توہین رسالتؓ امت مسلمہ کے خلاف کھلی جارحیت ہے:جماعت اسلامی

توہین رسالتؓ امت مسلمہ کے خلاف کھلی جارحیت ہے:جماعت اسلامی

سرینگر(کے پی آئی)جماعت اسلامی مقبوضہ کشمیر کا کہنا ہے کہ توہین رسالت صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسا گھناؤنا اور بھیانک جرم ہے جو امت مسلمہ کے لیے کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں ہوسکتا ہے اور یہ امت کی غیرت اور ایمان کے لیے ایک کھلا چیلنج ہے جبکہ امت کو متحد ہوکر اس قبیح ترین جرم کے استیصال کے لیے ایسا موثر لائحہ عمل تشکیل دینا چاہیے جو مسلمان حکمرانوں کو کم از کم توہین رسالت کے مرتکب افراد اور اداروں کے خلاف ہر ممکن کارروائی کرنے پر مجبور کرے کیونکہ انہی حکمرانوں کی بے حسی سے دنیا میں ایسی غیر اخلاقی اور اسلام دشمن کارروائیوں کو فروغ ملتا ہے۔ جماعت کا کہنا ہے کہ اس سلسلہ میں عرب بادشاہوں اور حکمرانوں کو رویہ انتہائی غافلانہ اور مایوس کن ہے وہ اپنی بادشاہی کے کروفر میں مست عیش و عشرت میں مشغول ہیں اور ان کے اندر دینی حمیت اور غیرت نام کی کوئی شی بھی دکھائی نہیں دیتی ہے یہاں تک کہ دین دشمن کارروائیوں کو شہ دینے والے مغربی ممالک کے حکمرانوں کے ساتھ ان کے تعلقات بہت زیادہ مضبوط ہیں ۔

اور عرب ممالک کی دولت کے بل بوتے پر یہ ممالک مادی ترقی کے زینے طے کررہے ہیں اور اس طرح سے حاصل شدہ قوت کو مسلمانوں کے خلاف استعمال کرکے ، ان کا قتل عام کرنے میں مشغول ہیں۔ مسلم ممالک میں سوائے ترکی کے کسی نے بھی دینی حمیت اور محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا اظہار کرنا بھی ضروری نہیں سمجھا، اگر کچھ نہیں تو کم از کم یہ ممالک فرانس اور اس طرح کے دیگر ممالک سے اپنے سفارتی تعلقات ہی اس شرط پر منقطع کرتے کہ اس جرم عظیم پر دنیا کے ایک ارب اور ستھر کروڑ مسلمانوں سے سرکاری طور پر معافی مانگی جائی۔ ایسا کچھ بھی نہیں ہوا ۔ جماعت اسلامی جموں و کشمیر توہین رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کو ملت اسلامیہ کے خلاف ایک کھلی جارحیت قرار دیتے ہوئے مسلم ممالک کے حکمرانوں کی مجرمانہ خاموسی پر اظہار افسوس کرتی ہے اور تمام دنیا کے مسلمانوں پر زور دیتی ہے کہ اس اہانت بے جا کا جواب رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم سے والہانہ محبت اور عملی تابعداری کے ذریعے دین اور اسلام کو ایک مکمل اور ہر زمانہ میں قابل عمل ضابطہ حیات کے طور پر پیش کریں۔

مزید : عالمی منظر

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...