چار سو کنفیوژن ہے، اداراتی بحران سر اٹھا چکا ، سبق سیکھنا کس کے وارے میں نہیں ۔۔؟ حفیظ اللہ نیازی نے ’’نظام نمبر 37‘‘ سے متعلق خدشات کا اظہار کر دیا

چار سو کنفیوژن ہے، اداراتی بحران سر اٹھا چکا ، سبق سیکھنا کس کے وارے میں ...
چار سو کنفیوژن ہے، اداراتی بحران سر اٹھا چکا ، سبق سیکھنا کس کے وارے میں نہیں ۔۔؟ حفیظ اللہ نیازی نے ’’نظام نمبر 37‘‘ سے متعلق خدشات کا اظہار کر دیا

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

لاہور ( خصوصی رپورٹ )  آج چار سو کنفیوژن ہے، اداراتی بحران 1971 کے بعدپہلی بار سر اٹھا چکا ،وطنی استحکام کا تعین اسٹیبلشمنٹ بمقابلہ عمران خان لڑائی کے فیصلہ کن نتیجہ سے نتھی ہے،سیاسی عدم استحکام کی کوکھ ہی سے ان سب بحرانوں نے جنم لیا۔ سبق سیکھنا اسٹیبلشمنٹ کے وارے میں نہیں۔سینئر تجزیہ کار و کالم نگار  حفیظ اللہ نیازی نے  ’’نظام نمبر 37‘‘  سے متعلق خدشات کا اظہار کر دیا ۔

 "جنگ " میں شائع ہونیوالے  کالم میں  انہوں نے  لکھا ہے کہ ریاستِ پاکستان کا چیلنج ایک ہی ،سیاسی استحکام چاہیے۔ حالیہ انتخابات کے نتیجے میں قائم نئی نویلی حکومت کامیابی کے جتنے مرضی جھنڈے گاڑ لے، ملکی سیاسی بحران کا حکومت کی ناکامی یا کامیابی سے تعلق نہیں بنتا۔ وطنی استحکام کا تعین اسٹیبلشمنٹ بمقابلہ عمران خان لڑائی کے فیصلہ کن نتیجہ سے نتھی ہے۔9 فروری کے انتخابات سے کوئی امید وابستہ نہ تھی۔ بار بار دہرایا، ایسے حالات میں، ’’الیکشن ہو بھی گئے تو ستیاناس، نہ ہو پائے تو سوا ستیاناس‘‘۔ وطن عزیز کا بحران نہ معاشرتی نہ معاشی نہ سفارتی، سیاسی عدم استحکام کی کوکھ ہی سے ان سب بحرانوں نے جنم لیا۔ تاریخ عالم پر نظر ڈالیں، سیاسی عدم استحکام میں ملک، قومیں تحلیل ہوئیں، دوسری طرف، سیاسی استحکام نے قوموں کو عروج دیا۔ قومیں چند ماہ میں ہلکان ہوتی ہیں نہ ہی مضبوط ، عروج و زوال کی کہانی کے پیچھے برسوں کی محنت درکار ہے ۔الیکشن سے پہلے کالم لکھا کہ’’70 سال میں 36 نظام آزما چکے،‘‘نظام نمبر 37 آزمانے کو جو ’’ وکھری ٹائپ‘‘ کا، پچھلوں سے یکسر مختلف ہوگا ۔ ہماری مقتدرہ کو ہمیشہ سے یہ زُعم کہ جو چاہا پا لیا ۔ نظامِ سیاست چلانے میں ضرورت سے زیادہ خود اعتمادی ، غلطیوں کا تجزیہ یا جائزہ لینے کے نظام کی عدم موجودگی ، سبق سیکھنا اسٹیبلشمنٹ کے وارے میں نہیں ۔ اداراتی بحران 1971 کے بعدپہلی بار سر اٹھا چکا ۔مقتدرہ کو یقیناً احساس ہوگا کہ وطنی طول و عرض خصوصاً پنجاب ، خیبر پختونخوا میں انتخابی ضلعی انتظامی مشینری انکے مفادات کیخلاف بھرپور ایکٹو رہی ۔ وجوہات کئی ، بڑی وجہ آخری کچھ ہفتے اسٹیبلشمنٹ کی ترجیح، ممکنہ حکومتوں کے خدوخال بنانے میں انکی مصروفیت دیدنی تھی ۔

کالم میں حفیظ اللہ نیازی نے مزید لکھا کہ اسٹیبلشمنٹ کو انتخابی حکمت عملی اور ممکنہ حکومتوں کا سکرپٹ بھی بار بار تبدیل کرنا پڑا۔ عمران خان کی اقتدار سے علیٰحدگی سے 8 فروری انتخابات تک، اسٹیبلشمنٹ کا فیصلہ، ہر قدم عمران خان کو مضبوط کر گیا ۔ حتیٰ کہ آج’’سانحہ 9 مئی‘‘ جیسا واقعہ بھی عمران خان کی مقبولیت کا کچھ نہیں بگاڑ سکا۔سوشل میڈیا پر جھوٹ یلغار ( پاکستان دشمن عناصر گوڈے گوڈے ملوث ) نے ایسا فرضی اور سطحی ہیولا بنایا کہ عوام الناس مع انتخابی انتظامی مشینری باآسانی ترنوالہ بن گئے۔ سوشل میڈیا بندش پر سندھ ہائیکورٹ چیف جسٹس کے ریمارکس ہر لحاظ سے عدالتی تجاوز سمجھے جائیں گے ۔ بصد احترام ! جج صاحب کا سوشل میڈیا سے سحر زدہ ہونا ، طبیعت مکدر کر گیا ۔ ایسے وقت کہ قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف ایک سیاسی جماعت مذہبی منافرت پر استوار سوشل میڈیا مہم زوروں پر چلا رہی ہے ، بڑے بڑے بہک گئے ۔ کئی عالم دین بغیر تحقیق کئےاس میں کود پڑے ہیں ۔ 6/7 سال قبل بھی کچھ سیاسی لیڈران کے غیر ذمہ دار بیانات بذریعہ سوشل میڈیا ، (ن) لیگ کے قائدین کی زندگیاں خطرے میں ڈالے رکھیں ۔ اب تو ہر حد ٹاپ لی ، سوشل میڈیا کے مذموم ہاتھ چیف جسٹس آف پاکستان تک پہنچ چکے ہیں۔ کیا چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ لا علم ہیں ؟ انکا سیخ پا ہونا سمجھ سے بالاتر ہے ۔ ریاست آج عملاً سوشل میڈیا کی یرغمال ہے ۔ایک طرف ہماری اسٹیبلشمنٹ حکومت کی تعمیر و تشکیل میں منہمک ، انتخابی نتائج سے پہلے اسکی ترتیب و تقسیم میں مستغرق رہی ۔ دوسری طرف انتخابات اور امابعد ماحول سوشل میڈیا نے ہائی جیک کر رکھا ہے، ملک میں عدم استحکام کی اَت مچا رکھی ہے ۔ بد قسمتی سے اصل مسئلہ اسٹیبلشمنٹ سے اوجھل ہے ۔ شروع میں اسٹیبلشمنٹ نے نواز شریف کو وفاق میں اکثریت اور چاروں صوبوں میں حکومت دینی تھی۔ پھر منقسم مینڈیٹ کو تریاق سمجھا گیا ۔ آج چار سو کنفیوژن ہے ۔

کالم کے آخرمیں حفیظ اللہ نیازی نے لکھا کہ دل پر پتھر رکھ کر تسلسل سے اعتراف کرتا رہا ہوں کہ ملکی سیاست کا محور عمران خان بن چکا ہے ۔ عمران خان کا اپنا کمال نہ قصور ، سارا کریڈٹ اسٹیبلشمنٹ کو دینا ہوگا ، محنت مشقت سے’’مقام خواجگی‘‘تک پہنچا یا ہے ۔ چند سال پہلے ، دسمبر 2021 تک ملکی سیاست خصوصاً پنجاب کی سیاست کا محور ومرکز نواز شریف ہی تو تھے ۔ عمران خان کے اپنے اعترافی بیانات بھی موجود کہ’’سیاست میں دھتکارا جا چکا ہوں‘‘ ۔ وہ کونسے عوامل تھے کہ ایک بد ترین ، بدعنوان ، نااہل کرپٹ حکمران کے سیاسی مردے میں جان پڑ گئی ۔ راکٹ سائنس نہیں ، نواز شریف کا اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیہ عمران خان کو جیسے ہی منتقل ہوا ، عمران خان کیلئے تریاق ثابت ہوا ۔ جنرل باجوہ کی حکمت عملی نے جہاں عمران خان کو دیوہیکل سیاستدان بنایا وہاں تمام سیاسی جماعتوں خصوصاً نواز شریف سیاست، سب غیر متعلقہ بن گئے۔ قبیح فعل میں عمران خان مخالف سیاسی جماعتیں بری الذمہ نہیں ، انہوں نے فراخدلی سے حصہ بقدر جثہ ڈالا ۔ حیف ! چند ماہ کے اقتدار کیلئے نواز شریف کی 40 سالہ سیاست روند ڈالی ۔

آج وطنی تقدیر 8فروری انتخابات یا نئی حکومت سے نہیں ، عمران خان اسٹیبلشمنٹ لڑائی کے نتیجہ سے متعلق ہے ۔ مسلم لیگ ن کے اگلے 5 سال بارے میری پیشگوئی، انکی پچھلی 16 ماہ حکومت سے غیر مقبولیت میں کسی طور پیچھے نہیں رہے گی ۔ شومئی قسمت ، نواز شریف نے بوجوہ ایسے وقت ہتھیار ڈال دیئے جبکہ پاکستان کو انکی اشد ضرورت تھی ۔   میرا خدشہ، ’’نظام نمبر 37‘‘ کا بحران ، مملکت کو کسی بڑے سانحہ سے دوچاررکھ سکتا ہے۔