پسند کی شادی‘ لڑکی پر رشتہ داروں‘ زمیندار  کا تشدد‘ متاثرین کا پولیس کیخلاف احتجاج

پسند کی شادی‘ لڑکی پر رشتہ داروں‘ زمیندار  کا تشدد‘ متاثرین کا پولیس ...

  

شجاع آباد (تحصیل رپورٹر) شجاع آباد پسند کی شادی جرم بن گئی 23سالہ علیشبہ کواس کے رشتہ داروں اور مقامی زمیندارنے(بقیہ نمبر52صفحہ 7پر)

 اپنے ڈیرے پرمبینہ تشدد کا نشانہ بنایا خاوند ریاض کے خاندان پر زمین تنگ کردی تفصیل کے مطابق شجاع آباد موضع  لابریں چاہ باغ والا کے رہائشی پسند کی شادی کرنے والے جوڑے نے  صحافیوں سے بات کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ انہوں نے پسند کی شادی کی ھے 23 سالہ علیشبہ نے اپنے بیان میں کہا کہ میں  عاقل بالغ ہوں اپنی مرضی سے شادی کی رشتہ دار جان سے مارنا چاہتے ہیں علاقہ شاہ پور کے مقامی زمیندار جو کہ ایم پی اے کے بھتیجا ہے باعزت رخصتی کرانے کا جھانسہ دے کر ساتھ لے گیا میرے خاوند کے رشتہ دار بھی میرے ساتھ گئے مگر زمیندار نے اپنے ڈیرے پر کمرے میں بند کردیا اور پہلے میرے رشتہ داروں کو کمرے میں بھیجا جنہوں نے مجھے تشدد کا نشانہ بنایا میں مشکل سے جان بچا کر کمرے سے نکلی تو مقامی زمیندار نے مجھے پکڑ لیا اور درجنوں افراد جو کہ کسی پنچائیت کے سلسلے میں وہاں موجود تھے ان کی موجودگی میں مجھ پر تشدد کیا اور زبردستی گاڑی میں ڈال کر کہیں لیجانا چاہتا تھا مگر میں وہاں سے نکل کر اپنے خاوند کے رشتہ داروں کے ساتھ جان بچا کر آگئی جبکہ مقامی زمیندار نے اپنے موقف میں بتایا کہ میں نے کوئی تشدد نہیں کیا جیسے لے آیا تھا ویسے واپس بھیج دیا جبکہ علیشبہ کے خاوند ریاض نے بتایا کہ میرے سسرالیوں نے میرے خاندان کا جینا حرام کیا ہوا ھے ہمارے گھروں پر فائرنگ کرتے ہیں ہمارے بچوں کو سکول نہیں جانے دیتے ہماری زمینوں پر قبضہ کی کوشش کی ھے ہمارا زمینوں کا پانی بند کر دیا جس سے ہماری گندم کی فصل تباہی ہوگئی ھے ہمارے کئی قریبی رشتہ داروں کو مارا پیٹا گیا ہم نے 15 پر کال کی مگر با اثر افراد کی وجہ سے تھانہ مظفر آباد پولیس نے کوئی کاروائی نہ کی متاثرین نے مقامی زمیندار اور لڑکی کے ورثا کے خلاف احتجاج کیا  ریاض نے کہا کہ مقامی زمیندار اور لڑکی کے ورثا ہم پر لڑکی کی واپسی کا دبا ڈالنا چاہتے ہیں میں نے لڑکی کی مرضی سے شادی کی ھے وہ میرے ساتھ خوش ھے ہم حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ ہماری جان مال کو خطرہ ہے ہمیں ان سے تحفظ فراہم کیا جائے۔

پسند کی شادی

مزید :

ملتان صفحہ آخر -