پاکستان نے عالمی عدالت انصاف میں اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم پر سوال اٹھا دیا

پاکستان نے عالمی عدالت انصاف میں اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم پر سوال اٹھا ...
پاکستان نے عالمی عدالت انصاف میں اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم پر سوال اٹھا دیا

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

دی ہیگ (ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان نے عالمی عدالت انصاف میں اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم پر سوال اٹھا دیا۔

پاکستان کے نگران وزیر قانون و انصاف احمد عرفان اسلم نے عالمی عدالت میں پاکستان کا مؤقف پیش کیا۔

پاکستانی نمائندے نے کہا کہ اسرائیلی بستیاں بین القوامی قوانین کے خلاف قرار دی جا چکی ہیں۔ 1960 میں الجیریا میں فرانس کی بستیاں ختم کی گئیں اور لاکھوں فرانسیسی آباد کاروں کو وہاں سے نکالا گیا۔اسرائیل فلسطینیوں کے خلاف مذہبی اور نسلی بنیادوں پر تعصب کا ارتکاب کر رہا ہے۔

پاکستانی نمائندے نے کہاکہ بیت المقدس کا شہر تینوں ابراہامی مذہب کے لیے مقدس ہے اور تینوں مذہب کے افراد کے شہر میں داخل کا تاریخی حق موجود ہے، لیکن اسرائیلی قبضے کے دوران عیسائیوں کو بھی بیت المقدس کے گرجا گھروں اور مسلمانوں کو مسجد الاقصیٰ میں عبادت کی اجازت نہیں دی جا رہی، یہ معاملہ پاکستان کے لیے بہت اہم ہے جو آبادی کے لحاظ سے دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہے۔

احمد عرفان اسلم نے کہاکہ ان کا پانچواں اور آخری نقطہ یہ ہے کہ مسئلہ فلسطین کا دو ریاستی حل نکالا جائے، پاکستان اس حل کی حمایت کرتا ہے، 26 اکتوبر 2023 کو اس حوالے سے پاکستان نے جنرل اسمبلی کی قرار کی حمایت کی۔

نگران وزیرِ قانون احمد عرفان نے کہا کہ پاکستان سمجھتا ہے کہ 2 ریاستی حل سے ہی یہ تنازحہ ختم ہوسکتا ہے، فلسطینی اور اسرائیلی ریاستیں کی موجودگی دونوں اکائیوں اور خطے کے امن کی ضمانت ہے، قبضہ غیر قانونی عمل ہے جس کے قانوںی نتائج کا سامنا اسرائیل کو کرنا پڑے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل منظم طریقے سے فلسطین میں نسل کشی کررہا ہے، تمام ممالک اسرائیل کی ناانصافیوں کو مسترد کرتے ہیں، اسرائیل کے غاصبانہ قبضے کی اقوام متحدہ نے مذمت کی۔