سی ٹی ڈی کے ڈی ایس پی سمیت 28  اہلکاروں کیخلاف کارروائی سے روک دیا

سی ٹی ڈی کے ڈی ایس پی سمیت 28  اہلکاروں کیخلاف کارروائی سے روک دیا

  

پشاور(نیوزرپورٹر)پشاورہائی کورٹ کے جسٹس ناصرمحفوظ اور جسٹس نعیم انور پرمشتمل دورکنی بنچ نے انسداددہشت گردی کی عدالت کو سی ٹی ڈی کے ڈی ایس پی سمیت28اہلکاروں کے خلاف کارروائی سے روک دیاہے عدالت عالیہ کے فاضل بنچ نے یہ احکامات سیدعبدالفیاض اوریوسف اورکزئی ایڈوکیٹس کی وساطت سے دائرسی ٹی ڈی کے ڈی ایس پی سیف  اللہ کی جانب سے دائررٹ پرجاری کئے اس موقع پر عدالت کوبتایاگیاکہ 19نومبر2020ء کو سی ٹی ڈی نے منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت سیدآغہ اورعمرگل نامی ملزموں کے خلاف مقدمہ درج کرکے ان سے ڈیڑھ لاکھ امریکی ڈالرزکی برآمدگی ظاہرکی جس پرسیدآغہ نے انسداددہشت گردی کی عدالت میں درخواست دائرکی اورموقف  اختیارکیاکہ وہ تاجرہیں اوران پربلاجوازطورپرمقدمہ درج کیاگیا ہے جس پرعدالت نے مجسٹریٹ کے ذریعے انکوائری کرائی اورانکوائری میں سیدآغہ وغیرہ بے گناہ ثابت ہوئے جس پر پشاورکی انسداددہشت گردی  کی عدالت نے سی ٹی ڈی کے ڈی ایس پی سمیت28اہلکاروں کوعدالت طلب کرکے ان پرفردجرم عائدکی اس اقدام کے خلاف مذکورہ اہلکاروں نے پشاورہائی کورٹ میں رٹ دائرکی جس میں ماتحت  عدالت کی کارروائی کوکالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے عدالت عالیہ کے فاضل بنچ نے ابتدائی دلائل کے بعدمتعلقہ حکام کو نوٹس جاری کرتے ہوئے انسداددہشت گردی کی عدالت کو سی ٹی ڈی اہلکاروں کے خلاف حتمی فیصلے سے روک دیا 

مزید :

پشاورصفحہ آخر -