وائٹ ہاؤس کا امریکی قیدیوں کی رہائی کیلئے ایران سے رابطہ

وائٹ ہاؤس کا امریکی قیدیوں کی رہائی کیلئے ایران سے رابطہ

  

واشنگٹن (بیورورپورٹ) وائٹ ہاؤس کے نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر جیک سلیون نے کہا ہے کہ امریکہ نظر بند امریکیوں کی رہائی کیلئے ایران سے بات چیت کر رہا ہے۔ انہوں نے اس نظربندی کو انتہائی زیادتی کا عمل بھی قرار دیا۔ ایران نے حالیہ برسوں میں متعدد امریکی شہریوں کو نظربند کریا ہے جن میں ایرانی نژاد باشندے بھی شامل ہیں۔ ان پر زیادہ تر جاسوسی کے الزامات ہیں۔ انسانی حقوق کیلئے سرگرم رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ان افراد کو ان غیرممالک سے رعائشیں حاصل کرنے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے جن سے ان کا تعلق ہوتا ہے۔ ایرانی حکومت ان الزامات کی تردید کرتی رہی ہے۔ امریکی سیکیورٹی ایڈوائزر سلیون نے ”سی بی ایس نیوز“ کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ان امریکی باشندوں کو واپس وطن میں لے کر آنا بائیڈن انتظامیہ کی اولینترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے ان باشندوں کی نظربندی کو انسانی سطح کی شدید مصیبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ”ہم اس مسئلے پر ایرانی حکوتم کے ساتھ بات چیت کرنے میں مصروف ہیں کیونکہ یہ ایک غیرمنصفانہ اور غیر قانونی نظر بندی ہے“ سیکیورٹی ایڈوائزر کے اس بیان پر ایران کی سرکاری نیوز ویب سائٹ پرردعمل شائع ہوا ہے جسے امریکی ٹی وی چیلنز نے نشر کیا ہے۔  اس میں بتایا گیا ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان براہ راست رابطہ نہیں ہوا البتہ یہ بات چیت سوئٹزرلینڈ کے سفارتخانے کے ذریعے ہو رہی ہے۔

امریکہ مذاکرات

مزید :

صفحہ اول -