مسلم لیگ ن کا این اے 75 میں دوبارہ پولنگ کا مطالبہ ، فردوس عاشق اعوان نے کرارا جواب دیتے ہوئے حیران کن دعویٰ کردیا 

مسلم لیگ ن کا این اے 75 میں دوبارہ پولنگ کا مطالبہ ، فردوس عاشق اعوان نے کرارا ...
مسلم لیگ ن کا این اے 75 میں دوبارہ پولنگ کا مطالبہ ، فردوس عاشق اعوان نے کرارا جواب دیتے ہوئے حیران کن دعویٰ کردیا 

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) معاون خصوصی وزیراعلیٰ پنجاب برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نےکہا ہے کہ  ن لیگ نے ہمیشہ الیکشن کے بجائے سلیکشن پر نظر رکھی ہے،ڈسکہ کے الیکشن سے نہ صرف ن لیگ کی امیدوں پر پانی پھرگیا بلکہ ڈسکہ شہر سے گدی نشینی اور جان نشینی کی سیاست کا جنازہ بڑی دھوم سے نکلا،وزیر اعظم عمران نے 20 پولنگ سٹیشن پر دوبارہ پولنگ کیلئے پیشکش کی ہے، ن لیگ کا پورے حلقے میں  دوبارہ پولنگ کامطالبہ الیکشن کمیشن پر دباؤ ڈالنے کے مترادف ہے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر  فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ وزیرآباد میں جہاں ن لیگ جیتی وہاں انہیں الیکشن صاف اور شفاف دکھائی دیا جبکہ چند کلو میٹر دور جہاں ووٹوں کی طاقت سے تاریخی رسوائی کا سامناکرنا پڑا وہاں انہیں دھاندلی نظر آئی،میڈیا گواہ ہے کہ ن لیگ کی جانب سے نہ صرف 337 پولنگ سٹیشنز کے نتائج تسلیم کئے جاتے رہے بلکہ جھوٹوں کی رانی جعلی راکماری نے اپنی فتح کا اعلان بھی کیا،مریم نواز نے ٹویٹ میں نتائج تسلیم نہ کرنے کا کہیں ذکر نہیں کیا کیونکہ اس کو اپنی فتح کا یقین تھا۔

صوبائی معاون خصوصی نے کہاکہ رانا ثناء اللہ ڈیتھ سکواڈ لے کر نکلے اور پر امن الیکشن کو پر تشدد بنانے کی حکمت عملی تیار کی، رانا ثناء اللہ نے قیمتی جانوں کے قتل کے لئے آشیر باد دی اور ایک ہی خاندان کے تین بھائیوں پر گولیاں برسا کر ایک کی جان لے کر اپنی ہی گولی سے ن لیگی کو قتل کیا۔انہوں نے کہاکہ وزیر اعظم عمران نے 20 پولنگ اسٹیشن پر دوبارہ پولنگ کیلئے پیشکش کی ہے،ن لیگ کے پاس بھی جو رزلٹ ہے اس میں بھی تحریک انصاف جیتی ہے، فارم 45 کے مطابق سولہ پولنگ سٹیشنز پر تحریک انصاف اور چار میں ن لیگ جیتی، صبح3.15 پر جب سارے نتائج آ گئے تو پھر ان کو یادآیا کہ ہماری اکثریت اقلیت میں بدلنے جا رہی ہے اور پھر یہ سارا واویلا شروع ہوا،اس سب کامقصد الیکشن کو متنازعہ بنانا تھا۔

  فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ الیکشن کمیشن آر او کے کہنے پر بیس پولنگ رزلٹ پر شبہ ظاہر کر رہا ہے جبکہ ہم نے اس کے خلاف درجنوں درخواستیں صوبائی الیکشن کمیشن میں جمع کروائیں اوراسکا ن لیگ سے گٹھ جوڑ الیکشن والے دن بے نقاب کیا لیکن اس پر کوئی عملدرآمد نہیں ہوا،جب تک ٹریبونل میں درخواست نہیں دیتے فارم 45 نہیں دیکھاجا سکتا لیکن ن لیگ کو ہارتا دیکھ کر آر او کی مدد سے یہ سازش تیار کی گئی۔

انہوں نے کہاکہ 2018 میں بھی ان پولنگ سٹیشنز میں ووٹ بنک ہمارا تھاکیونکہ یہ ہمارے امیدوار کے حلقے ہیں، ن لیگ والے اپنے امیدوار کے گھر کی یو سی کی تفصیلات بھی سامنے لائیں۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے معاون خصوصی نے کہاکہ ن لیگ کا پورے حلقہ میں پولنگ کامطالبہ الیکشن کمیشن پر دباؤ ڈالنے کے مترادف ہے،یہاں تین تین دن بعد بھی رزلٹ آتے رہے ہیں، یہ کوئی نئی بات نہیں ہے، رزلٹ وٹس ایپ گروپ میں رات نو  بجے سے پہلے شیئر ہو چکے تھے۔

جہانگیر ترین کے حوالے سے جواب دیتے ہوئے معاون خصوصی نے کہاکہ جہانگیر ترین تحریک انصاف کے ایک اہم رکن ہیں، وہ عدالت میں اپنا کیس لڑ رہے ہیں۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ پرویز رشید سیاسی گرو نے دو نمبری کے سارے گر مریم نواز کو سکھائے، نقب زنی کرنے کی تیاری کروائی، پرویز رشید سرکاری وسائل پر پلتا رہا، سرکار کا نا دہندہ ہے، اب کہہ رہا ہے کہ پیسے جمع کروانے کیلئے تیار ہوں،پہلے تو یہ بتائے یہ 95 لاکھ کہاں سے آئے؟کیا یہ مریم نواز نے ان پرنچھاورکئے ہیں۔

مزید :

علاقائی -پنجاب -لاہور -