وزیراعظم کا وزیراعلٰی کو چیئر مین ایل ڈبلیو ایم سی کا استعفی منظور نہ کرنے کا حکم، تحفظات دور کرنیکی ہدایت 

    وزیراعظم کا وزیراعلٰی کو چیئر مین ایل ڈبلیو ایم سی کا استعفی منظور نہ ...

  

  لاہور(جاوید اقبال)وزیراعظم عمران خان نے وزیر اعلیٰ پنجاب کو لاہور ویسٹ مینجمنٹ کے چیئرمین ملک امجد علی نون کا استعفیٰ منظور نہ کرنے کا حکم جاری کردیا۔ وزیر اعظم نے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کو ٹیلی فون کرکے ہدایت کی کہ ملک امجد علی نون سے ملاقات کرکے ان کے تحفظات دور کریں اورجن مسائل کی ایل ڈبلیو ایم سی کے چیئرمین نے نشاندہی کی ہے ان کا فوری سنجیدگی سے نوٹس لیا جائے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم کی ہدایت پر وزیر اعلیٰ نے فوری طور پر ملک امجد علی نون سے ٹیلی فون پر اور آج انہیں سہ پہر تین بجے میٹنگ کیلئے بلا لیا ہے،باخبر ذرائع نے بتایا لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے چیئرمین ملک امجد علی نون نے وزیراعظم عمران خان سے گزشتہ روز ملاقات کی جو 45 منٹ جاری رہی۔ملاقات میں امجد علی نون نے لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی میں صوبائی وزیر میاں اسلم اقبال کی بے جا مداخلت، 110 ارب روپے کے ٹھیکوں میں گھپلے کرنے کی حکمت عملی اور وزیر اعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری طاہر خورشید کے حوالے سے کئی انکشافات کیے۔ وزیراعظم نے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار سے رابطہ کرکے کہا کہ فوری طور پر وہ ملک امجد علی نون سے ملاقات کرکے ان کے تحفظات کو دور کیا جائے اورپرنسپل سیکرٹری کے حوالے سے چھان بین کرکے ایکشن لیا جائے۔ ذرائع کا دعوی ہے کہ چیئرمین لاہور ویسٹ مینجمنٹ ملک امجد علی نون کے انکشافات پر پرنسپل سیکرٹری طاہر خورشید کی تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ انہیں آئندہ چند روز میں عہدے سے ہٹا دیا جائے گا یہ بھی بتایا ہے کہ ملک امجد علی نون نے وزیراعظم پر واضح کیا کہ کہ حقیقت یہ ہے کہ صوبائی وزیر اور پرنسپل سیکرٹری کی نظر لاہور ویسٹ مینجمنٹ کے سات سال کیلئے ہونے والے ایک سو دس ارب روپے کے ٹھیکوں پر ہے وہ من پسند کمپنیوں کو ٹھیکے دلانا چاہتے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ میری موجودگی میں ان کی من مانی نہیں چل سکتی لہٰذا وہ انہیں تنگ کر رہے ہیں کہ وہ کمپنی چھوڑ دیں جس پر انہوں نے استعفیٰ دیا ہے۔ملک امجد علی نون نے وزیراعظم کو بتایا کہ شہباز شریف نے ترک کمپنیوں کو ٹھیکے 5000 فی ٹن کے حساب سے دیے تھے اب انہوں نے پہلی مرتبہ ایک ہزار فی ٹن کوڑا اٹھانے کا ٹھیکہ دیا ہے اورایسا کر کے میں نے پنجاب کے اربوں روپے کو محفوظ کیا ہے۔صوبائی وزیر اپنے میٹرک پاس دوست کو جنرل مینجر لگا چکا ہے جس آفیسر نے صوبائی وزیر کے منہ پر یہ کہا کہ کرپشن کا ریٹ ان کے آنے سے سو فیصد بڑھ گیا ہے اس کو غیر قانونی طور پر عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ ملک امجد علی نون نے وزیراعظم کو بتایا وزیر اعلیٰ پنجاب کے پرنسپل سیکرٹری مافیا حصہ بن چکے ہیں اس کا ثبوت یہ ہے کہ پرنسپل سیکرٹری اور ان کی سپیشل سیکرٹری میڈم عائشہ پچھلے کئی روز سے ان کی وزیر اعلیٰ پنجاب سے ملاقات نہیں ہونے دے رہے۔ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ ملک امجد علی نون نے وزیر اعظم سے کہا کہ عثمان بزدار نے سب کچھ اپنے پرنسپل سیکرٹری کے حوالے کردیا ہے جس کا خمیازہ پارٹی کو آئندہ الیکشن میں بھگتنا پڑے گا۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ ملک امجد علی نون نے وزیراعظم کو یہ بھی بتایا کہ صوبائی وزیر لاہور میں کمپنی پر بھی قبضہ چاہتے ہیں اگر ایسا ہوگیا تو لاہور میں پی ٹی آئی کو بہت زیادہ نقصان پہنچے گا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اس پر وزیراعظم نے اپنے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کو بھی اجلاس اور ملاقات میں بلا لیا اور وزیراعظم نے اپنے پرنسپل سیکرٹری سے کہا کہ سنو دیکھو یہ پنجاب میں کیا ہو رہا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ چیئرمین نے وزیراعظم کو بتایا کہ صوبائی وزیر کو غیر قانونی طور پر غلط طریقے سے نوٹیفیکیشن جاری کرکے لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کا نگران وزیر لگایا گیا۔ نوٹیفکیشن میں لکھا گیا کہ ٹھیکوں کی نگرانی بھی صوبائی وزیر کریں گے مگر قانون ایسا کرنے کی اجازت نہیں دیتا یہ سب گورکھ دھندا پرنسپل سیکرٹری کی ایماء پر کیا جا رہا ہے۔

ایل ڈبلیو ایم سی

مزید :

صفحہ اول -