اک تماشہ ہے میرے آنگن میں ۔۔۔!!

اک تماشہ ہے میرے آنگن میں ۔۔۔!!
 اک تماشہ ہے میرے آنگن میں ۔۔۔!!

  

وطن عزیز سلامت رہے، حالات یہ ہو گئے ہیں کہ اس کے مکین اب زیادہ لمبا نہیں سوچتے !! ایک دن خیریت سے گزر جائے تو اسے غنیمت سمجھتے ہیں۔ نہ جانے کس کی نظر لگ گئی ہے، کہاں پہ کوتاہی ہو رہی ہے، بدانتظامی کا ذمہ دار کون ہے ؟ نہ سکون ہے، نہ جنون ہے،نہ پکڑ ہے، نہ فرار ہے ۔ انکار اور اقرار میں فرق مٹتا جا رہا ہے ۔ پچھلے دنوں پٹرول کا بحران پیدا ہوا، صورت حال کچھ یوں بنی کہ پٹرول کو اگر آگ لگا دی جائے تو شاید اتنے شعلے نہ بھڑکیں جتنے شعلے پٹرول کے نایاب ہونے سے بھڑک اٹھے۔ دیکھتے ہی دیکھتے پٹرول پمپس کے مالکان اپنے آپ کو تیلی نہیں سنا رسمجھنے لگے۔لاہوریے کھانا پینا بھول گئے ۔جو منظر قوم نے پٹرول پمپس پر دیکھے اور جس طرح لوگ ہاتھوں میں پیسے لئے پھرتے رہے، جس شرمندگی سے خواتین پٹرول کے حصول کے لئے سرگرداں رہیں اور جس طرح ہمارے نوجوان تیل کے لئے ایک دوسرے کے سر پر ڈنڈے برساتے رہے ۔بحیثیت قوم ہمارے لئے کسی خوفناک خواب سے کم نہیں ۔ سُننے میں یہ بھی آیا کہ لوگوں نے جہاں داؤ لگا، گاڑیوں کی ٹینکیاں بھی بھروا لیں اور وافر مقدار میں پٹرول سٹور بھی کر لیا ۔اس طرح ہمارے خوف اور لالچ نے وقتی بحران کو ایک عذاب کی صورت دے دی۔ساری باتیں سوچتے ہیں تو شرمندگی ہوتی ہے ،لیکن ہم شرمندہ نہیں ہوتے ۔شرمندہ ہونے کی ضرورت بھی نہیں ہے کیونکہ قوم مکمل بے حس ہوچکی ہے ۔انہیں صرف پٹرول چاہئے، واسطے ڈال کر یا منہ مانگے پیسے دے کر ،کیونکہ ہمیں اپنی زندگی کا صرف ایک دن گزارنا ہے۔ ہماری خواہش بس اتنی سی رہ گئی ہے کہ بس ایک دن گزر جائے ۔ ایک دن کا ہمارے گھر میں راشن ہو، تو ہمارے پیٹ میں سکون رہتا ہے ۔صبح گھر سے نکلیں اور شام کو خیر خیریت سے گھر پہنچ جائیں تو ہمیں ایک دن زندہ رہنے کا احساس ہو جاتا ہے ۔  شکر ہے۔ پٹرول کا بحران ختم ہوا اور پہیہ سڑک پر چلنے لگا ،لیکن بے چینی ختم نہیں ہوئی ۔لوگ ڈرے ہوئے ہیں ،کیونکہ انہیں یقین ہے کہ اگلے چند دنوں میں کوئی نیا بحران سر پر ہوگا ۔بجلی تو پہلے ہی چار سو چالیس وولٹ کی طرح خطرے کا الارم بجا رہی ہے ۔افواہیں عام ہیں، بجلی کی لوڈ شیڈنگ کی ابھی جو صورت حال ہے وہ تپش کے موسم میں کتنی خطرناک ہوگی ،یہ سوچ کر بھی لوگوں کی نیندیں اڑی ہوئی ہیں ۔بڑے میاں صاحب کو اب جاگ کر رہنا ہے ۔ پٹرول بحران پر بہت سارے معاملات کواگر اوپن نہیں بھی کیا گیا تو میاں صاحب کو اپنے ذہن میں ان کو تازہ رکھنا چاہئے ،کیونکہ اندر ونی کہانی کو وہی جانتے ہیں ۔ ٹھیک ہے آنگن کی باتوں کا تماشہ نہیں لگانا چاہئے، کیونکہ بعض معاملات میں کچھ چھپا لینے میں ہی عافیت ہوتی ہے، لیکن ان کو بھلا دینے میں صرف اور صرف تباہی رہ جاتی ہے ۔

مزید : کالم