محمد فتح اللہ گلن کون ہیں اور حزمت تحریک کیا ہے؟

محمد فتح اللہ گلن کون ہیں اور حزمت تحریک کیا ہے؟
محمد فتح اللہ گلن کون ہیں اور حزمت تحریک کیا ہے؟
کیپشن: aslam

  

محمد فتح اللہ گلن ترک مسلم سکالر ، دانشور، مصنف، مفکر، مبلغ اور مصلح ہیں۔ عصرِِ حاضر کے اسلامی دنیا کے نامور اور مشہور عالموں میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ 2008ء سے انہیں دنیا کا ٹاپ پبلک دانشور کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ ترکی کو تعلیم یافتہ،تہذیب یافتہ اور ترقی یافتہ بنانے میں ان کا بڑا اہم کردار ہے۔انہوں نے اپنی شبانہ روز محنت، سوچ، فکر اور عمل سے ترک معاشرے میں ایک مثبت اور تعمیری انقلاب پیدا کردیا ہے جو نہ صرف مسلم دنیا میں ایک قابل تقلید مثال ہے، بلکہ پوری دنیا کے لئے قابل رشک ہے۔محمد فتح اللہ گلن کے افکار کے تحت تجویز کردہ ہزاروں سکول، کالج، یونیورسٹیاں، اخبارات، رسائل و جرائد، ٹی وی سٹیشن، ہسپتال، شفاخانے، مکالمہ مرکز اور رفاعی وفلاحی ادارے آج پوری دنیا میں قائم ہیں اور پوری تندہی، محنت اور مشینری سے ان کی سوچ اور فکر کے اس مثبت خاموش انقلاب کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ان اداروں کے عظیم اور وسیع نیٹ ورک کو نہ صرف ترکی کے عوام کی پذیرائی اور سرپرستی حاصل ہے، بلکہ ان اداروں کے کردار اور اہمیت کو پوری دنیا میں سراہا جا رہا ہے۔

محمد فتح اللہ گلن 1938 ءکو ترکی کے شہر ارض روم میں ا یک دیندار اور قابل احترام گھرانے میں پیدا ہوئے۔آپ کے والد رامز آفندی علمی، ادبی اور دینی حلقوں میں احترام کی نظر سے دیکھے جاتے تھے، جبکہ والدہ محترمہ رفیعہ خانم دین داری اور قوت ایمانی کی وجہ سے مشہور تھیں۔محمد فتح اللہ گلن نے قرآن مجید اپنی والدہ ماجدہ سے اور فارسی اور عربی اپنے والد محترم سے سیکھی۔آپ کے والد کے حلقہءاحباب میں اس وقت کے معروف علماء،مفکرین اور صوفیاءشامل تھے، جس کی وجہ سے انہیں بچپن ہی سے ان سے فیض یاب ہونے کا موقع ملا۔آپ نے اپنی ابتدائی تعلیم ایک دینی مدرسے سے حاصل کی۔ دینی علوم کے ساتھ ساتھ روحانی علوم، عربی گرائمر بلاغت، فقہ، فلسفہ، سائنس اور دیگر مروجہ علوم اپنے وقت کے مشہور اور عظیم اساتذہ سے پڑھے۔دوران تعلیم آپ نے بہت سے عظیم اساتذہ ،علماءاور مفکرین سے فیض حاصل کیا۔

محمد فتح اللہ گلن نے اپنی علمی زندگی کا آغاز ایک امام اور خطیب کے طور پرکیا اور جلد ہی ترکی کے مشہور ترین واعظ اور خطیب بن گئے۔آپ قوم و ملک کا دور رکھنے والے انسان تھے اور چاہتے تھے کہ لوگوں اور قوم کے لئے عملی طور پر کچھ کرکے دکھائیں، لہٰذا آپ نے اپنے واعظوں اور خطبوں میں ملک کے طول و عرض میں تعلیمی ادارے، سکول،کالج اور یونیورسٹیاں قائم کرنے کی ترغیب دی جو بڑی کارگر ثابت ہوئی ۔لوگوں نے بڑا مثبت ردعمل دیتے ہوئے ان پر عمل کرنا شروع کردیا۔آپ خود بھی اپنی تنخواہ کے پیسے مستحق اور ذہین طالب علموں کو دے دیتے تھے اور ان کی ضروریات پر خرچ کرتے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ سمجھ کے ساتھ ایک سکول بھی ہونا چاہیے، جہاں بچوں کو مذہب، سائنس اور کردار کی تعلیم دی جائے۔انہوں نے نوجوانوں کو استاد کا پیشہ اختیار کرنے کا مشورہ دیا اور ہدایت کی وہ ملک کے روشن مستقبل کے لئے نوجوان نسل کی معیاری تربیت کریں، انہیں بدعنوانی، بددیانتی، کرپشن، رشوت، جھوٹ، دغا فریب اور ہوس و لالچ کی بجائے ایک سچا ،محب وطن اور دوسروں کے لئے فائدہ مند شہری بنائیں۔آپ کی یہ کوششیں بارآور ثابت ہوئیں اور دیکھتے ہی دیکھتے ترکی اور ترکی کے باہر پوری دنیا میں طلباءو طالبات کے لئے ہوسٹل اور تعلیمی اداروں کے ساتھ فلاحی ادارے قائم ہونا شروع ہو گئے۔

آپ کی ترغیب سے لوگوں نے ترکی کے مقامی اور بین الاقوامی قوانین کے تحت ہرجگہ بے شمار ادارے قائم کئے، جن میں ہزاروں سکول، کالج، بیسیوں یونیورسٹیاں، متعدد ٹی وی سٹیشن، اخبارات، رسائل و جرائد، مراکزِ مکالمہ، فلاحی ادارے اور بے شمار تنظیمیں شامل ہیں۔یہ سب ادارے اور تنظیمیں بغیر کسی مالی ، مادی، سیاسی اور مذہبی مفاد کے پوری دنیا میں بغیر رنگ و نسل اور مذہب کی تفریق کئے اپنی خدمات بڑے احسن طریقے سے سرانجام دے رہے ہیں۔محمد فتح اللہ گلن ایک مشہور شاعر، ادیب، مصنف اور مولف بھی ہیں۔انہوں نے 60سے زائد کتب لکھی ہیں، جن میں سے اکثر کتب کو بہترین اور پسندیدہ کتابوں کا درجہ بھی مل چکا ہے۔آپ نے تقریباً تمام موضوعات پر لکھا ہے۔ان کی بہت سی کتب کے اردو ، فارسی، انگریزی، عربی، چینی، روسی، جرمنی، فرانسیسی، اطالوی اور دیگر 35سے زائد زبانوں میں تراجم ہو چکے ہیں اور دیگر زبانوں میں بھی انہیں ڈھالا جا رہا ہے۔

76سالہ محمد فتح اللہ گلن اب بھی حیات ہیں اور انسانی خدمت کے اس مشن کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ عارضہ ءقلب ،دیگر بیماریوں اور اسباب کی وجہ سے وہ گزشتہ کئی سال سے امریکہ میں مقیم ہیں۔انہیں پنجاب یونیورسٹی سمیت دنیا کی بہت سی نامور یونیورسٹیوں نے اعزازی ڈاکٹریٹ کی ڈگریاں عطا کررکھی ہیں۔دنیا کے بہت سے ممالک میں، جیسے انڈونیشیا، ملائیشیا، امریکہ اور یورپ میں ان کے افکار و خدمات پر تحقیق کے لئے گلن انسٹی ٹیوٹ قائم ہیں۔بہت سی اعزازی سندیں اور چیئرز بھی قائم ہیں۔محمد فتح اللہ گلن خود ایک ٹرسٹ کی عمارت میں رہتے ہیں اور اس کا باقاعدہ کرایہ ادا کرتے ہیں۔آپ کا کہنا ہے کہ دنیا میں موجود تمام مسائل کا حل جہالت کے خاتمے ،علم اور تعلیم کے حصول میں ہے اور حقیقی علم وہ ہے جو انسان کی سوچ، فکر اور دل و دماغ کو روشن کر دے۔

وہ تحریک جو محمد فتح اللہ گلن کے افکار سے ترکی میں شروع ہوئی اور آج پوری دنیا میں جس کے تحت ہزاروں تعلیمی ادارے، فلاحی ادارے اور رفاہی تنظیمیں قائم ہیں۔اس تحریک کو حزمت تحریک کا نام دیا جاتا ہے۔حزمت ترکی زبان کا لفظ ہے، جس کے معنی ہیں، خدمت ،یعنی دوسرے لفظوں میں اس تحریک کا نام خدمت تحریک ہے۔یہ تمام ادارے اور تنظیمیں اپنا ایک آزاد وجود رکھتی ہیں اور محمد فتح اللہ گلن کا ان سے تعلق صرف فکری ہے۔ان اداروں کو مختلف آزاد فاﺅنڈیشنیں چلاتی ہیں، جن کے فنڈ ترکی سمیت پوری دنیا سے مخیر حضرات فراہم کرتے ہیں۔اس تحریک کے تحت لاکھوں غریب طلباءو طالبات کو وظائف دیئے جاتے ہیں۔دنیا میں جہاں بھی قدرتی آفت ، مصیبت یا تکلیف آئے تو اس تحریک کے ذیلی ادارے وہاں فلاحی اور امدادی کام کے لئے پہنچ جاتے ہیں۔

حزمت تحریک ایک فلاحی، رفاہی، سماجی ، معاشرتی، تعلیمی اور انسانی تحریک ہے، جس کا اولین مقصد انسانیت کی خدمت کرنا ہے۔اس تحریک کا تعلق سیاست، مذہب یا کسی گروہ یا گروپ سے نہیں، بلکہ اس کا مشن دنیا میں امن و امان، دوستی، بھائی چارہ، ہم آہنگی، خوشحالی اور علم کا فروغ ہے۔اس تحریک کی خوبصورتی یہ ہے کہ اس سے وابستہ تمام افراد رضا کارانہ طور پر اپنی خدمات سرانجام دیتے ہیں اور ان کا مقصد پیسے یا عہدے کا حصول نہیں ہے۔حزمت تحریک سے وابستہ لوگوں کا مقصد صرف رضائے الٰہی ہے اور اس تحریک کے رضا کار بغیر کسی رنگ و نسل، جغرافیے، مذہب، کلچر اور اختلافات کی تفریق کے لئے اپنی سرگرمیاں خاموشی سے جاری رکھے ہوئے ہیں۔

ستر کی دہائی سے آج تک اس تحریک کا کوئی رضا کار سیاست یا کسی سیاسی تحریک سے وابستہ نہیں رہا ہے ۔آج تک اس کی صفوں سے کوئی دہشت گرد، فرقہ پرست اور فسادی نہیں نکلا۔اس تحریک کے کوئی سیاسی مقاصد نہیں رہے اور نہ ہی کوئی خفیہ ایجنڈا ہے، حتیٰ کہ اس تحریک سے وابستہ رضا کار اپنے آپ کو سیاست اور اختلافات سے دور رکھتے ہیں، نہ ہی ان کا تعلق کسی مخصوص سیاسی جماعت سے رہا ہے، لیکن یہ جمہوری عمل اور جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں اور اپنے ووٹ اور رائے کا آزادانہ استعمال کرتے ہیں۔حزمت تحریک پر آج تک کوئی سیاسی الزام ثابت نہیں ہو سکا ۔ترکی اور پوری دنیا میں اس تحریک کی سرگرمیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور اس کی خدمات کو ہر جگہ سراہا گیا ہے۔مختصر یہ کہ حزمت تحریک ایک مثبت، فلاحی، رفاہی، تعلیمی، سماجی اور معاشرتی تحریک ہے جو محمد فتح اللہ گلن کے افکار و نظریات سے متاثر ہو کر رضا کاروں اور مخیرحضرات نے شروع کی اور اس کا مقصد اور مشن انسانیت کی خدمت اور رضائے الٰہی کے سوا کچھ نہیں ہے۔محمد فتح اللہ گلن اور حزمت تحریک سے متعلق مزیدمعلومات، تحقیق اور مطالعہ کے لئے قارئین ویب سائٹ www.fgulen.com سے استفادہ کر سکتے ہیں۔

مزید :

کالم -