اتحاد وقومی یکجہتی کی ضرورت

اتحاد وقومی یکجہتی کی ضرورت
 اتحاد وقومی یکجہتی کی ضرورت

 آرمی پبلک سکول میں پاک فوج کے افسران اور جوانوں سمیت تمام شہریوں کے بچے بھی زیرِ تعلیم ہیں۔دہشت گردوں نے معصوم نونہالوں پر جبرو بربریت اور ظلم و ستم کے جو پہاڑ ڈھائے ہیں اس کی جس قدر‘ جن الفاظ میں اور جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے لیکن دل خون کے آنسو روتا ہے کہ 134 ننھے فرشتوں کی عظیم قربانیاں دے کر بھی ہم سنبھلے ہیں نہ سمجھے ہیں ۔دہشت گردوں نے ہمارے مستقبل پر حملہ کیا ہے۔ پھول سے معصوم بچوں کو خون میں نہلا دیا گیا۔ جیسے قیامت کا منظر تھا کہ باپ روتے چیختے ‘ پیٹتے ہاتھ ملتے رہ گئے۔ مائیں سینہ کوبی کرتی روتی کرلاتی تڑپتی رہیں ۔ گزشتہ دو ڈھائی سالوں میں کے پی کے میں پولیس، فوج اور فرنٹئیر کانسٹیبلری کے 1367 افسر و جوان شہید اور 877 عام شہری شہید ہوئے۔ خود کش حملوں میں اور دہشت گردی کے واقعات میں سیکیورٹی فورسز کے 115 افسروں و جوانوں سمیت 438 افراد شہید ہوئے جبکہ 650 عام شہری بھی شہید ہوئے ۔ 2008 ء سے لے کر اب تک 7 ہزار سے زائد افراد شہید اور 8 ہزار سے زائد افراد زخمی ہو چکے ہیں۔ ان حالات میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف کا یہ کہنا نوائے وقت ہے اور نوائے حق بھی کہ دہشت گردی کے خلاف سیاسی اتفاق چھوٹے چھوٹے اختلافات کی نذر نہ کیا جائے۔ ہم ملک سے آخری دہشت گرد کے خاتمے تک لڑیں گے کیونکہ پوری قوم دہشت گردوں اور ان کے ہمدردوں کے خلاف جرات مندانہ اور بامقصد فیصلوں کے لئے سیاسی و فوجی قیادت کی طرف دیکھ رہی ہے۔ آج ہر محب وطن و دردمند پاکستانی پریشان حال اور فکر مند ہے کہ کب بدلیں گے حالات‘کب تبدیلی اور روشنی آئے گی‘ کب ہوگا نئی صبح کا آغاز‘ خیر‘ امن‘ سلامتی اور خوشحالی کا سورج کب طلوح ہو گا؟ کاش ہمارے حکمران ذاتی مفادات اور جماعتی وابستگیوں سے بالا تر ہو کر سوچیں ۔ مگر تبدیلی آئے گی کیسے ۔۔۔۔۔؟ حقیقی معنوں میں کشکول توڑ کر‘ خود احتسابی کرتے ہوئے‘ سادگی اپناتے ہوئے اور اخراجات گھٹاتے ہوئے۔تبدیلی آئے گی اعتدال‘ امن و محبت اور اتحاد واجتہاد و جہاد سے ۔اگر ہم ایک ہو جائیں یکجا ہو جائیں اُس واحد خدا حاکم برحق کو یکتا ماننے والے تو کوئی چیلنج ہمارے لئے چیلنج نہیں رہے گا اور کوئی مشکل ہمارے لئے مشکل نہیں رہے گی ۔تب آئے گا انقلاب جب ہم سچے دل سے سچے رب کو حاکم‘خالق‘ مالک‘ حاضر ناظر جان مان لیں گے۔ انقلاب آئے گا میانہ روی‘ کفایت شعاری و شفافیت سے۔ جب من و نیات صاف‘ ارادے نیک اور کرتا دھرتا لوگ نیک و ایک ہو کرصحیح معنوں میں مسلمان بن جائیں گے دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ضرب عضب کوئی آسان کھیل نہیں ہے۔ افواج پاکستان جان ہتھیلیوں پر رکھ کر لڑ رہی ہیں۔ یہ دہکتی آگ کے شعلوں میں سے گزرنے کے مترادف ہے۔ ہماری افواج کے افسروں اور جوانوں نے بے شمار اوربے مثال قربانیاں دی ہیں۔ یہ آپریشن سوئی کی نوک پہ کھڑا ہونے کے برابر ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اہل سیاست اور پوری قوم کی دعائیں، نیک تمنائیں اپنی بہادر افواج کے سنگ سنگ ہوں۔سب دلوں کی یہ ایک ہی صدا ہو کہ پاک فوج کو سلام۔ آج ایک بار پھر 1965 ؁ء جیسے جذبے اور ولولے کی ضرورت ہے۔ سیاسی و عسکری قیادت کا مورال تبھی بلند رہے گا جب پوری قوم و وطن کی اُمنگیں‘ احساسات و محبتیں ان کے ساتھ ساتھ رہیں گی۔قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد کے لئے سب کو متحد ہونا ہو گا۔ دہشت گردی پر سیاست برائے سیاست نہیں اتحاد اور قومی یک جہتی کی ضرورت ہے۔

مزید : کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...