کھلی کچہری کا مقصد سرکاری افسران کی عزت نفس مجروح کرنا نہیں، شہریار آفریدی 

کھلی کچہری کا مقصد سرکاری افسران کی عزت نفس مجروح کرنا نہیں، شہریار آفریدی 

  

کوھاٹ (سٹاف رپورٹر) کھلی کچہریوں کا مقصد سرکاری افسران کی عزت نفس کو مجروح کرنا نہیں بلکہ جس طرح ہم عوام کو جواب دہ ہیں اسی طرح سرکاری ملازمین بھی عوام کے سامنے جواب دہ ہیں شکردرہ کی عوام نے تحریک انصاف اور مجھے ہمیشہ عزت دی ہے ہم ان تینوں یونین کونسلز کی عوام کو سلام کرتے ہیں جنہوں نے مختلف باتوں کے باوجود تحریک انصاف کاجھنڈا بلند رکھا اب وقت آ گیا ہے کہ عوام کو ان کا حق دیا جائے ان شاء اللہ ہم کبھی اپنی عوام کو مایوس نہیں کریں گے بلکہ عملی کام کر کے ثابت کریں گے کہ تحریک انصاف عام آدمی کی بات کرتی ہے ان خیالات کا اظہار کشمیر کمیٹی کے چیئرمین اور ممبر قومی اسمبلی شہریار آفریدی نے شکردرہ میں کھلی کچہری کے موقع پر علاقہ عوام اور سرکاری محکموں کے افسران سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر ان کے ہمراہ ضلعی صدر ملک اقبال‘ سابقہ صدر آفتاب عالم‘ سابقہ وزیر قانون امتیاز شاہد قریشی‘ ریٹائر میجر فاروق شنواری اور مختلف سرکاری محکموں کے اعلیٰ افسران موجود تھے شہریار آفریدی نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج ہمارا یہاں جمع ہونے کا مقصد ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے تبادلہ خیال ہے کونسا منصوبہ کہاں تک پہنچا اس حوالے سے بات کرنی ہے کونسے منصوبوں کے لیے فنڈز کی کمی سے کوئی رکاوٹ ہے اس کے لیے ہم یہاں پر آپس میں بیٹھے ہیں ہمارا مقصد کبھی بھی یہ نہیں رہا کہ خدانخواستہ ہم کسی سرکاری افسر یا اہلکار کی عزت نفس کو مجروح کریں ہم نے ہمیشہ تمام افسران کو عزت دی ہے اور امید رکھتے ہیں کہ سرکاری افسران بھی عزت کا جواب ادب اور عزت سے دیں گے اس موقع پر کشمیر کمیٹی کے چیئرمین کو ترقیاتی سکیموں کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ شکردرہ تڑلی پل پر کام جاری ہے یہ ملین کا منصوبہ ہے یہ پراجیکٹ جون 2022 تک مکمل ہو جائے گا شکردرہ سول ہسپتال کی اپ گریڈیشن کے لیے چار کروڑ ریلیز ہو چکے ہیں جبکہ کل لاگت 22 کروڑ 41 لاکھ ہے یہ منصوبہ بھی جون 2022 تک اگر فنڈز ملتے رہے تو مکمل ہو جائے گا گورنمنٹ ڈگری کالج شکردرہ منصوبہ 95 فیصد مکمل ہو چکا ہے جبکہ گرلز کالج شکردرہ جس پر 15 کروڑ 10 لاکھ الاگت آئے گی اس میں سے چار کروڑ ریلیز ہو چکے ہیں اور تعمیراتی کام جاری ہے اسی طرح ریسکیو 1122 منصوبہ بھی تعمیر کے آخری مراحل میں ہے پبلک ہیلتھ کے چار منصوبوں پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ واٹر سپلائی منصوبہ دریائے سندھ سے رحمان آباد تک پانی لانے کے لیے 200 ملین ریلیز کیے جائیں جس کے بعد واٹر سپلائی منصوبے کو شکردرہ تک پہنچایا جائے گا یہ منصوبہ بھی جون 2022 تک مکمل کر لیا جائے گا جبکہ رحمان آباد تک کا منصوبہ دسمبر 2021 تک مکمل کر لیا جائے گا محکمہ تعلیم کوھاٹ کے ضلعی آفیسر نے شکردرہ میں زنانہ اور مردانہ سکولوں کے منصوبوں پر بریفنگ دی شہریار آفریدی نے ان پراجیکٹس کے بروقت تکمیل اور اساتذہ کی کمی کو پورا کرنے کے لیے فوری اقدامات کی ہدایت بھی کی SNGPL کے حکام نے بتایا کہ 21 کروڑ کی لاگت سے 59 کلو میٹر پائپ لائن بچھائی جا چکی ہے جلد ہیں یہ منصوبہ مکمل کر لیا جائے گا جبکہ دوسرے فیز میں 383 کروڑ کے دوسرے منصوبے پر بھی جلد رپورٹ مکمل کر لی جائے گی کھلی کچہری میں عوام کی طرف سے محکمہ ایس این جی پی ایل کے حوالے سے کئی شکایات سامنے آئیں جبکہ ایک شہری نے کشمیر کمیٹی کے چیئرمین سے فریاد کی کہ گرڈ سٹیشن کی تعمیر کے لیے اس سے زبردستی کوڑیوں کے مول زمین لی جا رہی ہے عوام کی جانب سے مختلف شکایات سامنے آنے پر شہریار آفریدی نے اسسٹنٹ کمشنر اور چند معززین علاقہ پر مشتمل کمیٹیاں بھی تشکیل دیں جو ان تمام معاملات کا جائزہ لیں گی واضح رہے کھلی کچہری میں کمشنر کوھاٹ اور DIG کوھاٹ کی عدم شرکت پر انہوں نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ وزیر اعلیٰ پختونخوا اور چیف سیکرٹری سے ان کی شکایت کریں گے۔ 

مزید :

پشاورصفحہ آخر -