سپریم کورٹ نے ٹرمپ کی مالیاتی ریکارڈ چھپانے کی درخواست مسترد کر دی 

      سپریم کورٹ نے ٹرمپ کی مالیاتی ریکارڈ چھپانے کی درخواست مسترد کر دی 

  

 واشنگٹن (اظہر زمان، بیوروچیف) امریکی سپریم کورٹ نے سوموار کی صبح سابق صدر ٹرمپ کی ٹیکس ادائیگیوں اور مالیاتی حساب کی دستاویزات کو چھپانے کی درخوسات مسترد کر د ی۔ اس طرح نیو یارک سٹی گورنمنٹ کے پراسیکیوٹر کی طرف سے مالیاتی امور میں مجرمانہ تفتیش میں ایک اہم رکاوٹ دور ہوگئی اور وہ تمام  مطلوب دستاویزات تک رسائی حاصل کر سکیں گے۔ ایک ماتحت وفاقی عدالت نے  7اکتوبر کو ایک حکم جاری کیا تھا کہ سابق ری پبلکن صدر کی پرانی اکائنٹنگ فرم ”مزارز یو ایس اے“ ان کا تمام مالیاتی ریکارڈ اس گرینڈ جیو ری کے سامنے پیش کرے جو مین ہٹن ڈسٹرکٹ اٹارنی سائرس وینس نے مقرر کی تھی۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے سپریم کورٹ میں اس کے خلاف اپیل کرتے ہوئے استدعا کی تھی کہ ما تحت عدالت کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے لیکن وفاقی سپریم کورٹ نے سوموار کی صبح اپنا فیصلہ سناتے ہوئے ماتحت عدالت کی اس رولنگ کو برقرار رکھا کہ سابق صدرٹرمپ کی اکاؤ نٹنگ فرم ان کا تمام ریکارڈ جیوری کے سامنے پیش کردے۔ اسی سپریم کورٹ نے گزشتہ جولائی میں ٹرمپ کی ایک عمومی دلیل کو مسترد کردیا تھا کہ صدارت کے عہدے پر فائز وہنے کی وجہ سے ان کیخلاف مجرمانہ تفتیش نہیں ہوسکتی۔ یاد رہے تمام دیگر حالیہ امریکی صدور کے برعس ٹرمپ نے اپنی چارسالہ صدارت کی مدت کے دوران اپنا ٹیکس ادائیگیوں کا ریکارڈ منظر عام پر لانے سے انکار کررکھا تھا۔ اس ڈیٹا میں ٹرمپ کی دولت اور ان کی فیملی کی رئیل سٹیٹ کمپنی ”ٹرمپ آرگنائزیشن“ کی سرگرمیوں کا ریکارڈ ہے۔

ٹرمپ ریکارڈ

مزید :

صفحہ اول -