آر پار کے بچھڑے خاندانوں کو ملانے کا ذریعہ ٹیٹول کراسنگ پوائنٹ بند

آر پار کے بچھڑے خاندانوں کو ملانے کا ذریعہ ٹیٹول کراسنگ پوائنٹ بند

ٹیٹوال(کے پی آئی)مقبوضہ کشمیر اورآزادکشمیر منقسم خاندانوں کو ایک دوسرے سے ملانے والے ٹیٹوال کراسنگ پوائنٹ کو ہر سال سردیوں کے 6ماہ کے لئے بند کر دیا جاتا ہے ۔یہ وہ کراسنگ پوائنٹ ہے جس کے ذریعے جبری تقسیم کا شکار سینکڑوں لوگوں کو اپنے بچھڑے عزیزوں سے ملنے کا موقع فراہم ہوتا ہے۔لیکن پچھلے کئی برسوں سے اس کراسنگ پوائنٹ کو نومبر کے آخری ہفتے میں بند کر دیا جاتا ہے اور مئی کے پہلے ہفتے میں دوبارہ کھول دیا جاتا ہے اور اس طرح سے یہ کراسنگ پوائنٹ 6ماہ تک بند رہتا ہے ۔قابل ذکر ہے کہ آزاد کشمیر سے کراسنگ پوائنٹ کا فاصلہ محض5کلو میٹر ہے جبکہ کپوارہ سے یہ پوائنٹ صرف 100 کلو میٹر دور ہے۔

دریائے کشن گنگا پرقائم یہ کراسنگ پوائنٹ ہر سال سرما میں بند کیا جاتا ہے اور اسکا جواز یہ بتایا جاتا ہے کہ کسٹم محکمہ کا سٹاف سردیوں میں ڈیوٹی دینے یہاں نہیں پہنچ پاتے ہیں۔ مقامی آبادی اور متاثرہ کنبے حکومت کی جانب سے دیئے جانے والے اس جواز کو غیر معقول قرار دے رہے ہیں۔ان کا استدلال ہے کہ کسٹم محکمہ کے چند ملازمین کو سہولیات بہم پہنچانے کیلئے سینکڑوں منقسم خاندانوں کو یرغمال بنانا سراسر ناانصافی ہے۔واضح رہے کہ سال005میں ٹیٹوال کراسنگ پوائنٹ پر ایک پل تعمیر کیا گیا جس کا آدھا حصہ آزادکشمیر کی حکومت نے بنوایا اور آدھا حصہ یہاں کی حکومت نے جس دن اس کراسنگ پوائنٹ پر خصوصی اجازت کے تحت کچھ لوگوں کو آر پار جانے کیلئے کھول دیا جاتا ہے عام طور سے اس دن اس مقام پر ایک میلہ سا لگتا ہی۔ دریا کے دونوں کناروں پر پچھڑے خاندانوں کے لوگ جمع ہوکر چلا چلا کر اپنے عزیزوں کی خیر و عافیت دریافت کرتے ہیں۔ان ماؤں اور بہنوں کیلئے گویا یہ دن کسی عید سے کم نہیں ہوتا جنہیں اپنے بیٹوں اور بھائیوں سے ملنے کیلئے اس پار جانے کی اجازت نہیں ملتی ہی۔کم از کم اس دریا کے دوسرے کنارے پر کھڑے ہوکر دوسری جانب کھڑے اپنے عزیزوں کو دیکھ پاتی ہیں۔اس نامہ نگار نے متعدد بار کراسنگ پوائنٹ پر ایسے جذباتی مناظر دیکھے ہیں جن میں بچھڑے لوگ ایک دوسرے سے گلے تو مل نہیں پاتے لیکن دور سے ایک دوسرے کو دیکھ کر اور ہاتھ ہلا ہلاک خیر و عافیت پوچھتے ہیں۔ ایسے مواقع پر وہ مائیں دھاڑئیں مار مار کر روتی نظر آتی ہیں جن کے بیٹے مسلح تحریک کے آغاز میں سرحد پار چلے گئے تھے اور پھر واپس نہیں لوٹی۔ ٹیٹوال کراسنگ پوائنٹ سے متعلق ٹیٹوال کے لوگوں کی مانگ ہے کہ اس کراسنگ پوائٹ کو پورا سال کھلا رکھنے کی اجازت دی جانی چاہئے تاکہ برسوں سے بچھڑے لوگ اپنے عزیز واقارب کو آسانی سے مل سکیں ۔ لوگوں کے مطابق کرناہ کے جن لوگ کا پرمٹ سردیوں کے موسم میں بنتا ہے ،انہیں مجبورا اوڑی کراسنگ پوائنٹ سے اس پار اپنے رشتہ ادروں کو ملنے جانا پڑتا ہے ۔جبکہ اگر اس دوران کبھی کبھاربرف باری ہوئی تو یہ لوگ مہینہ مہینہ اس پار جانے کیلئے انتظار کرتے رہتے ہیں ۔ ٹیٹوال کے ایک شہری راجہ ارشاد احمد نے بتایا کہ ٹیٹوال ایک تاریخی جگہ ہے لیکن آج تک جتنی بھی سیاسی جماعتیں اقتدار میں آئیں انہوں نے ٹیٹوال کو نظر انداز کیا ۔انہوں نے بتایا کہ ٹیٹوال کراسنگ پوائنٹ کے پاس ایک عمارت بنائی گئی ہے لیکن اس کا کام بھی سست رفتاری سے ہو رہا ہے اگر اس عمارت کا کام مکمل ہو گیا تو اس سے مسافروں کو کافی فائیدہ ہو گا ،ان کا کہنا تھا کہ ٹیٹوال کراسنگ پوئنٹ پر کوئی بھی بیت الخلا تعمیر نہیں کیا گیا ہے اور نہ ہی کوئی اور سہولیات فراہم کی گئی ہیں ۔علاقے کے لوگوں نے گورنر سے اپیل کی ہے کہ وہ مداخلت کر کے اس پوائنٹ کو کھلا رکھنے کے علاوہ ٹیٹوال سے تجارت کرانے میں اقدام کریں تاکہ یہاں کی عوام کو بھی اس سے فائیدہ مل سکے ۔

مزید : عالمی منظر