پاکستان سب سے زیادہ سرمایہ کاری راغب کرنیوالے ممالک میں شامل، رپورٹ

  پاکستان سب سے زیادہ سرمایہ کاری راغب کرنیوالے ممالک میں شامل، رپورٹ

  

بیجنگ (آئی این پی)گرین بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو سینٹر نے کہا ہے کہ پاکستان نے 50 فیصدسے زائد بی آر آئی کی قابل تجدید توانائی کی سرمایہ کاری کو راغب کیا بی آر آئی اور سی پیک قومی سبز ترقی میں ا یک مضبوط کردار ادا کررہے ہیں گوادر پرو کے مطابق گرین بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو سینٹر (گرین بی آرآئی سنٹر) نے چائنہ  بی آر آئی انویسٹمنٹ رپورٹ 2020جاری کر دی۔

 جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے قابل تجدید توانائی میں  50 فیصد سے ز ائدسرمایہ کاری کو راغب کیا ہے  رپورٹ میں مزید بتایا  گیا ہے کہ بی آر آئی سرمایہ کاری سے پاکستان کو ماحول دوست اور معاشی لحاظ سے فائدہ ہوا ہے، ایشیا کو چینی بی آر آئی سرمایہ کاری کا سب سے بڑا حصول 2020میں تقریبا 54فیصد حاصل ہو ا اور پاکستان کو ان ممالک میں شامل کیا جاتا ہے جن میں سب سے زیادہ سرمایہ کاری  ہوئی، گوادر پرو کے مطابق جرمن اسکالر  اور گرین بی آرآء سنٹر کے بانی ڈائریکٹر ڈاکٹر کرسٹوف نیڈوپل  نے بتایا  کہ کوروناسے متاثر ہو نے کی وجہ سے عالمی معیشت سست روی کا شکار رہی،اس کے نتیجے میں  بی آر آئی ممالک میں چین کی  بیرون ملک سرمایہ کاری 2020میں تقریبا ڈالر 47ارب ڈالر تھی، جو 2019کے مقابلے میں تقریبا 54فیصد سے کم ہوئی   دیگر  ممالک کے مقابلے میں   بی آر آئی ممالک میں چینی سرمایہ کاری  بہتر تھی، پاکستان سمیت، بی آر آئی کے متعدد ممالک نے اس رجحان کو فروغ دیا اور 2019کے مقابلے میں 2020میں چین کی سرمایہ کاری میں اضافہ دیکھا گیا  2020میں، توانائی کی زیادہ تر سرمایہ کاری ہائیڈرو پاور میں 35 فیصد،  اس کے بعد کوئلہ 27فیصد اور شمسی 23فیصد رہی،اسی مناسبت سے، قابل تجدید توانائی میں ہونے والی سرمایہ کاری نے 2020میں بی آر آئی میں زیادہ تر توانائی کی سرمایہ کاری کی  کرسٹوف کا کہنا ہے کہ اس رجحان نے پاکستان کی حالیہ ڈی کوئلہ پالیسیوں اور کلینر انرجی کے تقاضوں سے بالکل مماثلت کی،مختلف ممالک میں چینی توانائی کی سرمایہ کاری کا تجزیہ کرتے ہوئے، ہمیں معلوم ہوا ہے کہ پاکستان وہ ملک تھا جس میں چین  نے 2013 سے 2020 تک زیادہ تر توانائی کی سرمایہ کاری کی ، اس کے بعد روسی فیڈریشن اور انڈونیشیا  ہے رپورٹ میں تجزیہ کیا گیا کہ مجموعی طور پر  پاکستان نے قابل تجدید توانائی کی سرمایہ کاری کو  50فیصد  سے زیادہ اپنی طرف متوجہ کیا،جس میں 47فیصد پن بجلی کے منصوبے ہیں، جبکہ روس اور انڈونیشیا نے فوسیل ایندھن سے متعلق بنیادی طور پر توانائی کی سرمایہ کاری کی ہے،جبکہ   گوادر پورٹ اور ٹرانسپورٹ کے دیگر انفراسٹرکچر پروجیکٹس میں سرمایہ کاری میں 2021میں واضح اضافہ دیکھنے کو ملے گا،اس رپورٹ میں چینی بی آر آئی کی سرمایہ کاری کی پیش گوئی کی گئی ہے کہ وہ ایشین ممالک میں    اسٹریٹجک اثاثوں (جیسے بندرگاہوں)کے ساتھ ساتھ علاقائی ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر سرمایہ کاری پر بھی توجہ دیں،اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین بندرگاہ کے بنیادی ڈھانچے میں چینی سرمایہ کاری کا سب سے بڑا شریک  بھی ہے، جیسے گوادر بندرگاہ چائنا اوورسیز پورٹ ہولڈنگ کمپنی کے زیرانتظام ہے۔

رپورٹ 

مزید :

کامرس -