نیا صوبہ بنانے کا مطالبہ تسلیم نہ کیاگیا تو بلوچستان جیسے حالات پیدا ہونے کا خدشہ ہے:گورنر پنجاب

نیا صوبہ بنانے کا مطالبہ تسلیم نہ کیاگیا تو بلوچستان جیسے حالات پیدا ہونے کا ...
نیا صوبہ بنانے کا مطالبہ تسلیم نہ کیاگیا تو بلوچستان جیسے حالات پیدا ہونے کا خدشہ ہے:گورنر پنجاب

  

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک)گورنر پنجاب مخدوم احمد محمود نے اپنے گروپ کی پیپلز پارٹی میں شمولیت کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ جنوبی پنجاب کو علیحدہ صوبہ بنانے کا ان کا مطالبہ تسلیم نہ کیا گیا تو ملک دشمن لوگوں کے سراٹھا نے سے بلوچستان جیسے حالات پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ان کے بیٹوں نے پیپلز پارٹی میں غیر رسمی شمولیت کی ہے۔ پارلیمنٹ کی مدت پوری ہونے پر ان کا پورا سیاسی گروپ پیپلز پارٹی میں باقاعدہ شمولیت اختیار کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنی 30سالہ سیاسی زندگی گذار چکے ہیں۔ اب ان کے بیٹوںکوحمزہ شہباز، مریم نواز، مونس الٰہی اوربلاول بھٹو میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھاکہ بلاول بھٹو کی شکل میں پیپلز پارٹی کے پاس متحرک پڑھی لکھی نوجوان قیادت موجود ہے۔ احمد محمود نے کہا کہ گورنر بننے کی مسلم لیگ فنکشنل کے سربراہ صبغت اللہ شاہ نے اجازت دی تھی لیکن بیٹے کو پارٹی کا صوبائی صدر بنانے کے انکار پر انہیں محسوس ہوا کہ نئی قیادت کے دل میں ان کے لئے جگہ نہیں ہے۔ گورنر نے کہا کہ جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے پر تمام جماعتوں میں اتفا ق ہے۔ مسئلہ نام کا ہے، جسے نئے صوبے کی اسمبلی پر چھوڑا جاسکتا ہے۔ انہوںنے کہا کہ جنوبی پنجاب کا مطالبہ کرنے والے وکیلوں میں سے ایک وہ بھی ہیں۔ جنوبی پنجاب سے مراد ڈیرہ غازی خان، ملتان اور بہاولپور ڈویڑنز کے اضلاع ہیں۔

مزید :

لاہور -