’بچوں کو جسمانی سزادینےکی ممانعت کےاحکام واضح کرنےکابل 2020 قومی اسمبلی میں اکثریتی رائےسے منظور کر لیا گیا‘

’بچوں کو جسمانی سزادینےکی ممانعت کےاحکام واضح کرنےکابل 2020 قومی اسمبلی میں ...
 ’بچوں کو جسمانی سزادینےکی ممانعت کےاحکام واضح کرنےکابل 2020 قومی اسمبلی میں اکثریتی رائےسے منظور کر لیا گیا‘
سورس:   ٖFile

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) قومی اسمبلی میں بچوں کوجسمانی سزادینےکی ممانعت کےاحکام واضح کرنےکابل 2020 قومی اسمبلی میں  اکثریتی رائےسے منظور کر لیا گیا۔ بل پاکستان مسلم لیگ ن کی رکن اسمبلی مہناز اکبر عزیز نے پیش کیا۔ 

ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم شاہ سوری کی زیر صدارت قومی اسمبلی کے اجلاس میں پاکستان مسلم لیگ ن کی رہنما مہناز اکبر عزیز کی جانب سے بچوں کوجسمانی سزادینےکی ممانعت کےاحکام واضح کرنےکابل 2020 پیش کیا گیا جو متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔ وفاقی وزیر انسانی حقوق شیری مزاری نے کہا کہ ہم اس تحریک کی کوئی  مخالفت نہیں کر رہے، بل میں ایک ترمیم کرناچاہتےہیں جس کے بعد بل اور حکومتی پیش کردہ  ترمیم کی بھی متفقہ منظوری دے دی گئی۔

مولاناعبدالاکبرچترالی کی جانب سے طلباکوعربی زبان کی تعلیم لازمی دینےکابل پیش کیاگیا ۔ وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا ہمیں عربی سکھانے پراعتراض نہیں ہے، مروجہ عربی کےبجائےجوکلاسیکل زبان ہےاس کوپڑھانےپرپہلے سے غور کر رہے ہیں۔ جس پر مولانا اکبر چترالی نے کہا کہ زبان میں تبدیلی ہوتی رہتی ہے ، بہتر ہو گا وزیراس کی مخالفت نہ کریں۔ جواب میں شفقت محمودکا کہناتھا کہ قرآن کی تعلیم ترجمہ سےدےرہےہیں،بہترشکل میں بل ایوان میں لائیں گے، ہرجماعت میں بچوں کو قرآن ترجمہ سے پڑھائیں گے۔ ڈپٹی سپیکرنےبل قائمہ کمیٹی کوبھیج دیا، ارکان کی اکثریت نےبل کمیٹی کوبھجوانےکےحق میں ووٹ دیا۔ 

مزید :

قومی -