انصاف کا تھرتھراتا پلڑا

      انصاف کا تھرتھراتا پلڑا
      انصاف کا تھرتھراتا پلڑا

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

  پچھلے برس جب 7اکتوبر کو حماس نے غزہ سے نکل کر اسرائیل پر حملہ کر دیا تھا، اس کے سینکڑوں شہریوں کو قیدی بنا کر غزہ لے گئے تھے اور درجنوں کو ہلاک کر دیا تھا تو دنیا انگشت بدنداں رہ گئی تھی۔ یہ ایک طرح کی گلوبل سٹرٹیجک ناگہانیت تھی۔ تب سے لے کر آج تک اس حملے اور اس کے بعد اسرائیل کے جوابی حملے پر بہت کچھ کہا اور لکھا جا چکا ہے۔ میں اس کو یہاں دہرا کر آپ کا وقت ضائع نہیں کروں گا۔ لیکن اس جنگ کے دو تین پہلوؤں پر آپ کی توجہ مبذول کروانی چاہوں گا۔

اول یہ کہ خود مغربی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے غزہ پر جو جوابی حملہ کیا اور اس میں اب تک 30ہزار سے زائد فلسطینی  ”شہید“ ہو چکے ہیں جن میں بوڑھے، بچے اور خواتین کی ایک بڑی تعداد شامل ہے تو اس کی مثال ماضی میں اگر کسی عالمگیر ’مردم کشی‘ سے دی جا سکتی ہے تو وہ یہودیوں کا وہ قتلِ عام ہے جسے ہولوکاسٹ کہا جاتا ہے جس کا حکم دوسری جنگ عظیم کے دوران جرمنی کے ہٹلر نے دیا تھا اور جس میں ہزاروں لاکھوں یہودی مرد و زن اور بچے بوڑھے عقوبت خانوں میں سسک سسک کر ہلاک ہو گئے تھے۔

دوم یہ کہ گزشتہ چار پانچ ماہ میں اسرائیلوں نے غزہ کے سویلین فلسطینیوں پر جو مظالم ڈھائے ہیں ان کا زبانی کلامی ردِعمل تو بعض ملکوں نے دیا تھا اور بعض مسلم ممالک نے کھل کر اس کی مذمت بھی کی ہے لیکن اس ’مذمت‘ سے آگے کسی بھی سورما نے قدم نہیں بڑھایا۔ سوال یہ ہے کہ آیا مذمت کرنے سے کوئی ظالم، قاتل یا ستمگر اپنی جفا پروری سے باز آ سکتا ہے؟ اس کا جواب تو ترکی بہ ترکی ہونا چاہیے لیکن ایسا کون کرے گا؟…… مسلم امہ تو صدیوں سے اپنا وہ تشخص کھو چکی ہے جسے ’انٹرنیشنل بیلنس آف پاور‘ کہاجاتا ہے۔

سوم دنیا کے بیشتر ممالک کی طرف سے اقوامِ متحدہ کی سیکیورٹی کونسل میں ایک قرارداد پیش کی گئی تھی جس میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ فی الفور غزہ میں جنگ بند کر دے اور اس پر بمباری کر کے قتل و غارت گری کے اقدامات سے باز آئے۔ لیکن اس قرارداد کو امریکہ نے ویٹو کر دیا ہے!…… اقوام متحدہ میں امریکہ کی مستقل مندوب لِنڈا تھامس گرین فیلڈ (Linda Thomas Greenfield) نے اس قرارداد کے خلاف ووٹ دیتے ہوئے فرمایاہے کہ اس (قرارداد) کے پاس ہونے سے وہ ”حساس مذاکرات“ سبوتاژ ہو جائیں گے جو اس وقت دنیا کی بڑی طاقتوں کے نمائندوں کے درمیان غزہ کے مسئلے پر چل رہے ہیں۔ امریکی صدر پر زبردست دباؤ ہے کہ وہ اسرائیل کی حمائت سے ہاتھ روک لے۔ اس لئے مس لِنڈا کا کہنا ہے کہ امریکہ اس قرارداد کو ویٹو کرتا ہے اور ایک نئی قرارداد سیکیورٹی کونسل میں پیش کرتا ہے جس میں ”اس امر پر زور دیا گیا ہے کہ جب بھی غزہ کی صورتِ حال اس بات کی اجازت دے گی، وہاں عارضی جنگ بندی عمل میں لائی جائے گی“۔

لیکن اس قرارداد کا مسودہ جن لوگوں نے دیکھا اور پڑھا ہے ان کا تبصرہ ہے کہ اگر اسے سیکیورٹی کونسل کے کسی اجلاس میں پیش کیا گیا تو روس اس کو ویٹو کر دے گا!……

آپ نے دیکھا کہ اس مسئلے پر مشرقی اور مغربی ”بلاکوں“ میں کتنا تضاد ہے۔ جس قرارداد کو ایک بلاک کی حمایت حاصل ہے، دوسرا بلاک اس کو مسترد کر دیتا ہے۔ موجودہ قرارداد جس میں غزہ میں ”فوری جنگ بندی“ کی سفارش کی گئی تھی اسے مغربی بلاک نے ویٹو کر دیا اور اس کے خلاف جب دوسری قرارداد کا ذکر ہوا تو اسے مشرقی بلاک نے مسترد کرنے کا عندیہ دے دیا۔ایک عام قاری یہ سمجھے گا کہ یہ مسئلہ دونوں بلاکوں کے درمیان متنازعہ فیہ ہے۔ لیکن اس کی پشت پر جو گنجلک عناصر کار فرما ہیں ان کے بارے میں ساری دنیا کو خبر ہے۔ ساری دنیا جانتی ہے کہ 7اکتوبر 2023ء کو اسرائیل پر حماس کے حملے کے بعد امریکہ کا وزیرِ خارجہ (اور وزیر دفاع) بھاگم بھاگ یوروشلم اور تل ابیب پہنچے تھے اور یہودی حکومت کو اطمینان دلایا تھا کہ امریکہ (اور مغربی بلاک) کا اسلحہ بارود راہ میں  ہے،فکر نہ کریں اور بد دل نہ ہوں ……

کیا ان ایام میں روس بھی غزہ کے کسی شہر (مثلاً خان یونس وغیرہ) میں جا اترا تھا اور فلسطینیوں کو ڈھارس بندھائی تھی کہ ہم آپ کے ساتھ ہیں آپ مایوس نہ ہوں؟ سیکیورٹی کونسل کی کسی قرارداد کو ویٹو کرنا ایک بات ہے اور برسرِ جنگ کسی فریق کو اسلحی اور انصرامی امداد پہنچانا ایک بالکل جداگانہ صورتِ حال ہے۔ دوسرے لفظوں میں کہا جا سکتا ہے کہ ساری دنیا اسرائیل کے ساتھ ہے اور ساری دنیا غزہ کے فلسطینیوں کے خلاف ہے!

دوسرے لفظوں میں یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ عالمی طاقت کے ترازو کا پلڑا مغربی بلاک کے حق میں جھک رہا ہے۔یہ جھکاؤ کئی سو برس سے جاری و ساری ہے۔ جب تک ترازو کے دونوں پلڑے برابر نہ ہوں گے ان مسائل کا کوئی منصفانہ حل تلاش نہیں کیا جا سکے گا۔

اس طرح کے ’حل‘ کے لئے مشرقی بلاک (روس، چین اور ان کے دوسرے ہم نوا ملکوں) کو اپنے اندر وہ جنگی استعداد پیدا کرنی ہوگی کہ امریکہ کے مشرقی اور مغربی ساحلوں کو پار کرکے اس پر حملہ کیا جا سکے۔ دنیا کے نقشے کو اپنے سامنے پھیلائیں۔ آپ کو معلوم ہوگا کہ امریکہ کا مشرقی ساحل (Eastern Coast) روس یا چین سے کتنی دوری پر ہے اور پھر یہ سوال بھی سامنے رکھیں کہ کیا کوئی میزائل اس ساحل کو کراس کرکے امریکی سرزمین (Main Land)پر حملہ کر سکتا ہے؟…… اس کا جواب نفی میں ہوگا۔ امریکی مشرقی ساحل کی طرف کوئی حریف گراؤنڈ، ائر یا نیول حملے کی ہمت نہیں رکھتا۔

البتہ امریکہ کا مغربی ساحل،شمالی کوریا کے میزائلوں کی زد پر ہے۔ پیانگ یانگ سے لاس اینجلز پر میزائل حملہ کیا جا سکتا ہے۔ شمالی کوریا، جنوبی کوریا کے خلاف بھی کہ جو امریکہ کا اتحادی ہے،یہی حملہ کر سکتا ہے۔ لیکن اس حملے کا جواب اب تیسری عالمی جنگ ہوگا۔ کیا دنیا اس جنگ کے لئے تیار ہے؟

عالمی طاقتوں نے گزشتہ مہینوں میں یوکرین۔ روس کے مابین جنگ کا منظر نامہ دیکھ لیا ہے۔ امریکہ (اور اس کے ساتھ پورا مغربی یورپ یعنی برطانیہ، جرمنی، فرانس، پولینڈوغیرہ) اپنا سارا زورِ بازو اس جنگ میں آزما چکا ہے۔ اربوں ڈالر کا اسلحہ اور بارود یوکرین کو بھیج کر دیکھ چکا ہے کہ وہ کسی بھی ممکنہ عالمی جنگ میں مشرقی بلاک (روس اور چین) کو شکست نہیں دے سکتا۔

یہ کالم میں نے ایک ایسے قاری کے لئے لکھا ہے جو بین الاقوامی اور جیو سٹرٹیجک امور کا وہ شعور نہیں رکھتا جو مشرقی اور مغربی ممالک کے اشرافیہ کے دل و دماغ میں راسخ ہے۔ اس قاری کو خبر نہیں کہ عالمی طاقت کا توازن کیا ہے اور اس توازن کو برقرار رکھنے یا نہ رکھنے کے فوائد اور نقصانات کیا ہیں۔ …… انصاف کے پلڑے کا اندازہ صرف ماقبل جوہری دور، لگایا جا سکتا ہے۔ اگست 1945ء میں جاپان پر امریکہ کے جوہری حملے نے انصاف کے پلڑے  کو تھراتھراہٹ کا شکار کر دیا ہے۔ اب تو لوگ ”قیامت کی گھڑی“ کو دیکھ رہے ہیں کہ وہ آدھی رات کے بارہ بجے سے کتنے منٹ اور کتنے سیکنڈ پیچھے ہے!

فاعتبرو یا اولی البصار

مزید :

رائے -کالم -