این اے75 ضمنی انتخاب، سابق وزیراعظم نوازشریف بھی بول پڑے ، الیکشن کمیشن کیلئے پیغام جاری کر دیا 

این اے75 ضمنی انتخاب، سابق وزیراعظم نوازشریف بھی بول پڑے ، الیکشن کمیشن کیلئے ...
این اے75 ضمنی انتخاب، سابق وزیراعظم نوازشریف بھی بول پڑے ، الیکشن کمیشن کیلئے پیغام جاری کر دیا 

  

لندن (ڈیلی پاکستان آن لائن )سابق وزیراعظم نوازشریف نے ڈسکہ میں ضمنی انتخاب کے دوران پریزائنڈنگ افسران کےغائب ہونےکےمعاملےپرسخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئےکہاہےکہ الیکشن کمیشن کے پاس آئین اور قانون کے تحت اختیار موجود ہے کہ وہ تمام متعلقہ حکام اور ذمہ داران کے خلاف سخت تادیبی قانونی کارروائی کرے اور ووٹ چوری کے مجرمانہ عمل کے مرتکب غداروں کو عہدوں سے بر طرف کر کے ان سب کو قرا ر واقعی سزا دے تاکہ مستقبل میں کسی کو عوام کی امانت میں خیانت کی جرات نہ ہو سکے ،یہ کارروائی جلد سے جلد کی جائے تاکہ ووٹ چوروں کو نشان عبرت بنایا جا سکے ، یہ ایک نیک کام ہے اور میں الیکشن کمیشن کو پوری قوم کی طرف سے یقین دلانا چاہتاہوں کہ اس نیک کام میں ہم سب آپ کے ساتھ ہیں ۔

سابق وزیراعظم نوازشریف نے ڈسکہ کے ضمنی انتخاب کی صورتحال پر آن لائن خطاب کرتےہوئےکہاکہ غائب ہونےوالے پریزائنڈنگ افسران جب دھند سےنمور دارہوئے تو صرف ووٹنگ کے تھیلے ہی نہیں بلکہ ان میں موجود بیلٹ اور ووٹنگ کی شرح بھی تبدیل ہو چکی تھی ، یعنی تین سو کے قریب پولنگ سٹیشنز میں ووٹنگ کی شرح پینتیس فیصد تھی اور ان پولنگ سٹیشنز پر جن کے پریزائنڈنگ افسر اٹھائے گئے وہاں پولنگ کی شرح 85 فیصد کے قریب تھی ، کیا وہ کوئی کہیں اور جگہ پر الیکشن ہو رہا تھا ؟ یہ ایک واقعہ نہیں ہے ، یہ وہ کھلاثبوت ہے جس نے 2018ء کے عام انتخابات میں ووٹ چوری کے تمام منصوبوں کو بے نقاب کر دیاہے اور عوام کی عدالت میں ووٹ چوروں کو بھی مجرم ثابت ہو گئے ہیں اور وہ پکڑے گئے ہیں ، 2018ء میں بڑے پیمانے پر دھاندلی ہوئی تھی ، وہاں پر بھی دو دن تک نتائج نہیں آئے تھے ،ڈسکہ کے چھوٹے سے حلقے میں تیرہ چودہ گھنٹے نتیجہ روک دیا گیا ، جب الیکشن کا نتیجہ روک دیا جائے یا دیر ہو جائے تو سمجھ لیں کہ ووٹوں کی چوری اور گڑبڑ ہو رہی ہے ، نتائج تبدیل کیے جارہے ہیں ، 2018ء میں بھی ایسا ہوا اور آج پھر ہواہے ، عوام نے واضح رائے کا اظہار کرتے ہوئے ن لیگ کو جتوایاہے ، اس کیلئے میں ڈسکہ کے اپنے بھائی بہنوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے مبارکباد دیتا ہوں ۔

مسلم لیگ ن کےقائدنےکہا کہ دوسری اہم بات یہ ہےکہ الیکشن کمیشن اس ضمنی انتخاب میں سامنےآنےوالےسوالات کاجواب ہر قیمت پر تلاش کرے ،انہیں یہ جواب حاصل کرنے چاہئیں کہ آخر اس مجرمانہ کھیل کے پیچھے کون تھا؟یہ سب سے بڑا سوال ہے  کہ  ایک ہی لائن میں لگ کر سب نے دھاندلی کروانے والوں کا ساتھ  کیوں دیا ؟ کس کے کہنے پر انہوں نے یہ سارا کام کیاہے ؟میں  ملک کا وزیراعظم اور پنجاب کا دو مرتبہ وزیراعلیٰ رہا ہوں ، کبھی ایسا نہیں ہوتا کہ سب لائن میں لگ کر ایک غیر قانونی کام کو کرناشروع کر دیں،ایسا ممکن ہی نہیں ہے، کس نےالیکشن کمیشن کےعملےکو اغواکیا ؟یہ جاننا بہت ضروری ہےاور اگر وہ اغواہوئےتو کیوں ہوئے ؟کس نے جعلی ووٹوں سےتھیلےبھرے ؟ کس نےووٹنگ کی شرح کو بے حساب بڑھا دیا ؟ کس وجہ سے چیف سیکریٹری ، آئی جی پولیس پنجاب اورسیالکوٹ ضلع کے متعلقہ حکام نے الیکشن کمیشن کے احکامات کی پاسداری نہیں کی  ؟  ان حکام نے الیکشن کمیشن کے آئینی اور قانونی فرائض کی انجام دہی میں الیکشن کمیشن سے تعاون کیوں نہیں کیا ؟۔

انہوں نے کہا کہ  الیکشن کمیشن کے پاس آئین اور قانون کے تحت اختیار موجود ہے کہ وہ تمام متعلقہ حکام ،ذمہ داران کے خلاف سخت تادیبی قانونی کارروائی کرے اور ووٹ چوری کے مجرمانہ عمل کے مرتکب غداروں کو عہدوں سے بر طرف کر تے ہوئے ان سب کو قرا ر واقعی سزا دے تاکہ مستقبل میں کسی کو عوام کی امانت میں خیانت کی جرات نہ ہو سکے ، ووٹ چوری کرنے اورکروانے والے ، سارے عمل کی نگرانی کرنے والے اور  سرکاری ملازمین اس سب جرائم کے ذمہ دار ہیں ۔

میاں نواز شریف نے کہا کہ جب ووٹ چوری ہوتاہے تو پھر عوام کا آٹا ، چینی ، بجلی ، گیس ، پٹرول ، دوائیاں ، روزگار ، امن و سکون سمیت سب کچھ چوری ہو جاتاہے ، قوم کا یہ مطالبہ ہے کہ الیکشن کمیشن یہ کارروائی جلد سے جلد کرے تاکہ ووٹ چوروں کو نشان عبرت بنایا جا سکے،یہ ایک نیک کام ہے اور میں الیکشن کمیشن کو پوری قوم کی طرف سے یقین دلانا چاہتاہوں کہ اس نیک کام میں ہم سب آپ کے ساتھ ہیں ۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -