این اے 75 کے337 پولنگ سٹیشنزکاکوئی رزلٹ تبدیل نہیں ہوا،آر او کابیان

این اے 75 کے337 پولنگ سٹیشنزکاکوئی رزلٹ تبدیل نہیں ہوا،آر او کابیان
این اے 75 کے337 پولنگ سٹیشنزکاکوئی رزلٹ تبدیل نہیں ہوا،آر او کابیان

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)الیکشن کمیشن میں این اے 75 ڈسکہ ضمنی الیکشن سے متعلق کیس میں آر او نے کہاکہ 337 پولنگ سٹیشن کے نتائج جوبعدمیں ملے وہ واٹس ایپ پرآچکے تھے،این اے 75 کے337 پولنگ سٹیشنزکاکوئی رزلٹ تبدیل نہیں ہوا،رات کوساڑھے3 بجے لیگی امیدوارنے شکایت کی۔

نجی ٹی وی دنیا نیوز کے مطابق الیکشن کمیشن میں این اے 75 ڈسکہ ضمنی الیکشن سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی،الیکشن کمیشن میں پی ٹی آئی کے این اے 75 کے امیدوار اسجد ملہی وکلا کے ہمراہ پیش ہوئے،مسلم لیگ ن کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے این اے 75 میں دوبارہ پولنگ کی استدعا کردی۔

وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہاکہ ڈی ایس پی کوانتخابی مہم کے دوران لگاکررولزکی خلاف ورزی کی گئی،آرٹیکل 220 کے تحت انتخاب کراناالیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے،پولنگ کے روزحلقہ میدان جنگ بناہواتھا،وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہاکہ الیکشن کمیشن 20 پولنگ سٹیشن کے بجائے حلقے کے انتخاب کی تحقیق کرے۔

ریٹرننگ افسراین اے 75 الیکشن کمیشن کے سامنے پیش ہو گئے،الیکشن کمیشن نے ریٹرننگ افسرکی رپورٹ فریقین کودینے کی ہدایت کردی، آراو نے کہاکہ صبح 3 بجکر37 منٹ تک 337 پولنگ سٹیشن کے نتائج جمع ہوچکے تھے،20 پولنگ سٹیشنزکے نتائج نہیں مل رہے تھے،20 پولنگ اسٹیشن کے نتائج واٹس ایپ پرتاخیرسے ملے،واٹس ایپ پرنتائج تاخیرسے ملنے پرخدشہ پیداہوا۔

آر او نے کہاکہ 337 پولنگ سٹیشن کے نتائج جوبعدمیں ملے وہ واٹس ایپ پرآچکے تھے،این اے 75 کے337 پولنگ سٹیشنزکاکوئی رزلٹ تبدیل نہیں ہوا،رات کوساڑھے3 بجے لیگی امیدوارنے شکایت کی۔

ریٹرننگ افسر نے کہاکہ 4 پولنگ سٹیشن کے نتائج پرپریذائیڈنگ افسرکے دستخط ہیں،کچھ پولنگ سٹیشنزکے نتائج میں انگوٹھوں کے نشان نہیں ہیں، آر او نے کہاکہ ضمنی الیکشن کیلئے پولنگ والے روز 12 بجے جھگڑاہوا،دوپہرکوفائرنگ کے واقعہ میں 2 نوجوان جاں بحق ہوئے، جاں بحق افرادمیں ایک ن لیگ اوردوسراپی ٹی آئی کاکارکن تھا،فائرنگ کے بعدمتعلقہ سٹیشن پر 30 منٹ میں پولنگ شروع کرادی تھی۔

رکن الیکشن کمیشن نے استفسار کیاکہ آپ نے تاخیرسے پہنچنے والے پریذائیڈنگ افسرسے پوچھ گچھ کی؟آر او نے کہاکہ تمام 20 پولنگ سٹیشن کے پریذائیڈنگ افسران سے پوچھ گچھ کی،کچھ نے کہاگاڑی خراب تھی،کسی نے کہاموسم خراب تھا،20 پولنگ سٹیشنزکے پریذائیڈنگ افسران کے بیان ریکارڈکرلیے،رکن الیکشن کمیشن نے سوال کیا کہ محکمہ موسمیات سے دھندسے متعلق رپورٹ لی تھی؟۔ریٹرننگ افسرنے دھندسے متعلق سوال کاکوئی جواب نہ دیا۔

آر او نے کہاکہ جب نتائج دینے آئے توپریذائیڈنگ افسران سے پوچھ گچھ کی،رکن پنجاب نے کہاکہ موبائل کمپنیوں سے چیک کرایا 20 پریذائیڈنگ افسران کی لوکیشن کیاہے؟ریٹرننگ افسران نے کہاکہ یہ تواب بھی چیک کرائی جاسکتی ہے،چیف الیکشن کمشنر نے کہاکہ آپ کیساتھ اس وقت کیاہواتھافون پرگھبرائے ہوئے تھے،ریٹرننگ افسر نے کہاکہ ریٹرننگ افسردفترکے باہرہجوم تھا،لوگوں کے رش کی وجہ سے تصادم کاخطرہ تھا،الیکشن کمیشن نے سوال کیا کہ کیاانتظامیہ آپ سے تعاون کررہی تھی؟آر او نے کہاکہ ہجوم بہت زیادہ تھا،سلمان اکرم راجہ نے کہاکہ ریٹرننگ افسراب اپنے مو¿قف سے ہٹ رہے ہیں،ریٹرننگ افسر نے کہاکہ انتظامیہ نے تعاون کیاتھا۔الیکشن کمیشن نے سوال کیاکہ کیاآپ پہلی بارآراوبنے؟ریٹرننگ افسر نے کہاکہ نہیں میں تیسری بارآراوبناہوں۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -علاقائی -اسلام آباد -