نہ یہ اے، بی یا پھر سی کی بات ہے، یہ سینیٹ ہے، یہ وفاق کا معاملہ ہے۔انہوں نے کہاکہ بعض اوقات سیاسی اتحاد خفیہ بھی ہوتے ہیں، میڈیا رپورٹس کے مطابق ایم کیوایم اور پی ٹی آئی کے درمیان معاہدہ ہوا ہے، پی ٹی آئی کراچی میں جلد مردم شماری کے لیے فنڈز دے گی، بدلے میں ایم کیو ایم سینیٹ کیلئے پی ٹی آئی کو ووٹ دے گی، کیا عدالت اس عمل کو کرپشن قرار دیگی جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ تمام حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے جائزہ لیں گے، سیاسی اتحاد خفیہ نہیں رکھے جائیں۔سماعت کے دوران رضا ربانی نے کہا کہ ہم جاگیردارانہ اور بدصورت سرمایہ دارانہ معاشرے میں رہ رہے ہیں، کسی بھی بات کو سیاق وسباق سے ہٹ کر نہیں دیکھا جاسکتا۔رضا ربانی نے کہا کہ ریاست تو اپنے 20 ریٹرننگ افسران کو تحفظ تک نہیں دے سکی، اس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ دنیا کی تاریخ اختلاف رائے کرنے والوں سے بھری پڑی ہے، اختلاف رائے کرنے والے نتائج کی پرواہ نہیں کرتے، ڈکٹیٹر کے خلاف بھی لوگوں نے کھل کر اختلاف رائے کیا، آئین میں اختلاف رائے پر کوئی نااہلی نہیں ہوتی ان کی بات پر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ایسا کوئی معاملہ عدالت کے سامنے نہیں ہے، بیلٹ پیپر پولنگ اسٹیشن پر ہی سیل کیے جاتے ہیں، جس پر رضا ربانی نے کہا کہ سیل کیے جانے کے باوجود ڈیپ اسٹیٹ کی ان تک رسائی ہوتی ہے یہ آپ مجھ سے زیادہ جانتے ہیں، اس بنا پر بھی ووٹ قابلِ شناخت نہیں ہونا چاہیے۔اس پر رضا ربانی نے کہا کہ آئین میں تو آرٹیکل 10 اے بھی ہے، شفاف ٹرائل ہوتا تو لاپتا افراد کا مسئلہ نہ ہوتا، عدالتوں کی کوشش کے باوجود لاپتا افراد کا مسئلہ جوں کا توں ہے، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کہنا چاہتے ہیں کہ آئین پرعمل نہیں ہوتا۔چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کیا یہ آئین شکنی 1973 میں ہی شروع نہیں ہو گئی تھی؟ جس پر رضا ربانی نے کہا کہ کسی مخصوص دور کی بات نہیں کرنا چاہتا۔انہوں نے کہا کہ کسی کو 10 نشستیں ملنا تھی تو نہ ملی تو ہارس ٹریڈنگ نہیں ہوگی، جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ کم از کم تحقیقات تو ہونی چاہیے کہ ہارس ٹریڈنگ ہوئی یا نہیں ہوئی، آج تک ہارس ٹریڈنگ پر کوئی سزا ملی، نہ نااہلی ہوئی، بادی النظر میں ہارس ٹریڈنگ کے شواہد پر ووٹ دیکھا جانا چاہیے۔رضا ربانی نے کہا کہ قابل شناخت بیلٹ پیپرز آرٹیکل 226 کی خلاف ورزی ہوں گے، الیکشن کمیشن پر کوئی الزام نہیں لگانا چاہتا، یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ڈیپ اسٹیٹ کی رسائی بیلٹ پیپر تک ہوتی ہے، قابل شناخت بیلٹ پیپرز ڈیپ اسٹیٹ کی پہنچ میں ہوگا۔ان کی بات پر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ کیا تھیلوں میں بند بیلٹ پیپرز تک رسائی ہوتی ہے، جس کے جواب میں رضا ربانی نے کہا کہ ڈیپ اسٹیٹ کی رسائی اب ملک سے باہر بھی ہوگئی ہے، ڈیپ اسٹیٹ اراکین سینیٹ اور اسمبلی کو بلیک میل کرے گی۔انہوں نے کہا کہ اب تو انسان موجود نہ بھی ہو تو اس کی جعلی ویڈیو بن جاتی ہے، جس پر جسٹس اعجاز نے ریمارکس دئیے کہ کسی کی بھی ویڈیو بنانا اتنا آسان کام نہیں ہے، جیت ہمیشہ انصاف کی ہوتی ہے، جس کے جواب میں رضا ربانی نے کہا کہ انصاف کے ملنے تک رکن اسمبلی خود کشی کرچکا ہوگا جس پر چیف جسٹس نے جواب دیا کہ الیکشن لڑنے والے کو مضبوط اعصاب کا مالک ہونا چاہیے۔ رضا ربانی نے بتایا کہ آئین کے تحت مجموعی طور پر بیس الیکشن ہوتے ہیں، سینیٹ اور قومی اسمبلی کے انتحابات بھی آئین کے تحت ہوتے ہیں، آئین سازوں نے صرف وزیراعظم اور وزرائے اعلیٰ کا الیکشن اوپن بیلٹ سے رکھا، جس پر جسٹس اعجاز نے پوچھا کہ مخصوص نشستوں پر الیکشن کیوں خفیہ نہیں ہوتا؟ جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ کیا نظم و ضبط کی خلاف ورزی کرنے والے نظام کو چلنے دیا جائے گا، جہموریت میں انفردای پسند ناپسند اکثریتی رائے پر حاوی نہیں ہوتیں، اچھی جہموریت کے لیے سیاسی جماعتوں کا مضبوط ہونا ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ آپ جمہوری آدمی اور جاگیردارنہ نظام کے مخالف ہیں، جس پر رضا ربانی نے کہا کہ سینیٹ انتحابات اوپن بیلٹ سے کرانے کی آئین میں کوئی گنجائش نہیں۔اس پر جسٹس عمر عطا ء بندیال نے ریمارکس دیے کہ آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ انفرادیت کو مضبوط کرنے والا نظام چلانا چاہیے، جس پر رضا ربانی نے کہا کہ ساری زندگی اسٹیٹس کو کی مخالفت کی، خفیہ رائے شماری کا حق بھی چھینا گیا تو اراکین اسمبلی ڈیپ اسٹیٹ کے ہاتھوں مشکل میں ہوں گے، اونچ نیچ کے بعد عدلیہ میں استحکام آگیا ہے لیکن سیاست میں نہیں آسکا۔رضا ربانی کی بات پر چیف جسٹس نے کہا کہ آئرلینڈ کی سپریم کورٹ نے کہا ووٹ کاسٹ ہونے کے بعد ریاست کی ملکیت ہے، آئرش عدالت کے مطابق ریاست کاسٹ شدہ ووٹ کی مالک ہوتی ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ آسٹریلیا میں خفیہ ووٹنگ کو مکمل تحفظ حاصل ہے، جرمنی و دیگر یورپی ممالک میں بھی ووٹ کے خفیہ پن کو بھی مکمل تحفظ حاصل ہے لیکن کچھ ممالک میں تحفظ نہیں۔

سپریم کورٹ

مزید :

صفحہ اول -