رشوت کسی کوووٹ نہ ڈالنے کیلئے بھی دی جاسکتی ہے،جوپیسے ہی اس بات کے لے کہ ووٹ نہیں ڈالوں گاتوکیسے پکڑیں گے؟ رضاربانی کے دلائل

رشوت کسی کوووٹ نہ ڈالنے کیلئے بھی دی جاسکتی ہے،جوپیسے ہی اس بات کے لے کہ ووٹ ...
رشوت کسی کوووٹ نہ ڈالنے کیلئے بھی دی جاسکتی ہے،جوپیسے ہی اس بات کے لے کہ ووٹ نہیں ڈالوں گاتوکیسے پکڑیں گے؟ رضاربانی کے دلائل

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے کرانے سے متعلق صدارتی ریفرنس پروکیل رضاربانی نے دلائل دیتے ہوئے کہاکہ رشوت کسی کوووٹ نہ ڈالنے کیلئے بھی دی جاسکتی ہے،جوپیسے ہی اس بات کے لے کہ ووٹ نہیں ڈالوں گاتوکیسے پکڑیں گے؟صرف ووٹ ڈالنانہیں،رقم لینابھی جرم ہے۔

نجی ٹی وی دنیا نیوزکے مطابق سپریم کورٹ میں سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے کرانے سے متعلق صدارتی ریفرنس پرسماعت ہوئی، چیف جسٹس گلزاراحمد کی سربراہی میں لارجر بنچ نے سماعت کی،پی پی کی جانب سے رضاربانی نے سیکریٹ بیلٹ کے حق میں دلائل دیتے ہوئے کہاکہ کوئی پیسے لیتاپکڑاگیاہے توشواہدبھی ہوں گے،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاکہ جہاں ویڈیوآچکی ہے وہاں کوئی کارروائی ہوگی؟ عدالت نے استفسارکیاکہ جولوگ کونے میں کھڑے ہوکربات کریں توگواہ کہاں سے آئےگا؟ چیف جسٹس پاکستان نے استفسارکیاکہ ایساکوئی نظام نہیں کہ معلوم ہوسکے کس کوکس نے ووٹ دیا؟،وکیل رضاربانی نے کہاکہ آئین ووٹ ڈالنے والے کی شناخت ظاہرکرنے کی اجازت نہیں دیتا،چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ رشوت ووٹ سے جڑی ہے تواس کاجائزہ کیسے نہیں لیاجاسکتا،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاکہ پیسہ لینااورووٹ دینادونوں کوثابت کرناہوگا۔

وکیل رضاربانی نے کہاکہ رشوت کسی کوووٹ نہ ڈالنے کیلئے بھی دی جاسکتی ہے،جوپیسے ہی اس بات کے لے کہ ووٹ نہیں ڈالوں گاتوکیسے پکڑیں گے؟صرف ووٹ ڈالنانہیں،رقم لینابھی جرم ہے،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاکہ ووٹ ہی نہ ڈالاجائے توشناخت کی ضرورت نہیں،کوئی ووٹ نہ ڈالے توپیسہ لیناثابت کرناہوگا۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ وقت کومدنظررکھتے ہوئے ریفرنس پرکارروائی مکمل کرنی ہے، عدالت نے رضاربانی کوکل دلائل مکمل کرنے کیلئے آدھے گھنٹے کاوقت دےدیا،فاروق نائیک کوبھی کل آدھے گھنٹے میں دلائل مکمل کرنے کاحکم دیدیا،عدالت نے کہاکہ جے یوآئی اورجماعت اسلامی نے رضاربانی کے دلائل اپنالیے،دونوں مذہبی سیاسی جماعتوں کے وکیل الگ دلائل نہیں دیں گے،ن لیگ کے بیرسٹرظفراللہ کوبھی آدھاگھنٹہ ملے گا۔

اٹارنی جنرل کی بارکونسلز کے دلائل نہ سننے کی استدعامستردکرتے ہوئے عدالت نے سندھ اورپاکستان بارکونسل کوکل آدھے گھنٹے میں دلائل مکمل کرنے کاحکم دیدیا،عدالت نے کہاکہ وکلاکے دلائل مکمل ہونے پراٹارنی جنرل جواب الجواب دیں گے۔

مزید :

قومی -علاقائی -اسلام آباد -