بارہمولہ کے دو نوجوانوں پر سیفٹی ایکٹ کا اطلاق ریاستی دہشت گردی ہے،حریت کانفرنس

بارہمولہ کے دو نوجوانوں پر سیفٹی ایکٹ کا اطلاق ریاستی دہشت گردی ہے،حریت ...

سرینگر(کے پی آئی)کل جماعتی حریت کانفرنس (گ)نے بارہ مولہ کے دو طالب علموں سمیر احمد گوجری اور آصف احمد حلوائی پر تازہ پی ایس اے لاگو کرنے کو ریاستی دہشت گردی کی بدترین مثال قرار دیتے ہوئے اس کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ حریت نے کہا کہ پبلک سیفٹی ایکٹ کو حقوق بشر کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اگرچہ ایک غیرقانونی قانون قرار دیا ہوا ہے، البتہ جموں کشمیر میں عام شہریوں اور خاص کر طالب علموں پر اس کا اطلاق برابر جاری ہے اور یہاں لوگوں کو احتیاطی نظربندی کے نام پر سالہاسال تک حبس بے جا میں رکھنے کا سلسلہ جاری ہی۔ حریت(گ) نے کہا کہ دونوں مذکورہ نوجوانوں کو عرصہ 4مہینے قبل حراست میں لیا گیا تھا اور جب سے اب تک انہیں کبھی ایک تھانے اور کبھی دوسرے تھانے میں رکھا جاتا رہا۔ البتہ ایس پی پولیس کی سفارش پر ضلعی انتظامیہ نے ان پر پبلک سیفٹی ایکٹ کا اطلاق عمل میں لایا اور انہیں ڈسٹرکٹ جیل کپواڑہ منتقل کیا گیا۔ حریت ترجمان نے کہا کہ دونوں نوجوان مفلوک الحال گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کے والدین ،مزدوری مشقت کرکے اپنے اہل وعیال کا پیٹ پالتے ہیں ۔ حریت ترجمان نے مزید کہا کہ جموں کشمیر میں اگرچہ ابھی تک کوئی سول حکومت قائم نہیں ہوئی ، البتہ یہاں ہر صورت میں پولیس راج قائم رہتا ہے اور ریاستی آئین وقانون کو عملا معطل رکھا گیا ہے۔ حریت بیان میں ضلعی انتظامیہ کی بھی اس بات کے لیے شدید الفاظ میں مذمت کی گئی کہ اس نے مذکورہ نوجوانوں کو کالے قوانین کے تحت جیل بھیجنے کی پولیس سفارشات کو چپ چاپ تسلیم کرلیا ہے اور اس کی کوئی مزاحمت نہیں کی گئی۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ ضلعی افسر محض ربر کی مہروں کی حیثیت رکھتے ہیں اور پولیس احکامات کے آگے ان کی ایک بھی نہیں چلتی ، حریت کانفرنس نے ایمنسٹی انٹرنیشنل اورانسانی حقوق کی دوسری عالمی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ سمیر احمد اور آصف احمد پر پی ایس اے لاگو کرنے کی کارروائی کا نوٹس لیں اور ان کی فوری رہائی کے لیے اپنے اثرورسوخ کو استعمال کریں۔

مزید : عالمی منظر