ملتان: آسٹریلوی ہائی کمشنر کا مرکز انسداد تشدد برائے خواتین کا دورہ 

  ملتان: آسٹریلوی ہائی کمشنر کا مرکز انسداد تشدد برائے خواتین کا دورہ 

  

ملتان (سٹی رپورٹر‘ جنرل رپورٹر)آسٹریلوی ہائی کمشنر جیفری شاء نے اپنی اہلیہ کے ہمراہ مرکز انسداد تشدد برائے خواتین کا دورہ کیا۔مینجر واک منیزہ منظور نے سنٹر کی (بقیہ نمبر33صفحہ 6پر)

ورکنگ بارے بریفنگ دی۔انہوں نے بتایا کہ واک سنٹر میں مظلوم خواتین کی داد رسی کی جارہی ہے۔مظلوم خواتین کو تمام سہولیات ایک چھت تلے فراہم کی جارہی ہیں۔واک سنٹر جنوبی ایشیاء میں اپنی نوعیت کا ایک اور منفرد سنٹر ہے۔ حکومت پنجاب خواتین کو قومی ترقی کے دھارے میں شامل کرنے بارے اور انکے مسائل کے حل بارے جنگی بنیادوں پر اقدامات کررہی ہے۔آسٹریلن ہائی کمشنر جیفری شاہ نے واک سنٹر میں میسر سہولیات کو سراہا۔ دریں اثناء ایم این زرعی یونیورسٹی میں آسٹریلین ہائی کمیشنر ڈاکٹر جیفری شاہDr. Geoffery Shaw) (نے سیکنڈ سیکرٹری پولیٹیکل آسٹریلین ہائی کمیشن اسلام آباد Mis Lavren Waugh اور کنٹری مینجر اینڈ آسٹریلین سنٹر فار انٹرنیشنل ایگریکلچرل ریسرچ سینٹر (ACIAR) ڈاکٹر منور رضا کاظمی کے ہمراہ دورہ کیا۔ دورہ کا مقصد پاکستان میں آسٹریلیا کے تعاون سے شروع کئے گئے آسٹریلین سنٹر فار انٹر نیشنل ایگری کلچرل ریسرچ سنٹر (ACIAR) پروگرام کے جاری تحقیقاتی پراجیکٹس کے بارے میں آگاہی حاصل کرنا اور پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان تعاون کو مزید بڑھاناہے۔  زرعی یونیورسٹی میں (ACIAR) کے تعاون سے دالوں کی پیداوار کو بڑھانے اور کاشتکاروں کی آمدن میں اضافے کے پراجیکٹ پر کام کررہی ہے جب کہ اس کے علاوہ زرعی جامعہ ACIAR کے تعاون سے پاکستان میں سیم اور کلر ذرہ زمین کو قابل کاشت بنانے کے لئے بھی کام جلد شروع کر رہی ہے۔زرعی جامعہ کے سائنس دانوں نے ملک میں دالوں کی کاشت کو بڑھانے کے لئے ہیڈ محمد والہ اور رنگ پور مٖظفر گڑھ میں تجرباتی فارم بنائے گئے ہیں جس کے مثبت نتائج برآمد ہو رہے ہیں مستقبل میں دالوں کی کاشت کو مزید بڑھایا جا رہا ہے۔ جب کہ سیم اور کلر زدہ زمین کو قابل کاشت بنانے کے لئے زرعی جامعہ اورACIAR مل کر عنقریب کام شروع کر رہی ہے۔ اس حوالے سے زرعی جامعہ کی ٹیم نے جلالپور پیر الہ اور مظفر گڑھ کی کلراٹھی زمین کو منتخب کر لیا ہے جہاں عنقریب تجربات شروع کر دئے جائیں گے۔آسٹریلین ہائی کمشنر ڈاکٹر جیفری شاہDr. Geoffery Shaw) (نے زرعی جامعہ میں آمد کے موقع پر کہا کہ آسٹیریلیا اور پاکستان قریبی دوست ملک ہیں۔ دونوں ملک کافی عرصہ سے مل کر کام کر رہے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ ہم پاکستان کو جدید ٹیکنالوجی دینے کے لئے اقدامات کر رہے ہیں تاکہ مقامی کاشتکار ہماری ٹیکنالوجی کا استعمال کر کے زیادہ منافع کما سکیں۔انہوں نے مزید کہا کہ زرعی جامعہ ACIAR کے ساتھ مل کر پراجیکٹس کو بہت کامیابی سے چلا رہی ہے۔ وائس چانسلر جامعہ پروفیسر ڈاکٹر آصف علی نے کہا کہ آسٹریلیا ترقی یافتہ ملک ہے اور ہمارے لئے رول ماڈل ہے آسٹریلیا میں استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی کو ہم اپنے ملک میں عام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، اُنہوں نے کہا کہ زرعی جامعہ کوشش کر رہی ہے کہ یہاں کے کسان پرانے طریقہ کاشت کاری چھوڑ کر جدید طریقہ کاشتکاری اپنائیں اور ملٹی پل فصلیں کاشت کریں۔کنٹری مینجر ACIAR ڈاکٹر منور رضا کاظمی نے کہا کہ ACIAR ملک کی ترقی کے لئے اقدامات کر رہی ہے ہم کسانوں کو ٹریننگ دینے کے ساتھ ساتھ اُن کوجدید ٹیکنالوجی سے روشناس کروا رہے ہیں۔ اُنہوں نے ایم این ایس زرعی یونیورسٹی کی جانب سے پچھلے سال سینٹورس مال اسلام آباد میں منعقد کی جانے والی دالوں کی نمائش کو سراہا۔ آسٹریلین ہائی کمشنر نے زارعی جامعہ میں آمد پر پودا بھی لگایا۔ آخر میں وائس چانسلر جامعہ پروفیسر ڈاکٹر آصف علی نے آسٹریلین ہائی کمشنر کو ملتان کی ثقافتی بلو پاٹری کا تحفہ بھی دیا۔ اس موقع پر ڈاکٹر زوالفقار علی، ڈاکٹر عرفان احمد بیگ، ڈاکٹر تنویر الحق، ڈاکٹر عمر فاروق، ڈاکٹر اشفاق چٹھہ اور ڈاکٹر عمیر وقاص سمیت دیگر موجود تھے۔

ہائی کمشنر

مزید :

ملتان صفحہ آخر -