بھارت میں گلیشیئر پگھلنے کی رفتار میں اضافہ لیکن امریکی ایٹمی جاسوس ڈیوائس کا اس میں کیا کردار ہے ، کیوں نصب کی گئی؟ مقامی لوگوں نے دعویٰ کردیا

بھارت میں گلیشیئر پگھلنے کی رفتار میں اضافہ لیکن امریکی ایٹمی جاسوس ڈیوائس ...
بھارت میں گلیشیئر پگھلنے کی رفتار میں اضافہ لیکن امریکی ایٹمی جاسوس ڈیوائس کا اس میں کیا کردار ہے ، کیوں نصب کی گئی؟ مقامی لوگوں نے دعویٰ کردیا
سورس:   Pxhere (creative commons license)

  

نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک)بھارتی ریاست جھاڑ کھنڈ میں ایک ماہ قبل گلیشیئرز کے پگھلنے کی رفتار میں کئی گنا اضافہ ہونے سے تباہ کن سیلاب آیا اور 200کے لگ بھگ زندگیاں نگل گیا۔ اس سیلاب سے جھاڑ کھنڈ کا گاﺅں ’رینی‘ سب سے زیادہ متاثر ہوا۔ رینی اور دیگر دیہات کے لوگوں کے نزدیک گلیشیئرز کے اتنا تیزی سے پگھلنے کی وجہ امریکہ کی ایک ایٹمی جاسوسی ڈیوائس ہے جو دہائیاں قبل ایک پہاڑ کے اوپر لاپتہ ہو گئی تھی اور بعد ازاں کئی سرچ آپریشنز کیے جانے کے باوجود نہیں ملی۔ اب مقامی لوگوں کا ماننا ہے کہ اس ڈیوائس میں موجود ایٹمی مواد اس گلیشیئر کی برف کو تیزی سے پگھلا رہا ہے۔

یہ بات 1960ءکی دہائی کی ہے جب امریکہ نے بھارت کے ساتھ مل کر ہمایہ کے اوپر جوہری توانائی سے چلنے والی جاسوس ڈیوائسز نصب کیں تاکہ چین کے ایٹمی تجربات اور میزائلوں کے نظام کی نگرانی کی جا سکے۔ امریکہ کے راک اور آئس میگزین کے معاون ایڈیٹر پیٹ ٹیکیڈا کے مطابق اس زمانے میں سرد جنگ کا خوف اپنے عروج پر تھا۔ اکتوبر 1965ءمیں بھارتی اور امریکی کوہ پیماﺅں کے ایک گروپ نے جاسوسی کی یہ ڈیوائسز اور 7پلاٹینم کیپسول ’نندا دیوی‘ نامی اس پہاڑ کے اوپرپہنچائے جنہیں پہاڑ پر 7ہزار 816میٹر کی بلندی پر رکھا جانا تھا۔ یہ بھارت کی دوسری بلند ترین چوٹی ہے جو چین کے ساتھ شمال مشرقی سرحد کے قریب واقع ہے۔

جب کوہ پیما یہ سامان لے کر چوٹی کے قریب پہنچنے والے تھے، تو موسم اچانک انتہائی خراب ہو گیا اور انہیں یہ آلات وہیں چھوڑ کر مجبوراً واپس لوٹنا پڑا۔ انہوں نے 6فٹ لمبا اینٹینا، مواصلات کے لیے دو ریڈیو سیٹ، ایک پاور پیک اور پلاٹینم کیپسول وہاں ہوا سے بچنے کے لیے بنائی گئی پناہ گاہ میں رکھ دیئے اور واپس چلے گئے۔ اس ٹیم میں شامل کوہ پیما منموہن سنگھ کوہلی کا کہنا ہے کہ ”میں اس آپریشن میں بھارتی ٹیم کی قیادت کر رہا تھا۔ اگر ہم اس روز آلات وہیں چھوڑ کر واپس نہ آتے تو بہت سے کوہ پیما ہلاک ہو جاتے۔ جب اگلے موسم بہار میں ان آلات کو تلاش کرنے کے لیے کوہ پیما پہاڑ پر گئے تو یہ آلات غائب ہو چکے تھے۔ اس کے بعد بھی ان کی تلاش کے لیے کئی آپریشن کیے گئے لیکن یہ آلات نہیں ملے۔“ رپورٹ کے مطابق اب مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ بھارتی حکومت کو ان آلات کی تلاش کا کام شروع کرنا چاہیے ورنہ یہ مزید تباہ کن سیلابوں کا سبب بنیں گے۔ 

مزید :

بین الاقوامی -