20پولنگ سٹیشنزری پرپولنگ، ہمارا امیدوار چیلنج قبول کرے: عمران خان 

  20پولنگ سٹیشنزری پرپولنگ، ہمارا امیدوار چیلنج قبول کرے: عمران خان 

  

   اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک،نیوز ایجنسیاں)چیف الیکشن کمشنر نے این اے 75 کے ڈی آر او اور ریٹرننگ افسر کو(آج) منگل کو اسلام آباد طلب کرلیا جہاں چیف الیکشن کمشنر این اے 75 کے ضمنی الیکشن کے نتائج سے متعلق سماعت کریں گے اور اس دوران  تحقیقاتی رپورٹ بھی زیر بحث آئے گی۔الیکشن کمشنر پنجاب کے مطابق ریٹرننگ افسرکی تحقیقاتی رپورٹ سیل شدہ لفافے میں چیف الیکشن کمشنر کوبھجوادی گئی ہے، فارم 45 پر ابتدائی اورریٹرننگ افسر کو موصول نتائج فرق سے متعلق علم نہیں۔ڈپٹی ریٹرننگ افسر نے رپورٹ تیار کرکے الیکشن کمشنر پنجاب کو بھیج دی جس میں بتایا گیا کہ الیکشن کمشنرپنجاب کو رات ڈھائی بجے نتائج نہ ملنے کی اطلاع دی گئی جس میں  360میں سے 20 پولنگ اسٹیشنز کے نتائج موصول نہیں ہوئے تھے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ صبح 6 بجے پولنگ اسٹیشنز کے پریزائیڈنگ افسران مع پولنگ ریکارڈ واپس پہنچے تھے۔رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیا گیا کہ جن 20 پولنگ اسٹیشنز کے نتائج موصول نہیں ہوئے ان کے نتائج میں ردو بدل کا خدشہ ہے۔وزیر آباد کے ضمنی الیکشن میں پکڑے گئے  پریزائیڈنگ افسر کے ویڈیو بیان سے نیا پنڈورا باکس کھل گیا۔ پریزائیڈنگ افسر کے وضاحتی بیان میں پس پردہ اسکرپٹ بتاتی آواز  نے معاملہ مزید مشکوک بنا دیا اور  ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ  پریزائیڈنگ افسر کو لقمے ملتے رہے کہ کیا کہنا ہے۔مبینہ طور پرووٹوں کا تھیلا لے کر فرار کے دوران پکڑے گئے پریزائیڈنگ افسر نے اپنا نام لیاقت علی بھٹہ بتایا ہے۔ویڈیو بیان میں لیاقت علی بھٹہ نیخود کو وزیرآباد کے ایک پولنگ اسٹیشن کا پریزائیڈنگ افسربتایا اور کہا کہ کچھ لوگ دن بھر ان پر مدد کیلیے دباؤ ڈالت ر ہے۔لیاقت علی بھٹہ نے  دھاندلی کا الزام رد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں مسلح افراد نے اغوا کرکے تھیلا چھین لیا تھا اور انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئیں، سڑکوں پر گھمایا گیا اور اب بھی  ان کی جان کو خطرہ ہے۔ لیاقت علی بھٹہ نے وزیر اعلیٰ پنجاب اور وزیر اعظم سے مدد کی اپیل کی۔ خیال رہے کہ 19 فروری کے ضمنی انتخاب کیدوران ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں پریزائیڈنگ افسرکو کچھ لوگوں نے ووٹوں کا تھیلالیکرفرار ہونیکیالزام میں پکڑلیا تھا، لوگ پوچھتے رہے کہ وہ ووٹوں سیبھرابیگ لیکرکہاں جارہے ہیں لیکن وہ خاموش رہے۔ این اے 75 سیالکوٹ کے ضمنی الیکشن کے نتائج میں تاخیر کی تحقیقاتی رپورٹ تیار کرلی گئی۔ ڈپٹی ریٹرننگ افسر نے رپورٹ تیار کرکے الیکشن کمشنر پنجاب کو بھیج دی جس میں بتایا گیا ہے کہ الیکشن کمشنرپنجاب کو رات ڈھائی بجے نتائج نہ ملنے کی اطلاع دی گئی جس میں  360میں سے 20 پولنگ اسٹیشنز کے نتائج موصول نہیں ہوئے تھے۔رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہیکہ جن 20 پولنگ اسٹیشنز کے نتائج موصول نہیں ہوئے ان کے نتائج میں ردو بدل کا خدشہ ہے۔الیکشن کمشنر پنجاب کا کہنا ہے کہ ریٹرننگ افسرکی تحقیقاتی رپورٹ سیل شدہ لفافے میں چیف الیکشن کمشنر کوبھجوادی گئی ہے جب کہ فارم 45 پر ابتدائی اورریٹرننگ افسر کو موصول نتائج فرق سے متعلق علم نہیں حلقہ این اے 75کے ضمنی الیکشن کے رزلٹ کا اعلان الیکشن کمیشن آف پاکستان آج کرے گا،کسی بھی امیدوار کی کامیابی،متنازعہ پولنگ اسٹیشنز پر ری پول یا مکمل ری پول کا اعلان کیا جانامتوقع ہے

 الیکشن کمیشن

پشاور،اسلام آباد  (سٹاف رپورٹر مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) وزیراعظم عمران خان نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 75 میں ری پولنگ کیلئے تحریک انصاف کے امیدوار کو اپوزیشن کا چیلنج قبول کرنے کی ہدایت کی ہے۔سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جاری اپنے پیغام میں وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ہم نے ہمیشہ شفاف اور آزادانہ الیکشن کی حمایت کی ہے۔ اگرچہ ہمیں این اے 75 ضمنی الیکشن میں قانونی طور پر کسی پابندی کا سامنا نہیں لیکن اس کے باوجود میں اپنے امیدوار سے درخواست کروں گا کہ وہ 20 پولنگ سٹیشنز میں ری پولنگ کی درخواست کرے۔وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ہم انتخابات کے عمل میں شفافیت چاہتے ہیں اور اسی لئے ہماری خواہش ہے کہ سینیٹ کا الیکشن اوپن بیلٹ کے ذریعے ہو۔ان کا کہنا تھا کہ ہم نے ہمیشہ صاف اور شفاف الیکشن کے انعقاد کا مطالبہ کیا لیکن بدقسمتی سے دوسروں نے اپنے وعدوں کی پاسداری نہیں کی۔ جب ہم نے 2013ء   میں صرف چار حلقے کھولنے کا مطالبہ کیا تو اسے تسلیم کرنے میں دو سال کا عرصہ لگا دیا گیا۔اس سے قبل پشاور میں وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ سینیت الیکشن مین پارٹی کے نامزد امیدواروں کو ہرصورت کامیاب کروائیں گے، خواہش ہے سینیٹ الیکشن اوپن بیلٹ سے ہو، سپریم کورٹ جو بھی فیصلہ کرے گی قبول کریں گے، سیاست میں پیسا استعمال کرنے والے نشان عبرت بن گئے، پی ٹی آئی اپنی آئندہ نسلوں کی بہتری کا سوچتی ہے۔  وزیراعظم عمران خان سے پیر کو انکے دورہ پشاور  میں  گورنرخیبرپختونخواہ اور وزیر اعلیٰ کے پی نے ملاقات کی، جس میں سیاسی معاشی اور انتظامی صورتحال پر بات چیت کی گئی۔وزیر اعظم عمران خان کی زیرصدارت سینیٹ الیکشن سے متعلق اجلاس  بھی ہوا، اجلاس میں نوشہرہ ضمنی الیکشن کا تذکرہ ہوا، پرویز خٹک نے الیکشن ہارنے کی وجوہات بتائیں۔الیکشن میں بے قاعدگی کو عدالت میں چیلنج کریں گے۔اجلاس میں وزیراعظم نے اراکین کابینہ اور پی ٹی آئی ممبران اسمبلی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیاست کا اصل محور عوام ہیں،بدقسمتی سے یہاں لوگوں نے سیاست کو صرف پیسا بنانے کیلئے استعمال کیا، ان لوگوں نے ہرجگہ پیسا استعمال کیا،ہم اس لیے پیچھے رہ گئے کیونکہ یہاں پیسا عوام کی خدمت کی بجائے پیسا چوری کیا گیا، انہوں نے کہا کہ قدرت نے پاکستان کو ہرنعمت سے نوازا ہے، جس معاشرے میں اخلاقیات ختم ہوجائیں وہ معاشرہ تباہ ہوجاتا ہے، ہم مستقبل اور اپنی نسلوں کی بہتری کا سوچتے ہیں۔۔اسی طرح تحریک انصاف اور مسلم لیگ ق نے بھی سینیٹ انتخابات جیتنے کیلئے مشترکہ حکمت عملی تیار کرلی ہے، ق لیگ اور پی ٹی آئی کی صوبائی قیادت ارکان اسمبلی سے رابطے کریں گے، پنجاب میں مشترکہ حکمت عملی کے تحت انتخابات میں اپوزیشن کو شکست دیں گے۔   پی ٹی آئی اراکین نے وزیر اعظم کے وڑن کی مکمل  حمایت کی وزیراعظم عمران خان  نے کہا   کہ سینیٹ انتخابات ہائی جیک کرنے والے جمہوریت پردھبہ ہیں،ہ اوپن ووٹنگ سینیٹ میں ہارس ٹریڈنگ روکنے کا واحد راستہ ہے۔ پیر کو  وزیراعظم عمران خان سے مشیرپارلیمانی امورڈاکٹربابراعوان کا رابطہ ہوا۔ ٹیلیفونک گفتگومیں اسمبلی کے جاری اجلاس، آئینی اور قانونی امورسمیت سینیٹ انتخابات پرمشاورت کی گئی۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اوپن ووٹنگ سینیٹ میں ہارس ٹریڈنگ روکنے کا واحد راستہ ہے، سینیٹ انتخابات ہائی جیک کرنے والے جمہوریت پردھبہ ہیں۔ وزیراعظم نے ٹیلیفونک گفتگومیں سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈرحلیم عادل شیخ کی گرفتاری پر بھی بات چیت کی۔ بابر اعوان نے پی ٹی آئی ورکرز کی جانب سے حلیم عادل کی گرفتاری پر تشویش سے آگاہ کیا۔

وزیر اعظم

مزید :

صفحہ اول -