ترکی میں قدیم ترین شہرکی حادثاتی دریافت کا دلچسپ واقعہ

ترکی میں قدیم ترین شہرکی حادثاتی دریافت کا دلچسپ واقعہ
ترکی میں قدیم ترین شہرکی حادثاتی دریافت کا دلچسپ واقعہ

  

انقرہ(نیوزڈیسک)یہ 1963ءکی بات ہے کہ جب ترکی کے صوبے نوشیر کے ایک رہائشی نے حادثاتی طور پر اپنے ہی گھر کے کمرے کے اندر ایک ایسی سرنگ کا سراغ لگایا جس کے ذریعے اس کی رسائی ترکی کے پراسرار اور قدیم ترین شہر کی طرف ہوئی ۔

یہ ترک اپنے کمرے میں بیٹھا ہوا تھا کہ اسے محسوس ہوا کہ شاید دیوار کی دوسری جانب کچھ خالی خالی سی شے ہے لہذا اس نے دیوار کو گرایا تو یہ جان کر حیران رہ گیا کہ دوسری جانب تو ایک نئی دنیا آباد ہے۔

گردن میں تیر مار کر زخمی کرنے والے فوجی کے ساتھ چنگیز خان نے کیا سلوک کیا؟ جان کر آپ حیران رہ جائیں گے ،جاننےکیلئے کلک کریں

اس شہر میں ضروریات زندگی سے متعلق تمام اہم چیزیں بنائی گئی تھیں۔ اس میں کنویں، گزرگاہیں، راستے، گھروں کے دروازے وغیرہ ہر چیز موجود تھی۔یہ زیر زمین شہروں میں سے ایک تھا لیکن ساتھ ہی ساتھ یہ قدیم ترین شہر وں میں سے ایک ہے۔اس کی بالکل صحیح تاریخ کا تو علم نہیں لیکن ماہرین آثار قدیمہ خیال کر رہے ہیں کہ یہ شہر کم از کم 15سو قبل مسیح پرانا ہے اور اسے Derinkuyuکا نام دیا گیا ہے۔اس بات کا بھی علم نہیں کہ اصل میں یہ شہر کس تہذیب کے لوگوں نے بنایا ہے ۔کچھ آثار قدیمہ کے ماہر اسے‘حنی‘لوگوں کا اور کچھ اسے ایرانیوں کا کارنامہ کہتے ہیں۔

یہ شہر ترکی کے اناتولیہ صوبے کے علاقے کپا کاڈیا میں تقریباً33سو فٹ بلند پہاڑیوں میں واقع ہے اور شاید لاکھوں سال پہلے یہ پہاڑیاں لاوے میں دھنس گئی تھیںاور یہ لاوے کی باقیات کی وجہ یہ پہاڑ نرم بھی ہیں ۔

یہی وجہ ہے کہ ’حنی‘لوگوں نے ان پہاڑوں کو کھود کر ان میں غاریں بنائیں اور کھانا بھی محفوط کیا ۔یہ غار نما کمرے انہیں ناصرف موسم کی سختیوں سے بچاتا تھا بلکہ دشمنوں کے حملوں سے بھی محفوظ رکھتا تھا۔کہا جاتا ہے کہ ’حنی‘ لوگوں پر Phrygian حملہ آور ہوتے رہتے تھے اور وہ ان غاروں میں چھپ کر اپنے آپ کو بچاتے تھے۔ماہرین کہتے ہیں کہ ایک وقت آیا جب Phrygian لوگوں نے ’حنی‘ لوگوں کو شکست دی اور یہ غاریں اور ان کی باقیات دریافت کیں اور پھر انہیں مکمل شہر میں تبدیل کیا۔کہا جاتا ہے کہ 1963ءمیں دریافت ہونے والا زیر زمین شہر Derinkuyuبھی انہیں لوگوں نے بنایا تھا۔ایک اور نظریے کے مطابق شاید ایرانیوں نے یہ شہر بنایا تھالیکن اس بات کا کوئی واضح ثبوت نہیں ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ اس طرح کے مزید کئی شہر ان پہاڑیوں کے نیچے آباد ہوں گے اور ابھی تک صرف چھ کا سراغ مل سکا ہے۔اس شہر میں داخل ہونے کے لئے مختلف دروازے بنائے گئے ہیں اور ہر دروازے کے منہ پر ایک بڑا پتھر رکھ کر اسی بند کیا جاسکتا ہے ۔کہا جاتا ہے کہ اس طرح لوگ اپنے آپ کو اس شہر میں بند کرکے حملہ آوروں سے بچ جایا کرتے تھے۔ شہر کے اندر کنویں بھی بنائے گئے تھے جو کہ باہر سے ٓٓآنے والے دریاﺅں کے ذریعے بھرا کرتے تھے۔ تمام شہر میں پانی کی ترسیل کے لئے ایک مکمل نظام تھا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ حملے کے بعد جب لوگ شہر میں چھپ جاتے تھے تو ان کا نظام زندگی مفلوج نہیں ہو جاتا تھا بلکہ شہر میں دکانیں،عبادت گاہیں، ملنے کی جگہیںتھیں جہاں لوگ اپنی روزمرہ زندگی سے لطف اندوز ہونے کے ساتھ ساتھ شاپنگ بھی کرتے تھے۔مزید یہ کہ اگر حملہ آور شہر میں داخل ہوجاتے تو فرار کے لئے راستے بھی موجود تھے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس