اوباما کے تجارتی معاہدوں پر حمایتی ڈیموکریٹس کی عدم دلچسپی

اوباما کے تجارتی معاہدوں پر حمایتی ڈیموکریٹس کی عدم دلچسپی

واشنگٹن(اے این این)امریکی صدر باراک اوباما کے یورپ اور بحر الکاہل کے ساحلی ملکوں کے ساتھ تجارتی معاہدوں میں ڈیموکریٹک اراکان کی عدم دلچسپی،ان سمجھوتوں کی تکمیل پر متعدد ڈیموکریٹ قانون سازوں نے مسٹر اوباما کی حمایت روک دی ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق امریکی صدر براک اوباما نے یورپ اور بحر الکاہل کے ساحلی ملکوں کے ساتھ تجارتی معاہدے کرنے پر زور دیا ہے تاہم اس ضمن میں ان کے سخت مخالفین خود ڈیموکریٹ پارٹی کے ارکان ہیں جو عام طور پر ان کے اتحادی تصور کیے جاتے ہیں۔سیاسی طور پر کشیدہ واشنگٹن میں، کانگریس کے ریپبلیکن قانون ساز اکثر و بیشتر صدر کی معاشی پالیسیوں کی مخالفت کرتے ہیں، جب کہ ڈیموکریٹ ان کے حامی ہوتے ہیں۔ تاہم، اس سال مسٹر اوباما جن تجارتی معاہدوں پر عمل درآمد کرانا چاہتے ہیں۔

اس سلسلے میں حمایت کی صورت حال مختلف ہے۔اِن سمجھوتوں کی تکمیل کے سلسلے میں جس تیزی کا مظاہرہ کیا جارہا ہے، اس پرمتعدد ڈیموکریٹ قانون سازوں نے مسٹر اوباما کی حمایت روک دی ہے جب کہ اسٹیٹ آف دی یونین خطاب میں کہی گئی باتوں پر کانگریس کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔قانون سازوں کا کہنا ہے کہ اِن تجارتی معاہدوں کے تحت امریکہ میں ایسی ارزاں مصنوعات درآمد ہوں گی جنھیں ان غیرملکی محنت کشوں نے بنایا ہے جنھیں مناسب اجرت ادا نہیں کی جاتی، جب کہ وہی مصنوعات امریکہ میں بھی بنتی ہیں، لیکن ان کی قیمتیں مہنگی ہوتی ہیں۔

*****

ایک بیان کے مطابق سانحہ گاکدل کے 25سال مکمل ہونے پر تحریک حریت کے کارکنوں کی ایک بڑی تعداد سانحہ کے مقام پر جمع ہوگئی اور انہوں نے فلک شگاف نعروں کے درمیان قاتلوں کو سزائے موت دینے کا مطالبہ کیا۔ ہلاک شدگان کی بلند درجات اور ایصال ثواب کے لیے اجتماعی دعا مانگی گئی اور تجدید عہد کیا گیا کہ کشمیر کاز کے لیے اپنی جانوں کی قربانی پیش کرنے والوں کو کسی بھی صورت میں فراموش نہیں کیا جائے گا۔ اس دوران نئی دلی سے جاری ایک اخباری بیان چیئرمین حریت(گ)سید علی گیلانی نے کہا کہ بھارتی افواج اور ان کی معاون فورسز پچھلے 25سال سے جموں کشمیر میں بے دریغ طریقے سے عام شہریوں کا قتل عام کررہی ہیں اور افسپا اور ڈسٹربڈ ائیریا ایکٹ جیسے قوانین کے نفاذ کی وجہ سے قاتلوں کے خلاف کوئی کیس درج نہیں کیا جاتا ہی۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال کی وجہ سے جموں کشمیر میں خوف اور دہشت کا ایک ماحول قائم ہے اور عام شہری اپنی زندگیوں کے تحفظ کو لیکر کسی بھی طور مطمئن نہیں ہیں۔ گا کدل اور اس طرح کے دوسرے واقعات میں جو بے قصور شہری موت کے گھاٹ اتار دئے گئے ہیں، ان کے لواحقین انصاف کے لیے در در کی ٹھوکریں کھارہے ہیں اور ان کی فریاد پر کوئی بھی کان نہیں دھرتا ہی۔ حریت چیئرمین نے کہا کہ بوسنیا اور دنیا کے دوسرے تصادم آرائی والے خطوں (Conflict Zones)میں پیش آئے قتل عام کے واقعات کی عالمی اداروں اور خاص طور سے اقوامِ متحدہ کے وار کرائم ٹریبونل (WCT)کے ذریعے سے تحقیقات کرائی گئی ہے اور جنگی جرائم میں ملوث سرکاری اہلکاروں کو سزائیں بھی دی گئی ہیں البتہ جموں کشمیر میں پیش آئے واقعات کے سلسلے میں ابھی تک کوئی سنجیدہ نوٹس نہیں لیا جاتا ہے ۔ گیلانی نے کہا کہ جب تک ایسے واقعات کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائے جانے کا آغاز نہیں کیا جاتا، جموں کشمیر میں نہتے شہریوں کی زندگیوں کا اتلاف جاری رہے گا اور اس خطے میں غیر یقینی اور عدمِ استحکام کی صورتحال بھی برقرار رہے گی۔ادھر سالویشن مومنٹ کے چیئرمین ظفر اکبر بٹ نے لبریشن فرنٹ ((ح)کے چیرمین جاوید احمد میرکے ہمراہ لال چوک سے گاؤکدل تک ایک پرامن احتجاجی ریلی کی قیادت کی ۔ جس میں پارٹی کے درجنوں کارکنوں اور لیڈروں نے شرکت کی ۔ ریلی میں شامل حریت لیڈران نے اسلام اور آزادی کے حق میں فلگ شگاف نعرے بلند کئے اور سانحہ گاؤکدل میں جاں بحق کئے گئے افراد کو زبردست الفاظ میں خراج عقیدت ادا کیا ۔گاؤکدل پہنچے پر ظفرا کبراور جاوید میرنے حکومت ہندکو ہدف تنقیدبناتے ہوئے کہا کہ 25برس گذرنے کے باوجود بھی ابھی تک گاؤکدل قتل عام کے لواحقین کو انصاف فراہم نہیں ہوا جس سے بھارت پوری عالمی برادری کے سامنے بے نقاب ہو چکا ہی۔ انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ کشمیریوں کی قربانیوں کی قدر کریں اور مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کیلے بھارت کو اقوام متحدہ کی قرارداوں یا سہ فریقی مذاکراتی عمل کے ذریعے مسئلہ کشمیر کا حل کرنے کیلے آمادہ کریں ۔جلسے میں پیپلز لیگ کے ترجمان امتیاز ریشی بھی شامل تھی۔ تحریک کشمیر کے صدر جنرل محمد موسی نے کہا کہ گاؤکدل ،کپوارہ،ہندوارہ میں نہتے لوگوں کا قتل عام انسانیت کے بہی خواہوں کے لئے آج بھی سوالیہ نشان بنا ہوا ہی۔جنرل موسی کے مطابق متاثرین کوآج تک انصاف نہیں ملا ہے اور شاید یہ دنیا کی واحد ریاست ہوگی جہاں انصاف تو درکنار متاثرین کی شنوائی تک نہیں ہوتی ۔جنرل موسی نے حقوق انسانی کی عالمی تنظیموں اور اقوام متحدہ کی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کتنی افسوس کی بات ہے کہ یہ ادارے بھی کشمیریوں کے دردوکرب سے ترس نہیں کھاتے ہیں ۔ ڈیموکریٹک پولٹیکل مومنٹ کے ایک وفد نے شہدائے گاؤ کدل کے مزار پر حاضر ی دیکر انہیں خراج عقید ت پیش کیا۔انہوں نے انسانی حقوق کی پامالیوں کی بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ کشمیریوں پر مظالم ڈھانے والوں کو کیفر کردار تک پہنچانا جائے ۔

مزید : عالمی منظر

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...