ایمرسن کالج کو یونیورسٹی بنانے پر اساتذہ، سٹوڈنٹس کا مظاہر ہ، دھرنا 

      ایمرسن کالج کو یونیورسٹی بنانے پر اساتذہ، سٹوڈنٹس کا مظاہر ہ، دھرنا 

  

 ملتان (جنرل رپورٹر)  ایمرسن کالج کو ایمرسن یونیورسٹی بنانے پر اساتذہ اور طلبہ سمیت سول سوسائیٹی کی طرف سے(بقیہ نمبر14صفحہ 6پر)

 حکومت پنجاب کے خلاف ردعمل اور احتجاج شدید ہوگیا ہے۔گزشتہ روز بوسن روڈ دو طرفہ بلاک کر دی گئی اور احتجاج کیا گیا اس سے نہ صرف ٹریفک بلاک ہوگئی بلکہ گاڑیاں،موٹرسائیکلیں اور ویگنیں وغیرہ گلیوں،گلگشت کالونی،آفیسرز کالونی،گول باغ چونگی نمبر چھ  سمیت تمام متعلقہ علاقوں میں گزرنے کی جگہ ہی نہ رہی۔ دوسری طرف  ایمرسن کالج کے اساتذہ  طلبہ نے یونیورسٹی آف ایجوکیشن تک مارچ بھی کیا اور دھرنا بھی دیا،ایمرسن کالج کے طلبہ نے ہائیکورٹ ملتان بنچ میں رت درخواست بھی دائر کر دی ہے جس پر عدالت عالیہ نے سیکریٹری ہائر ایجوکیشن پنجاب ے  سترہ مارچ کو پورٹ بھی طلب کر لی ہے۔ ایمرسن کالج کو یونیورسٹی بنانے کے خلاف طلبہ اور اساتذہ سراپا احتجاج بوسن روڈ بلاک پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی۔تعلیمی ادارے کے اسٹیک ہولڈر اساتذہ اور طلبہ ہیں کس کے کہنے پر کالج کو یونیورسٹی میں تبدیل کیا گیا۔ جامعات کے مخالف نہیں نئی اراضی پر جامعات قائم کی جائیں غریب طلبہ اور والدین پر فیسوں کا بوجھ قبول نہیں کریں گے۔ مظفر گڑھ کو یونیورسٹی کی ضرورت ہے جس پر کوئی توجہ نہیں دیتا ملتان میں جامعات بنائیں مگر تاریخی کالج کی زمین پر ایسا ظلم کیوں کیا جارہا ہے صدر پی پی ایل اے پنجاب طارق کلیم نے کہا کہ کالج کے اسٹیک ہولڈر طلبہ اور اساتذہ ہیں حکومت نے ان دونوں سے پوچھے بغیر اس ادارے کو یونیورسٹی میں تبدیل کردیا جس سے صاف ظاہر ہے کہ حکومت شعبہ تعلیم سے اپنا ہاتھ اٹھانا چاہتی ہے انہوں نے کہا کہ تحریک کا آغاز کردیا ہے حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ فورا اپنا نوٹیفکیشن واپس لے۔اس موقع پر طلبہ کی بڑی تعداد اور طلبہ تنظیمیں بھی موجود تھیں طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے ناظم اسلامی جمعیت طلبہ ملتان مجاہد صالحین نے کہا کہ اس خطہ کے غریب طلبہ اپنے ادارے کو کسی کے ہاتھ چڑھنے نہیں دیں ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت یہ ادارہ جو ملتان میں ایک تاریخی حیثیت رکھتا ہے جہاں آج طالبعلم چند سو روپے میں اپنی ڈگری حاصل کرتا ہے لیکن اس ایک نوٹیفکیشن کے بعد یہی ڈگری ہزاروں میں پہنچ جائے گی۔انٹر کی تعلیم ان کالجز سے ختم ہوجائے گی۔جو طلبہ کے ساتھ ان کے والدین پر ظلم ہے۔طلبہ کالج بحالی تحریک میں اساتذہ کے ساتھ ہیں اور قطعا پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -