ہم میں سے کوئی بھی معاشرے کو اپنی مرضی اور خواہش کے مطابق نہیں ڈھال سکتا، لیکن ہر شخص اپنی قسمت خود بنا سکتا ہے، خوشیاں تلاش کر سکتا ہے

ہم میں سے کوئی بھی معاشرے کو اپنی مرضی اور خواہش کے مطابق نہیں ڈھال سکتا، ...
ہم میں سے کوئی بھی معاشرے کو اپنی مرضی اور خواہش کے مطابق نہیں ڈھال سکتا، لیکن ہر شخص اپنی قسمت خود بنا سکتا ہے، خوشیاں تلاش کر سکتا ہے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف:ڈاکٹر ڈیوڈ جوزف شیوارڈز
ترجمہ:ریاض محمود انجم
 قسط:9
اکثر والدین اپنے بچوں کو ایک حقیقی اور سچی خوشحال زندگی بسر کرنے کی کوشش کی صرف اس لیے حوصلہ شکنی کرتے ہیں کہ ان کی نظر میں ایسی کوئی کوشش ممکن ہی نہیں ہے، لہٰذا، وہ اپنے بچوں کو یہ کہتے ہیں کہ وہ اپنی اس معمولی زندگی اور کامیابی پر ہی اکتفا کریں اور قناعت کریں۔ یہ والدین اپنے بچوں کو یہ نہیں بتاتے کہ موجودہ زمانے کے اکثر امیر لوگ کسی زمانے میں غریب تھے اور ان کے پاس مال و دولت کی انتہائی کمی تھی۔ آج کے اس عہد جدید کے بڑے بڑے اور خوشحال کاروباری اداروں مثلاً میک ڈونالڈز (McDonald's)، فورڈ (Ford)، کنیٹکی فرائیڈ چکن (Kentucky Fried Chicken) اور ایموے (Amway) کے مالکان نے اپنے کاروبار نہایت ہی قلیل سرمائے سے شروع کیے تھے۔ مزید برآں، امریکہ کے تقریباً تمام سابق صدور، مثلاً کولج (Coolidge)، ہور (Hoover)، ٹرومین (Truman)، آئزن ہاور (Eisenhower)، جانسن (Johnson)، نکسن (Nixon)، فورڈ (Ford)، غریب کا متوسط گھرانوں سے تعلق رکھتے تھے۔ جدید زمانے کے صدور،کارٹر (Carter) اور ریگن (Reagan) کے علاوہ زمانہ قدیم کے صدور روز ویلٹ (Roosevelt) اور کینیڈی (Kenedy)، استثنا کی نوعیت کے حامل ہیں۔ جن کا تعلق خوشحال خاندانوں سے تھا۔
صاحبان فکر و دانش ہمیں کم سوچنے کا مشورہ دیتے ہیں:
جن لوگوں کی سوچ اور خیالات، ہماری سوچ اور خیالات پر حاوی ہوتی ہے، وہ ہمیں یہ مسلسل باور کراتے رہتے ہیں کہ زمانے کے حالات بدترین صورت اختیار کررہے ہیں، معاشرہ زوال پذیر ہونے کو ہے، جنگ کو اب کوئی بھی نہیں ٹال سکتا، جرائم میں اضافہ ناگزیر ہوچکا ہے، زہریلی بیماریاں اور وباء کی امراض ہمیں جلد یا بدیر اپنا نشانہ بنالیں گی۔ اکثر فکری رہنما، استاد، ماہرینِ معاشیات، ادارتی صفحات کے مصنفین، ناول نگار، تنقید نگار، سیاستدان اور ماہرینِ منصوبہ بندی، یہ تمام فکری راہنما، بُری اور منفی خبریں پھیلانے کے ماہر ہیں۔ استاد بچوں کو یہ بتاتے ہیں کہ وہ اس قسم کی ملازمتیں تلاش کریں، جہاں سے وہ بیروزگار نہ ہو سکیں اور انہیں معاوضہ اور تنخواہ بھی اچھی اور مناسب ملے، استاد بچوں کو یہ نہیں بتاتے کہ وہ ایسی ملازمتیں تلاش کریں جہاں وہ اپنی کاکردگی اور صلاحیتوں کے ذریعے کامیابی حاصل کریں اور بہتر و مناسب معاوضہ اور تنخواہ حاصل کریں۔ اکثر ماہرینِ معاشیات یہ پیش گوئی کرتے ہیں کہ معاشی حالات بد سے بدترین ہوتے جارہے ہیں اور ہمیں یہ کہتے ہیں کہ ہم اپنے گوداموں میں خراب نہ ہونے والی اشیائے خوردونوش ذخیرہ کر لیں، اور پھر ادارتی صفحات کے مصنفین، زندگی میں بہتری لانے والی بیشتر تجاویز اور آراء کو اپنی تنقید کا نشانہ بناتے ہیں، اور پھر سیاستدان، عوام سے وہ وعدے کرتے ہیں جو وہ ایفا بھی نہیں کر سکتے۔
ہم میں سے کوئی بھی اپنے معاشرے یا معاشی حالات کو اپنی مرضی اور خواہش کے مطابق نہیں ڈھال سکتا۔ لیکن ہم میں سے ہر شخص میں اس قدر صلاحیت اور قابلیت موجود ہے کہ وہ اپنی قسمت خود بنا سکتا ہے، اپنے معاشی حالات خود وضع کر سکتا ہے اور اپنے لیے خوشیاں اور مسرتیں تلاش اور حاصل کر سکتا ہے۔ ہم اپنے متوقع حالات کو کس طرح اپنی مرضی کے تابع بنا سکتے ہیں، کس طرح ان حالات و واقعات کو اپنی مرضی و خواہش کے مطابق ڈھال سکتے ہیں، یہی اس کتاب کا بنیادی اور مرکزی پیغام ہے۔ اس کتاب میں درج رہنما نکات کو اپنائیے، ان پر عمل کیجئے اور پھر اچھے اور بہترین حالات آپ کے قدم چُومیں گے۔ (جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

ادب وثقافت -