کراچی میں قتل و غارت، بلوچستان میں گورنر راج اورفاٹا میں ہلاکتوں پر سینٹ سے واک آﺅٹ

کراچی میں قتل و غارت، بلوچستان میں گورنر راج اورفاٹا میں ہلاکتوں پر سینٹ سے ...
کراچی میں قتل و غارت، بلوچستان میں گورنر راج اورفاٹا میں ہلاکتوں پر سینٹ سے واک آﺅٹ

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) کراچی میں امن وامان کے مسئلہ ، بلوچستان میں گورنر راج کے نفاذ اور خیبرایجنسی سے اٹھارہ افراد کی لاشوں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ن لیگ ، جے یو آئی اور فاٹااراکین سینٹ کے اجلاس سے واک آﺅ ٹ کرگئے اور وقفہ سوالات کے بعد اجلاس جمعرات کی صبح تک ملتوی کردیاگیا۔چیئرمین سینٹ نیئر حسین بخاری کی زیرصدارت ہونیوالے اجلاس میں کراچی میں قتل و غارت اور ا من و امان کی مخدوش صورتحال کے خلاف مسلم لیگ ن نے، جے یو آئی کے اراکین نے بلوچستان میں گورنر راج اور ہنگامی حالت کے خلاف جبکہ خیبر ایجنسی میں اٹھارہ افراد کی ہلاکت پر فاٹا کے اراکین سینیٹ اجلاس سے واک آﺅٹ کرتے ہوئے ایوان سے باہر چلے گئے۔ن لیگ کے راجہ ظفر الحق کا کہنا تھا کہ ملک میں ہر طرف افراتفری نظر آرہی ہے،فاٹا ، خیبرپختونخواہ ہو یا کراچی کوئی پوچھنے والا نہیں۔ کراچی میں بیس افراد قتل کیے گئے جن میں مسلم لیگ ن کے کارکن بھی شامل ہیں۔ انہوں نے امن وامان کی بحالی کے لیے سنجیدہ اقدامات پر زور دیا۔ جے یو آئی کے اراکین نے مطالبہ کیا کہ بلوچستان میں گورنر راج کا حکم نامہ واپس لیا جائے۔سینیٹ میں وزیر قانون فاروق ایچ نائیک نے وقفہ سوالات کے تحریری جوابات میں ایوان کو بتایا کہ الیکشن کمیشن نے وزارت خزانہ سے عام انتخابات کے لیے پانچ ارب ننانوے کروڑ چھیانوے لاکھ روپے کی اضافی گرانٹ طلب کی ہے۔ یہ رقم الیکشن الاﺅنس ، پولنگ سٹیشنوں میں تبدیلی، ڈی آر اوز اور آر اوز کے ٹیلی فون اخراجات ، الیکشن کمیشن کے عملے کے اعزازیے، بیلٹ بکس، ووٹنگ سکرین کی خریداری ، تشہیری مہم اور دیگر اخراجات کی مد میں طلب کی گئی ہے۔بعدازاں سینیٹ کا اجلاس کل صبح ساڑھے دس بجے تک ملتوی کردیا گیا۔

مزید :

اسلام آباد -اہم خبریں -