واسا: قیمتی پلاٹ پر افسروں کی نظریں، لیز ”ڈرامہ“ بے نقاب 

واسا: قیمتی پلاٹ پر افسروں کی نظریں، لیز ”ڈرامہ“ بے نقاب 

  

 ملتان (سپیشل رپورٹر)چیئرمین نیلام کمیٹی کی مبینہ ملی بھگت سے واسا ملتان گلگشت کالونی ملتان میں قیمتی پلاٹ کی 20سالہ لیز پر نیلامی میں ناکام ہوگیا،نیلام کمیٹی کی غیر ضروری تاخیر کے باعث سابقہ پارٹی عدالت عالیہ سے حکم امتناعی حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی (بقیہ نمبر41صفحہ 7پر)

،نیلامی نہ ہونے سے واسا کو اربوں روپے کا نقصان ہوا، نیلامی میں حصہ لینے کی خواہش مند پارٹیوں نے واسا دفتر میں احتجاج کیا‘ نیلامی منسوخی کو افسران کی ملی بھگت قرار دے دیا۔تفصیل کے مطابق واٹر اینڈ سینی ٹیشن ایجنسی (واسا) ملتان میں گزشتہ روز دن 12بجے واسا کی ملکیت گلگشت کالونی کے پوش علاقے میں ایک کنال 6مرلہ کے انتہائی قیمتی پلاٹ کو 20سالہ لیز پر دینے کیلئے اوپن نیلام عام کا اہتمام کیا گیا تھا مگر چیئرمین نیلام کمیٹی و ڈائریکٹر ایڈمن اینڈ فنانس واسا موسی خان نے نیلامی میں غیر ضروری تاخیری حربے اختیار کرتے ہوئے اوپن نیلام عام دن 12بجے کرانے کی بجائے سوا گھنٹہ لیٹ کردیا جس پر مذکورہ پلاٹ کی سابقہ پارٹی نے عدالت عالیہ سے حکم امتناعی حاصل کرلیا جس کے نتیجہ میں عدالت کی جانب سے واسا ملتان کو نیلامی سے روکتے ہوئے یکم مارچ کو پیراوائز کمنٹس طلب کرلئے ہیں۔مذکورہ صورتحال پر نیلامی میں حصہ لینے کی خواہشمند گیا رہ پارٹیوں جنھوں نے دن 12بجے سے قبل ہی شرائط کے مطابق 30لاکھ روپے فی کس کے حساب سے سی ڈی آر ز جمع کرارکھے تھے نیلامی منسوخ ہونے پر شدید احتجاج کیا۔اس موقع پر نیلامی کے خواہشمند پارٹیوں جن میں وحید ڈوگر،قاسم قریشی،ودیگر شامل تھے نے میڈیا کو بتایا کہ چیئرمین نیلام کمیٹی موسی خان کی ملی بھگت سے واسا کو اربوں روپے کا نقصان ہوا ہے کیونکہ مذکورہ ڈائریکٹر نے تمام شرائط پوری ہونے کے باوجود مقررہ وقت پر نیلامی میں جان بوجھ کر غیر ضروری تاخیری حربے اخیتار کیے تاکہ سابقہ پارٹی حکم امتناعی حاصل کرکے آجائے جس کا وہ اپنے منہ سے اعتراف بھی کرچکے ہیں۔ انھوں نے خود اعتراف کیا ہے کہ انھیں صبح دس بجے سے ہی پتہ تھا کہ سابقہ پارٹی حکم امتناعی حاصل کرنے کیلئے عدالت عالیہ سے رجوع کرچکی ہے۔تو پھر سارے میڈیا کے سامنے نیلامی کرانے کا ٹوپی ڈرامہ کیوں کیا گیا۔ انھوں نے وزیرا علی پنجاب،سیکرٹری ہاؤسنگ،ڈی جی ایم ڈی اے سے مذکورہ افسر کیخلاف سخت کاروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

عوامی حلقے

مزید :

ملتان صفحہ آخر -