2014ء:پاکستان، افغانستان اور امریکی ایجنڈا

2014ء:پاکستان، افغانستان اور امریکی ایجنڈا
2014ء:پاکستان، افغانستان اور امریکی ایجنڈا
کیپشن: pro

  

مُلّا عمر کا عید الفطر کے موقعے پر بیان بہت اہم ہے جس میں اس نے مستقبل کے بارے میں چند اہم اشارے دیے ہیں یعنی :

-1 امریکی اور غیر ملکی فوجوں کا مکمل انخلا۔

2- ملک کے تمام عناصر کی مشاورت سے ایک ایسے نئے انتظام کا اہتمام، جس میں سب کی شمولیت ہو(inclusive)-

3- تعلیم اور ملکی ترقی کے باب میں ایک مو¿ثر کوشش۔

4- عام مسلمانوں اور معصوم انسانوں کا خون بہانے سے اجتناب۔

پاکستان میں امن کا بڑا انحصار پاکستان کے اندر دہشت گردی کے باب میں صحیح اور ہمہ جہتی حکمت عملی اپنانے اور اس پر خلوص سے عمل کے ساتھ افغانستان میں افغان قومی مفاہمت پر مبنی سیاسی انتظام کے جڑ پکڑنے پر ہے ورنہ خدا نخواستہ افغانستان خانہ جنگی کی آماج گاہ بنا رہے گا تو پاکستان میں دہشت گردی میں اضافہ ہوگا اور اس پر مستزاد افغانستان سے نقل مکانی کی نئی لہر کا بھی شدید خطرہ ہے ۔ اگر آج افغان مسئلے کا صحیح خطوط پر حل نہیں ہوگا تو پھر افغانستان اور پاکستان دونوں کو تباہی کے ایک نئے طوفان کے لئے تیار رہنا چاہیے ۔ اس کی پیش بندی کا وقت آج ہے ، کل نہیں ہوگا۔

دہشت گردی اور فکری ٹکرا¶ اور انتہاپسندی کی سوچ کا بھی ایک تعلق ضرور ہے ،لیکن ان دونوں اُمور کو مکمل طور پر گڈمڈ کر دینا بڑا خطرناک اور زمینی اور تاریخی حقائق کے ساتھ مذاق ہوگا۔ اختلاف راے ، فکری مباحث، اسٹیٹس کو (status quo)کو چیلنج اور نئی راہوں کی تلاش انسانی زندگی کی ایک حقیقت اور ترقی کے لئے زینے کی حیثیت رکھتے ہیں۔یہ عمل ،فکری اختلاف ،ذہنی ٹکراﺅ اور خیالات و افکار کی جنگ کی صورت اختیار کرتا رہا ہے اور پھر اسی کش مکش اور تصادم سے نئے افکار اور نئے فکری سمجھوتے وجود میں آتے رہے ہیں۔ ہیگل اور مارکس کا تو فلسفہ¿ تاریخ ہی اس تصادم کے سہ رکنی سفر (tringular journey) پر ہے، یعنی تھیسس جس کا مقابلہ دوسری انتہا پر اینٹی تھیسس کرتی ہے اور پھر اِمتزاج (synthesis) پیدا ہوتا ہے جو مرور زمانہ سے ایک بار پھر تھیسس بن جاتا ہے اورپھر یہی عمل جاری رہتا ہے ۔ محض انتہاپسندی کا رونا رو کر فکری سفر کے اس پورے تناظر کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔

اسی طرح جب کسی معاشرے میں جبر اور تشددکا دور دورہ ہو ، جب عدل اور انصاف کا فقدان ہو، جب عوام کو ان کی بنیادی ضرورتوں سے محروم کر دیا گیا ہو ،خواہ بیرونی قبضے کی شکل میں یا اندرونی آمریت اور استحصالی نظام کی وجہ سے تو پھر ان حالات کا بالآخر جو رد عمل رُونما ہوتا ہے، اس میں تشد د کا کردار نا گزیر ہو جاتا ہے ۔ اس پر تشدد رد عمل کو جواز فراہم کرنے کے لئے فکری میدان میں بھی نظریات جنم لیتے ہیں اور فکر اور عمل دونوں میدانوں میں اس سے سابقہ پیش آتا ہے ۔ واضح رہے کہ یہ معاملہ کسی خاص مذہب ، تہذیب، علاقے یا قوم سے متعلق نہیں ہے، بلکہ یہ ایک ہمہ گیر تاریخی عمل ہے اور اپنے تمام نشیب و فراز کے ساتھ تاریخ کے مختلف ادوار میں اور دنیا کے سب ہی علاقوں میں رونما ہوتا رہاہے ۔یہ عمل اپنے تمام تعمیری اور تشکیلی پہلوﺅں اور تمام تخریبی اور تباہ کن شکلوں کے ساتھ ہی تاریخ میں ایک اہم منظرنامہ پیش کرتا ہے ۔ بلاشبہہ فکری محاذ پر تصادم کو کم کرنے اور افہام و تفہیم کی نئی راہیں تلاش کرنے کا عمل از بس ضروری ہے ۔ میڈیا اور سول سوسائٹی کو ان اُمور پر کھل کر بحث کرنی چاہیے ،لیکن دہشت گردی کا رشتہ دینی فکر اور تصورِ جہاد سے جوڑ کر دونوں کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکنے کی روش غلط ہے اور اس سے اجتناب اولیٰ ہے ۔

یہ وہ پس منظر ہے جس میں خود پاکستان اور عالم اسلام میں آج انتہا پسندی اور تشدد کے رجحانات کے مطالعے اور تجزیے کی ضرورت ہے ۔ ولیم بلوم (William Blum) جو ایک مشہور سفارت کار، دانش ور اور مصنف ہے جو امریکا کے اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ میں کام کرتا رہاہے اور جس نے جنگ، دہشت گردی، تشدد اور انتہا پسندی کے موضوع پر اور ان جرائم میں امریکا کے کردار پر نصف درجن سے زائد کتابیں لکھی ہیں ۔ اس کی تازہ ترین کتابAmerica's Deadliest Export: Democracy (اشاعت: وسط2013ئ) اس مسئلے پر بھی بحث کرتی ہے ۔ اس میں اس نے امریکا کی پالیسیوں کو پوری دنیا میں امریکا کے خلاف نفرت ، شدت پسندی، اور دہشت گردی کے فروغ کا اصل سبب قرار دیا ہے اور یہ تک کہا ہے کہ طالبان اگر ایک ذہن اور سوچ کے انداز (mindset)کا نام ہے تو وہ صرف افغانستان یا پاکستان میں نہیں، واشنگٹن اور مغربی ممالک میں بھی موجود ہے ۔ الفاظ اور اصطلاحات مختلف ہیں ،لیکن حقیقت اور جوہر میں کوئی فرق نہیں۔ وہ صاف الفاظ میں اعتراف کرتا ہے کہ: ”جنگ امریکا کے لئے ایک مذہب کی شکل اختیار کر گئی ہے“ اور جو بھی امریکا کے اس مذہب کو تسلیم نہیں کرتا، خواہ وہ افغانستان اور پاکستان میں ہو یا کہیں اور، وہ امریکا کی نگاہ میں توہین مذہب (blasphemy) کا مجرم ہے اور اس طرح وہ قتل کا سزاوار ہے۔یہی وجہ ہے کہ ایسے لوگوں پرموت کی بارش کی جاتی ہے ۔ امریکی دہشت گردی اور افغان اور مسلم دہشت گردی کا مقابلہ و موازنہ کرتے ہوئے وہ لکھتا ہے کہ:

"What is the difference between them and Mumtaz Qadri? Qadri was smiling in satisfaction after carrying out his holy mission. The CIA man sits comfortably in room in Neveda and plays his holy video game, then goes out to a satisfying dinner while his victims lay dying. Mumtaz Qadri believes passionately in something called Paradise. The CIA men believe passionately in something called American Exceptionalism!. (page. 328)".

”ممتاز قادری اور ان لوگوں کے درمیان کیا فرق ہے ؟ قادری اپنا مقدس مشن پورا کر کے اطمینان سے مسکرا رہا تھا ۔ سی آئی اے کا اہل کار بھی نوادا میں اپنے کمرے میں آرام سے بیٹھ کر اپنی مقدس وڈیو گیم کھیلتا ہے اور پھر اپنے اہداف کو مرتے ہوئے اطمینان سے دیکھتا ہے ۔ ممتاز قادری نہایت جذبے سے جس چیز کو جنت کہتا ہے ، اس پر یقین رکھتا ہے۔ سی آئی اے کے اہل کار بھی ایسے ہی جذبے سے جس چیز پر یقین رکھتے ہیں وہ جسے امریکی بالا دستی اور استثنائیت کہا جا تا ہے “۔

کاش! ہم اس پیچیدہ اور عالم گیر مسئلے کو تعصبات کی عینک سے دیکھنے کے بجاے تاریخی اور زمینی حقائق کی روشنی میں دیکھیں اور اسباب تک پہنچ کر حالات کی اصلاح کرنے کی کوشش کریں ورنہ نتائج بگاڑ میں اضافے کے سوا اورکیا ہو سکتے ہیں؟

رہا معاملہ پاکستان میں دینی جماعتوں کے فکری رجحانات اور سیاسی موقف کا تو وہ ایک کھلی ہوئی حقیقت ہیں اور ان پر دہشت گردی یا انتہاپسندانہ تصورات کے اثرات پڑنے کا خدشہ ایک واہمے سے زیادہ نہیں۔ پاکستان کی دینی جماعتیں بہت ہی متوازن سوچ کی علَم بردار ہیں ، انہوں نے تبدیلی کے لئے جمہوری راستے کو منتخب کیا ہے اور اس پر سختی کے ساتھ عمل پیرا ہیں ۔ علماے کرام نے بالعموم اعتقادی اور سیاسی اُمور کے سلسلے میں قوت کے استعمال کو ناقابل بردا شت قرار دیا ہے۔ اس لئے کہ اس سلسلے میں قرآن کا حکم بہت واضح ہے کہ دین کے معاملات میں کوئی جبر نہیں۔ (لَآ اِک±رَاہَ فِی الدِّی±نِ)۔اسلام کی نگاہ میں خون ناحق ایک صریح ظلم اور انسانیت کے خلاف جرم ہے خواہ اس کا ارتکاب کوئی بھی کرے ، فرد، گروہ یا حکومت اور خواہ اس کے لئے کوئی بھی عنوان استعمال کیا جائے، مذہبی یا سیکولر۔

2014ءکیسا ہوگا؟ اس کا بڑا انحصار اس پر ہوگا کہ ہم 2014ءکے چیلنجوں کا کس طرح جواب دیتے ہیں۔ حالات کا تجزیہ کتنی حقیقت پسندی اور دیانت داری کے ساتھ کرتے ہیں اور اپنی حکمت عملی کتنی صحیح بنیادوں پر مرتب کرتے ہیں اور سب سے اہم یہ ہے کہ جو بھی حکمت عملی اختیار کرتے ہیں اس کے بارے میں عملاً کتنے مخلص ہیں۔ دوسرے الفاظ میں اس پر عمل کے لئے دیانت اور اعلیٰ صلاحیت دونوں کا کس حد تک مظاہر ہ کرتے ہیں۔ پاکستان کے ناگفتہ بہ حالات میں بڑا دخل حالات کے صحیح تجزیے کے فقدان کے ساتھ قیادت کا عدم خلوص اور اچھی حکمرانی کی صلاحیت سے محرومی ہے ۔ اگر ہم اپنی پالیسیاں صحیح بنیادوں پر تشکیل دیں اور اپنی صلاحیتوں کو صحیح انداز میں بروے کار لائیں اور اچھی حکمرانی پر عمل پیرا ہوں، تو 2014ءساری مشکلات اور چیلنجوں کے باوجود بہتری کے سفر میں ایک سنگ میل بھی بن سکتا ہے اور یہی ہماری کوشش ہونی چاہیے ۔ ہمیں اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ 2014ءویسا ہوگا ،جیسا ہم اسے بنانے کی کوشش کریں گے اور اللہ پر بھروسے کے ساتھ خود وہ کچھ کرنے کے لئے کمربستہ ہوجائیں جو مطلوب ہے۔ صحیح پالیسی، قیادت کی یکسوئی اور اچھی حکمرانی کے ذریعے تشکیلِ نو کی سعی و جہد میں ہی نجات ہے اور غیروں کی ذہنی ، معاشی اور سیاسی غلامی سے نکلے بغیر اور خود اپنی قوم اور اپنے وسائل پر انحصار کا راستہ اختیار کیے بغیر حالات تبدیل نہیں ہوسکتے۔ یہ لمحہ ایک بنیادی فیصلہ کرنے کا ہے اور اگر ہم نے اسے ضائع کردیا تو یہ بڑا قومی سانحہ ہوگا۔(بشکریہ :ترجمان القرآن لاہور)

مزید :

کالم -