مری کا  موسم عاشقانہ تھا، جوانی نقطۂ عروج پر تھی، خوبصورت کپڑے بھی تھے بس نہیں تھا تو وقت، سر جھکا کر گھوڑے کی طرح کام میں ہی مصروف رہتے

مری کا  موسم عاشقانہ تھا، جوانی نقطۂ عروج پر تھی، خوبصورت کپڑے بھی تھے بس ...
مری کا  موسم عاشقانہ تھا، جوانی نقطۂ عروج پر تھی، خوبصورت کپڑے بھی تھے بس نہیں تھا تو وقت، سر جھکا کر گھوڑے کی طرح کام میں ہی مصروف رہتے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف:محمد سعید جاوید
قسط:191
 جیسا کہ پہلے ذکر ہوا، جعفری بہت رنگین مزاج تھا اور اس نے اپنی اس خصوصیت کو کبھی چھپانے کی سنجیدہ کوشش بھی نہیں کی تھی، وہ روزانہ پروٹوکول ڈیوٹی یا بزنس میٹنگ کا بہانہ بنا کر غائب ہو جاتا اور نوخیز دوشیزاؤں کے ساتھ اچھا وقت گزار کر واپس آجاتا۔ اس دوران جب کوئی ہم سے اس کے بارے میں پوچھتا تو ہم رٹے رٹائے الفاظ دوہرا دیتے کہ وہ کسی سرکاری کام کے سلسلے میں باہر گئے ہوئے ہیں۔
اس کے اکثر باہر رہنے کی وجہ سے برانچ چلانے کی ساری ذمہ داریاں میرے سر پر آگئی تھیں کیونکہ میں وہاں کا سیکنڈ آفیسر تھا۔ میرے فرائض میں بڑے فیصلے کرنا بھی شامل تھا جس کی اجازت جعفری نے مجھے دے دی تھی اور میرے ہر صحیح اور غلط کام کی ذمہ داری اپنے سر لینے کا وعدہ بھی کیا تھا۔
ہمارا تھرڈ آفیسر ہمدانی راولپنڈی کا تھا بہت ہی نفیس اور زندہ دل شخص تھا۔ اس کی عمر 30 برس سے زیادہ نہیں لگتی تھی لیکن ایک دن اس نے تقریباً اپنے ہی جتنے لمبے تڑنگے لڑکے کو اپنا بیٹا کہہ کر ہم سے تعارف کروا کر حیرت زدہ کر دیا۔ پھر بتایا کہ اس کی شادی 17 سال کی عمر میں ہی کر دی گئی تھی اور یہ اس کا پہلا بیٹا تھا۔ وہ میرے آنے سے پہلے ہی وہاں تعینات تھا اور جعفری کو خوب سمجھتا تھا۔ جب بھی کوئی حسینہ جعفری کے کیبن کی طرف بڑھتی تو وہ سر جھکا کر کام کرتے ہوئے آہستہ آہستہ گنگنا کر اندر جاتی ہوئی مہمان کو خبردار کیاکرتا تھا۔ یہ اس کا ایک بڑا ہی پسندیدہ گانا تھاجو اس نے ایسے موقعے کی مناسبت سے ایک ملی ترانے سے متاثر ہو کر خود ہی ترتیب دیا تھا کہ ”کبھی بھول کر نہ جانا ان سرحدوں کی جانب۔“ اسی طرح اگر کوئی بڑی عمر کا بندہ اپنی بیٹی کو لے کر جعفری کے کیبن کی طرف جاتا تو وہ زیر لب بڑبڑاتا رہتا کہ ”اے نیک دل انسان، ابھی بھی وقت ہے انھی قدموں سے پلٹ جا۔بڑا پچھتائے گا بعد میں۔“
جعفری یہ سب کچھ سنتا، سمجھتا اور اپنی گھنی مونچھوں تلے اپنا ٹوٹا ہوا دانت ہونٹوں میں دبائے معنی خیز انداز میں مسکراتا رہتا تھا۔ ویسے بھی طویل عرصے سے ساتھ رہنے کی وجہ سے وہ دونوں آپس میں کافی بے تکلف تھے۔ جعفری کے بارے میں بینک کی حد تک تو مشہور تھا کہ جوبھی کوئی تنہا لڑکی اس کے کیبن کی طرف گئی شام کو وہ جعفری کے ساتھ کسی ریسٹورنٹ میں کافی پیتی ہوئی پائی جاتی تھی۔
مری میں سیزن بڑا ہی رنگین ہوتا تھا، ہم لوگ بھی روزانہ رنگ برنگی قمیضیں اور نئی نئی ٹائیاں لگا کر جاتے تھے جو ہم سیزن کے شروع ہونے سے قبل پنڈی کے لنڈا بازار سے لاتے تھے۔ اتوار کی صبح کو جب باہر سے آئے ہوئے کپڑوں کی گانٹھیں کھلتیں تو ہم سب سے پہلے وہاں پہنچ کر اچھی چیزوں پر قبضہ کر لیتے تھے۔
موسم بھی عاشقانہ تھا، جوانی بھی نقطہئ عروج پر تھی، خوبصورت کپڑے بھی تھے بس نہیں تھا تو وقت نہیں تھا اس لیے سر جھکا کر گھوڑے کی طرح کام میں ہی مصروف رہتے۔ بڑے بڑے لوگوں سے ملاقات بھی ہوتی تھی جس میں فلمی ستارے، شاعر، گلوکار وغیرہ بھی بینک آتے تھے۔ ایک دفعہ غلام علی14 اگست کی محفل میں شامل ہونے آئے جو خوفناک بارش کی وجہ سے منسوخ کرنا پڑ گئی تھی۔ واپسی کے راستے بھی مسدود ہوئے تو جعفری نے اصرار کر کے غلام علی کو رات اپنے گھر میں ٹھہرا لیا۔ وہیں پہلی دفعہ میں نے انھیں قریب سے دیکھا، سنا اور سمجھا۔ ان کا رنگ سانولا، قد چھوٹا اور چہرہ چیچک کے داغوں سے بھرا ہوا تھا۔ اس وقت وہ استاد یا خان صاحب بھی نہیں بنے تھے۔ عاجزی ان کے اندر کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی لہٰذا جب جعفری نے چند قریبی دوستوں کی ایک چھوٹی سی محفل میں اپنے فن کارنگ جمانے کی درخواست کی تو انھوں نے فوراً ہی سرتسلیم خم کیا اور صبح تک گاتے رہے۔ اس سے پہلے مجھے کلاسیکل موسیقی نے کبھی بھی متاثر نہیں کیا تھا لیکن اس روز غلام علی نے بڑے صبر و تحمل سے دونوں کا فرق سمجھایا اور پھر گا کر مزید واضح کیا۔بس اسی دن سے میں بھی کلاسیکی موسیقی کا اسیر ہو گیااور کچی پکی غزلیں سننا شروع کر دیں۔(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

ادب وثقافت -