یہ کیسا امتحانی نظام؟

یہ کیسا امتحانی نظام؟

  

اگر ہم پچھلے چند سالوں کے تعلیمی معیار کا جائزہ لیں تو مجھے یقین ہے کہ آپ سب قارئین میری اس بات سے سو فیصد متفق ہونگے کہ تعلیم کے میدان میں آئے دن تبدیلیوں نے تعلیم کا ستیاناس کرکے رکھ دیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ کسی بھی چیز کی بنیاد ہمیشہ مضبوط رکھنی چاہیے ۔ مگر ہمارے حکمران تو ان طالب علموں کے ساتھ سراسر ناانصافی کررہے ہیں۔گورنمنٹ کتابیں وقت پر مہیا نہیں کرتی اورکتابوں میں تبدیلی تو ایسے ہوگئی جیسے ہربارہ ماہ بعدسال بدلتا ہے۔

اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا یہ گورنمنٹ جوبچوں کی تعلیمی بنیاد رکھ رہی ہے، وہ ایک پختہ بنیاد ہوگی؟وہ بچے مستقبل میں کیا کریں گے؟جوچیز ان کو پرائمری میں پڑھنا چاہیے تھی وہ تو کتابیں نہ ملنے اور پورا ٹائم نہ ملنے کی وجہ ضائع ہوگیا ۔اب یہی حال مڈل کلاسز کے بچوں کا ہوگا۔جب رزلٹ آتا ہے تو وہ پھر اتنا اچھا ہوتا ہے کہ جو دیکھے وہ عش عش کراٹھے۔ یہ تو بھلا ہو پرائیویٹ سکولز کا جن کی وجہ سے رزلٹ 50فیصد تک آجاتا ہے ورنہ اگر گورنمنٹ سکولز پر رہیں تو رزلٹ بیس تیس فیصد سے زیادہ نہ ہو۔

چند سال پہلے حکومت پنجاب نے صوبے بھر میں بنیادی تعلیم یعنی پرائمری اور مڈل کلاسز کے امتحانات ایک ساتھ کرانے کا فیصلہ کیا۔ جس کے لئے پنجاب ایگزامینشن کمیشن کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا۔اس ادارے کے تحت صوبہ پنجا ب میںپرائمری اور مڈل کے امتحانات لیے جاتے ہیں۔چند فیصد لوگ تو پہلے ہی PECکے ساٹھ فیصد ٹک(چیک) کرنے والے امتحانی نظام سے متفق نہیںکیونکہ اس میں تو نکمے سے نکما طالب علم بھی نقل کرکے ٹک کا نشان لگا لیتا ہے اورامتحان میں باآسانی پاس ہوجاتا ہے۔

اس سال PECنے اپنے نظام میں ایک بار پھر تبدیلی کی اور تبدیلی بھی حدکی کردی۔ ساراسال سکولوں میں بچوں کو معاشرتی علوم (مطالعہ پاکستان)پڑھایا گیا ۔دوسرے مضامین کی طرح اس کی بھی تیاری کرائی گئی مگرعین امتحان کے وقت پرجب ڈیٹ شیٹ مارکیٹ میںآئی اس میں سے معاشرتی علوم کو غائب کردیا۔اس ادارے نے معاشرتی علوم کا امتحان لینا بھی گوارا نہیں کیابلکہ سکولز کو کہہ دیا کہ وہ خود اس مضمون کا امتحان لیں۔اگر سکول نے ہی امتحان لینا ہے تو پھر تمام مضامین کے امتحان سکول کو لینے کی اجازت دے دیں یا پھر معاشرتی علوم کی جگہ اس مضمون کا امتحان نہ لیں جس سے طالبعلم جان چھڑاتے ہیں۔

 وہ مضمون جو ہماری نسل کے لیے بہت ضروری ہے ، جس کے پڑھنے سے بچوںکو پتہ چلتا ہے کہ کون کون اس ملک کا ہیرو ہے کس کس نے اس ملک کو حاصل کرنے کے لیے اپنی جان کے نذرانے پیش کیے؟ کس کس مسلمان نے تاریخ میں مسلمانوں کے لیے قربانیاں دیں ۔ان سب کو اجاگر کرنے کی بجائے انہیں فراموش کردیا۔شاید یہ گورنمنٹ کی پالیسی ہے کہ آنے والی نسل کو علم ہی نہ ہو کہ ہمارے ملک کے لیے کس کس نے خدمات سرانجام دیں؟معاشرتی علوم جیسے مضمون میں پاکستان کی تاریخ پڑھائی جاتی ہے اور کوئی بھی طالبعلم نہیں چاہتا کہ پاکستان کی تاریخ کا مطالعہ نہ کیا جائے۔ایک سروے کے مطابق ابتدائی تعلیم میںپاکستان کے پانچ فیصد کے قریب طالب علم انگلش کو پسند کرتے اورباقی اس سے جان چھڑاتے ہیں۔ بہت سے طالبعلم صرف انگلش کے خوف سے تعلیم چھوڑ دیتے ہیں۔ساٹھ فیصد کے قریب طالب علم سائنس سے جان چھڑاتے ہیں ۔ پھر اگر مضمون کم کرنا تھا تو انگلش کو کردیتے یا سائنس کو۔طالب علم ان دونوں مضامین سے زیادہ معاشرتی علوم کو پسند کرتے ہیں۔ اللہ جانتا ہے کہ PECنے کیا سوچ کر اس مضمون کا امتحان نہ لینے کا فیصلہ کیا؟یہی نہیں ہشتم سے عربی جیسے مضمون کا بھی امتحان نہیں لیا جا رہا ہے۔

معلوم نہیں ایجوکیشن ڈیپارنمنٹ پر کون لوگ قابض ہیں جو پاکستان کی تاریخ کو اجاگر کرنے والوں کو مسخ کرنے اور ساتھ ہی قرآن کے مطالعہ کو بھی ختم کرنے پر تُلے ہوئے ہیں۔ ویسے تو بہت کم لوگ ہیں جو قرآن کا ترجمہ پڑھتے ہیںصرف ایک عربی ہے جس سے بچے ابتداءسے ہی قرآن پاک کا ترجمہ پڑھتے ہیں۔ جب اس طرح کی تعلیمی پالیسیاں مرتب ہونگی تو شرح خواندگی کاغذوں میں تو بڑھ سکتی ہے مگرہمارے معاشرے کے لیے یہ ناسور ثابت ہوگی۔

مزید :

کالم -