گورنر سندھ کا آئی جی سند ھ مشتاق مہر کو ہٹانے کا مطالبہ 

گورنر سندھ کا آئی جی سند ھ مشتاق مہر کو ہٹانے کا مطالبہ 

  

 کراچی (اسٹاف رپورٹر)گورنر سندھ عمران اسماعیل نے آئی جی سندھ مشتاق مہر کو ہٹانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاہے کہ آخری وارننگ دیتا ہوں کہ پولیس اپنے رویہ میں تبدیلی لائے بصورت دیگر وفاق اپنی ذمہ داریاں پوری کرے گی، آج مجھے بانی ایم کیوایم کا دور یاد آرہا ہے، جس طرح وہ غنڈوں کے ذریعے شہر کو کنٹرول کرتے تھے، وہی اب سندھ پولیس کررہی ہے،اپوزیشن لیڈر پر جیل میں تشدد کیا گیا اب ایسا نہیں ہونے دینگے۔پیرکوگورنرہاؤس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے گورنرسندھ نے کہاکہ آئی جی بارے وہی ہوا جس کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا۔ آئی جی سندھ کی تبدیلی کے لئے وزیراعظم کو خط لکھ دیا ہے۔ پولیس کو وارننگ دے رہا ہوں کہ صرف ریاست کی ملازمت کریں۔انہوں نے کہاکہ جو وفاق کے بس میں ہے، وہ سب کرنے کیلئے مجبور نہ کیا جائے کہ ہم انتہائی قدم اٹھا لیں۔ آئی جی سندھ مشتاق مہر سیاسی وابستگی رکھتے ہیں۔ پولیس پر پریشر تو صاف نظر آ رہا ہے۔عمران اسماعیل نے کہاکہ پولیس پارٹی بن چکی ہے حلیم عادل پر سیون اے ٹی اے ڈالی گئی ہے لاکر سے سانپ کا نکلنا عجیب تماشہ ہے سمیر شیخ کے ساتھ بھی وہی رویہ اپنایا گیا جیلر اے ٹی سی کے آرڈر کو نہیں مانا جاتا انہوں نے کہاکہ اپوزیشن لیڈر کا اپنا ایک استحقاق ہوتا ہے، اس کا یہ حال کریں گے تو پھر بات تو ہوگی۔انہوں نے کہا کہ آج مجھے بانی ایم کیوایم کا دور یاد آرہا ہے، جس طرح وہ غنڈوں کے ذریعے شہر کو کنٹرول کرتے تھے، وہی اب سندھ پولیس کررہی ہے، چند روز سے کراچی میں ایک عجیب تماشا جاری ہے، ہر ضمنی الیکشن کے بعد حلقے کے لوگوں کے گھروں پر چھاپے مارے جاتے ہیں۔ سندھ میں پولیس کے ذریعے غنڈہ کرائی جارہی ہے، پولیس عدالت کا حکم ماننے کے لئے تیار نہیں، تحریک انصاف کے قید کارکنوں کے گھروں میں گھس کر برا سلوک کیاگیا، ہمارے لوگوں کے گھروں میں جا کر چادر چار دیواری کا تقدس پامال کیا جارہا ہے۔ کیا سندھ میں الیکشن میں حصہ لینا جرم ہے،کہہ دیں کہ سندھ میں کوئی الیکشن میں حصہ نہ لے۔عمران اسماعیل نے کہا کہ ایس ایس پی اپنے ٹرانسفر سے ڈرتے ہیں، پولیس افسران کو وارننگ دیتا ہوں کسی کو خوش کرنے کے لئے کام نہ کریں، وہ حق و انصاف سے فرائض انجام دیں، اگر ایسا نہیں ہوا تو وفاق اپنی رٹ کو استعمال کرے گا، چیف سیکریٹری اور آئی جی سندھ وفاق کے نمائندے ہوتے ہیں، وہ صوبے اور وفاق کے درمیان کوآرڈینیشن کو بہتر کریں۔گورنر سندھ نے کہا کہ آئی جی سندھ اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں ناکام نظر آتے ہیں، وہ سیاسی وابستگی رکھتے ہیں، میں نے وزیر اعظم کو صورت حال سے آگاہ کیا ہے، ان سے آئی جی کو تبدیل کرنے کی درخواست کی ہے۔ اب پانی سر سے گزر چکا ہے، مجبور نہ کریں کہ انتہائی قدم اٹھایا جائے،ہم پولیس کے تمام معاملات کا جائزہ لے رہے ہیں، سندھ میں گورنر راج کا وفاق کا کوئی ارادہ نہیں ہے، ہم چاہتے ہیں کہ حق و انصاف کی حکمرانی ہو، ہمارا انتہائی قدم آئی جی پولیس کو ہٹانا ہوسکتا ہے۔

مزید :

صفحہ اول -